جاسمن — فروری 23، 2016 2:38 صبح
خیر آپ کی شاعری کے دھاگوں میں بھی ایک فاتح اور باقی مفتوح ہوتے ہیں۔۔۔۔۔لیکن یہاں اور طرح سے مفتوح ہیں۔یہاں روح ودل اور وہاں ۔۔۔۔
نور وجدان — فروری 23، 2016 3:01 صبح
شاید آپ "اُستُخواں دار پہ، سر زانُوئے دِلدار کے پاس" والی غزل کی بات کر رہے ہیں۔ اس زمین میں غالب نے بھی غزل کہی ہے لیکن میر تقی میر کی غزل بھی موجود ہے اس زمین میں لہٰذا اسے ہم میر سے ہی منسوب کریں گے۔
جاسمن بہنا ! اس غزل کو بھی نکال لیں ۔۔۔۔۔یہ بھی پڑھنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
نور وجدان — فروری 23، 2016 3:02 صبح
نایاب بھائی! آپ کی بنائی ہوئی تصویر سے متاثر ہو کر بلکہ اس سے استفادہ کرتے ہوئے ہم نے بھی اس غزل کو تصویری شکل دی ہے:
یہ کراس کا نشان تصویر کا ظاہر نہیں ہونے دے رہا

زیک — فروری 23، 2016 3:07 صبح
یہ کراس کا نشان تصویر کا ظاہر نہیں ہونے دے رہا
نور وجدان — فروری 23، 2016 3:12 صبح
بہت خوب ! زیک بھائی ۔۔ آپ کی بدولت ہم نے دیکھا کہ فاتح بھائی کی لاجواب ڈیزائنگ اور لاجواب شاعری کے ساتھ ان کی واضح شبیہ بھی ۔۔۔۔
فاتح بھائی کلاسیکی شاعروں والی شکل لیے ہیں آپ
فاتح — فروری 23، 2016 12:20 شام
یہ کراس کا نشان تصویر کا ظاہر نہیں ہونے دے رہا
فیس بک نے تصاویر کے براہ راست روابط استعمال کرنے کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے کچھ طریقے اختیار کیے ہیں جس بنا پر پرانا ربط کام نہیں کر رہا تھا۔
زیک کا شکریہ کہ انھوں نے درست ربط کاپی کر کے لگا دیا۔ میں نے اصل مراسلے میں بھی ربط درست کر دیا ہے۔
فاتح — فروری 23، 2016 12:21 شام
خیر آپ کی شاعری کے دھاگوں میں بھی ایک فاتح اور باقی مفتوح ہوتے ہیں۔۔۔۔۔لیکن یہاں اور طرح سے مفتوح ہیں۔یہاں روح ودل اور وہاں ۔۔۔۔
یہ تو سراسر محبت ہے آپ کی۔
فاتح — فروری 23، 2016 12:22 شام
جاسمن بہنا ! اس غزل کو بھی نکال لیں ۔۔۔۔۔یہ بھی پڑھنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
جاسمن بہنا کی (تصوراتی) اجازت سے
www.urduweb.org/mehfil/threads/48614