یوں تو انکارِ خدا اکثر ہوا

La Alma — فروری 22، 2023 2:43 شام
یوں تو انکارِ خدا اکثر ہوا
عبد سے معبود کب منکر ہوا
ایک انہونی تھی ہونی کی دلیل
غیب ہر امکان کا محضر ہوا
کب بدلتا ہے مقدر کا لکھا
جو نہ ہونا تھا وہی آخر ہوا
دل رہینِ کیف تھا پہلے پہل
رفتہ رفتہ درد کا خوگر ہوا
اُس بیاں میں کچھ عجب تاثیر تھی
بھولنا تھا جو سبق ازبر ہوا
طاقِ جاں میں شمعِ غم جلتی رہی
پیکرِ خاکی تھا، خاکستر ہوا
رک گئی جب نبض اُس بیمار کی
دستِ چارہ ساز بھی پتھر ہوا
خواب پیہم چاک پر ڈھلنے لگے
اک حسیں احساس کوزہ گر ہوا
رہنما کس کو کریں اس دور میں
جو بھی بھٹکا راہ سے، رہبر ہوا
پھر نہ ابھرا تھا وہ منظر ڈوب کر
دیدۂ تر بھی ہمیں ساگر ہوا
معجزہ المٰیؔ اسی کا نام ہے
جانتا کوئی نہیں کیونکر ہوا​
ایس ایس ساگر — فروری 22، 2023 6:51 شام
یوں تو انکارِ خدا اکثر ہوا
عبد سے معبود کب منکر ہوا
ایک انہونی تھی ہونی کی دلیل
غیب ہر امکان کا محضر ہوا
کب بدلتا ہے مقدر کا لکھا
جو نہ ہونا تھا وہی آخر ہوا
دل رہینِ کیف تھا پہلے پہل
رفتہ رفتہ درد کا خوگر ہوا
اُس بیاں میں کچھ عجب تاثیر تھی
بھولنا تھا جو سبق ازبر ہوا
طاقِ جاں میں شمعِ غم جلتی رہی
پیکرِ خاکی تھا، خاکستر ہوا
رک گئی جب نبض اُس بیمار کی
دستِ چارہ ساز بھی پتھر ہوا
خواب پیہم چاک پر ڈھلنے لگے
اک حسیں احساس کوزہ گر ہوا
رہنما کس کو کریں اس دور میں
جو بھی بھٹکا راہ سے، رہبر ہوا
پھر نہ ابھرا تھا وہ منظر ڈوب کر
دیدۂ تر بھی ہمیں ساگر ہوا
معجزہ المٰیؔ اسی کا نام ہے
جانتا کوئی نہیں کیونکر ہوا
بہت اعلٰی ۔لاجواب۔
بہت سی داد قبول کیجیے۔
سلامت رہیئے۔آمین۔
ظہیراحمدظہیر — فروری 22، 2023 10:00 شام
واہ! بہت خوب ، اچھی غزل ہے ۔ کئی اچھے اشعار ہیں ، لاالمیٰ!
آخِر کا قافیہ ٹھیک نہیں لگا۔ آخَر کا یہاں محل نہیں ۔ اسے دیکھ لیجیے۔
سید عاطف علی — فروری 23، 2023 5:55 صبح
آخِر کا قافیہ ٹھیک نہیں لگا۔ آخَر کا یہاں محل نہیں ۔ اسے دیکھ لیجیے۔
اسی طرح منکَر (ممنوعہ) بھی ہے ۔جو یہاں منکِر (انکاری) کے معنی میں لیا گیا ہے ۔
La Alma — فروری 23، 2023 4:53 شام
بہت اعلٰی ۔لاجواب۔
بہت سی داد قبول کیجیے۔
سلامت رہیئے۔آمین۔
شکر گزار ہوں۔
بہت خوش رہیے۔
La Alma — فروری 23، 2023 4:56 شام
واہ! بہت خوب ، اچھی غزل ہے ۔ کئی اچھے اشعار ہیں ، لاالمیٰ!
آخِر کا قافیہ ٹھیک نہیں لگا۔ آخَر کا یہاں محل نہیں ۔ اسے دیکھ لیجیے۔
اسی طرح منکَر (ممنوعہ) بھی ہے ۔جو یہاں منکِر (انکاری) کے معنی میں لیا گیا ہے ۔
نشاندہی کا بہت شکریہ۔
اصل میں کسی لفظ کے ساکن اور متحرک حروف کی صحیح ادائیگی کا تو زیادہ تر التزام کیا ہی جاتا ہے تاکہ بحر اور اوزان درست رہیں۔ لیکن زیر زبر کی اغلاط سے اکثر صرفِ نظر ہو جاتا ہے۔
کچھ مثالیں تو شاید مستند شعراء کے ہاں بھی مل جائیں۔ جیسے کہ غالب کی ذیل کی غزل میں لفظ کافر میں ف حرفِ مکسور ہے۔ یا پھر یہ فتحہ کے ساتھ بھی مستعمل ہے۔ واللہ اعلم
‎کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جاے دل
‎انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
‎یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے
‎لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں
‎حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے
‎آخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں
بہرحال سقم تو سقم ہے۔ مطلع میں خیال بچتا تھا یا قافیہ، اس لیے قدرے مختلف مضمون کے ساتھ قافیہ بدل دیا ہے۔
عبد کا معبود ہی محور ہوا
یوں تو انکارِ خدا اکثر ہوا
“ آخر “ قافیے والے شعر کو حذف سمجھا جائے۔
سیما علی — فروری 23، 2023 5:11 شام
رہنما کس کو کریں اس دور میں
جو بھی بھٹکا راہ سے، رہبر ہوا
پھر نہ ابھرا تھا وہ منظر ڈوب کر
دیدۂ تر بھی ہمیں ساگر ہوا
بہت خوب ۔
داد و تحسین قبول کیجیے
بہت ساری دعائیں ۔🥰
محمد عدنان اکبری نقیبی — فروری 23، 2023 5:32 شام
زبردست غزل
ظہیراحمدظہیر — فروری 23، 2023 8:17 شام
کچھ مثالیں تو شاید مستند شعراء کے ہاں بھی مل جائیں۔ جیسے کہ غالب کی ذیل کی غزل میں لفظ کافر میں ف حرفِ مکسور ہے۔ یا پھر یہ فتحہ کے ساتھ بھی مستعمل ہے۔ واللہ اعلم
کافر کا لفظ اردو میں دونوں تلفظات کے ساتھ مستعمل ہے ۔ یعنی فائے مکسور اور مفتوح دونوں تلفظ درست ہیں ۔ غالب نے فائے مفتوح کا تلفظ استعمال کیا ہے ۔
لیکن اس مثال کو دیگر الفاظ پر لاگونہیں کیا جاسکتا۔ اعتبار چلن اور استعمال کا ہے ۔ جو لفظ اردو میں جس طرح مستعمل ہے اسی طرح برتا جائے گا۔
عرفان علوی — فروری 25، 2023 6:33 شام
یوں تو انکارِ خدا اکثر ہوا
عبد سے معبود کب منکر ہوا
ایک انہونی تھی ہونی کی دلیل
غیب ہر امکان کا محضر ہوا
کب بدلتا ہے مقدر کا لکھا
جو نہ ہونا تھا وہی آخر ہوا
دل رہینِ کیف تھا پہلے پہل
رفتہ رفتہ درد کا خوگر ہوا
اُس بیاں میں کچھ عجب تاثیر تھی
بھولنا تھا جو سبق ازبر ہوا
طاقِ جاں میں شمعِ غم جلتی رہی
پیکرِ خاکی تھا، خاکستر ہوا
رک گئی جب نبض اُس بیمار کی
دستِ چارہ ساز بھی پتھر ہوا
خواب پیہم چاک پر ڈھلنے لگے
اک حسیں احساس کوزہ گر ہوا
رہنما کس کو کریں اس دور میں
جو بھی بھٹکا راہ سے، رہبر ہوا
پھر نہ ابھرا تھا وہ منظر ڈوب کر
دیدۂ تر بھی ہمیں ساگر ہوا
معجزہ المٰیؔ اسی کا نام ہے
جانتا کوئی نہیں کیونکر ہوا​
عمدہ غزل ہے لا المیٰ صاحبہ ! داد حاضر ہے .
محمداحمد — فروری 26، 2023 8:02 صبح
خوبصورت غزل ہے۔
کئی اشعار لاجواب ہیں۔
ڈھیروں داد قبول کیجئے ۔
La Alma — مارچ 4، 2023 3:51 شام
عمدہ غزل ہے لا المیٰ صاحبہ ! داد حاضر ہے .
سپاس گزار ہوں۔
La Alma — مارچ 4، 2023 3:51 شام
خوبصورت غزل ہے۔
کئی اشعار لاجواب ہیں۔
ڈھیروں داد قبول کیجئے ۔
تشکر بسیار
La Alma — مارچ 4، 2023 3:53 شام
بہت شکریہ
La Alma — مارچ 4، 2023 3:54 شام
بہت خوب ۔
داد و تحسین قبول کیجیے
بہت ساری دعائیں ۔🥰
بہت نوازش۔
خوش رہیے۔
جاسمن — مئی 8، 2023 4:11 صبح
خوبصورت غزل ہے۔
بہت سی داد۔
اُس بیاں میں کچھ عجب تاثیر تھی
بھولنا تھا جو سبق ازبر ہوا

خواب پیہم چاک پر ڈھلنے لگے
اک حسیں احساس کوزہ گر ہوا

رہنما کس کو کریں اس دور میں
جو بھی بھٹکا راہ سے، رہبر ہوا
یہ اشعار خاص کر زیادہ پسند آئے ۔:):):)
لاريب اخلاص — مئی 8، 2023 6:00 شام
بہت خوب!
لاريب اخلاص — مئی 8، 2023 6:02 شام
مزرا غالب کو بہت کم پڑھتی ہوں کیوں کہ ان کی شاعری میں مشکل الفاظ سر کے اوپر سے گزر جاتے :)
(آپ کی شاعری میں بھی مشکل الفاظ پائے جاتے ہیں)
La Alma — مئی 11، 2023 6:38 صبح
خوبصورت غزل ہے۔
بہت سی داد۔
یہ اشعار خاص کر زیادہ پسند آئے ۔:):):)
پسندیدگی کے لیے مشکور ہوں۔
بہت نوازش۔
La Alma — مئی 11، 2023 6:39 صبح
بہت شکریہ۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D8%AA%D9%88-%D8%A7%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%90-%D8%AE%D8%AF%D8%A7-%D8%A7%DA%A9%D8%AB%D8%B1-%DB%81%D9%88%D8%A7.119310/