یہ معجزہ بھی کسی روز۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ آصف شفیع

آصف شفیع — نومبر 22، 2008 8:49 صبح
ایک اور غزل اہلِ محفل کی خدمت میں۔ آج کل محفل میں اداسی ہے۔ نہ جانے کیوں؟
غزل:
یہ معجزہ بھی کسی روز کر ہی جانا ہے
ترے خیال سے اک دن گذر ہی جانا ہے
نہ جانےکس لیے لمحوں کا بوجھ ڈھوتے ہیں
یہ جانتے ہیں کہ اک دن تو مر ہی جانا ہے
بہت حسین ہے تو بھی اے پھول سی خواہش!
ہوا کے ساتھ تجھے بھی بکھر ہی جانا ہے
وہ کہ رہا تھا نبھائے گا پیار کی رسمیں
میں جانتا تھا کہ اس نے مکر ہی جانا ہے
ہوائے شام! کہاں لے چلی زمانے کو
ذرا ٹھہر، کہ ہمیں بھی اُدھر ہی جانا ہے
میں خواب دیکھتا ہوں اور شعر کہتا ہوں
ہنر وروں نے اسے بھی ہنر ہی جانا ہے

( از: کوئی پھول دل میں کھلا نہیں)
arifkarim — نومبر 22، 2008 8:55 صبح
بہت خوب۔۔۔ سرد موسم ہے اسلئے اداسی محسوس ہو رہی ہے۔
مغزل — نومبر 22، 2008 8:56 صبح
رسید حاضر ۔۔۔۔۔ (یعنی پلاٹ پر قبضہ )
گفت بعد از کھابہ شریف
آصف شفیع — نومبر 22، 2008 8:58 صبح
رسید حاضر ۔۔۔۔۔ (یعنی پلاٹ پر قبضہ )
گفت بعد از کھابہ شریف

یعنی اول طعام بعد کلام؟
رسید کا شکریہ
آصف شفیع — نومبر 22، 2008 9:07 صبح
بہت خوب۔۔۔ سرد موسم ہے اسلئے اداسی محسوس ہو رہی ہے۔

سردی میں تو محفلیں خوب جمتی ہیں۔
محمد وارث — نومبر 23، 2008 12:17 شام
بہت خوبصورت غزل ہے آپ کی آصف صاحب، لا جواب۔
شکریہ شیئر کرنے کیلیئے برادرم!
ناہید — نومبر 24، 2008 1:16 صبح
آصف، بہت عمدہ غزل ہے۔
اداسی صرف اس محفل میں نہیں‌ہے بلکہ ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے۔ جانے ایسا کیوں ہے۔
آصف شفیع — نومبر 24، 2008 8:44 صبح
آصف، بہت عمدہ غزل ہے۔
اداسی صرف اس محفل میں نہیں‌ہے بلکہ ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے۔ جانے ایسا کیوں ہے۔

ناہید! داد کیلیے شکریہ۔اداسی کیوں ہے؟ اس کا سبب ہم سب کو تلاش کرنا ہے۔ اور آپ کا تو موڈ بھی آج کل خوابیدہ ہے جو ظاہر کر رہا ہے کہ واقعی اداسی ہے۔ لیکن ہمیں اپنے چاروں طرف پھیلی اسی اداسی کو خوشگوار موسم میں بدلنا ہے۔
اپنا ایک شعر یاد آیا۔
اداسی میں محبت کے ترانے ڈھونڈ لیتے ہیں
خزاں بھی ہو تو ہم موسم سہانے ڈھونڈ لیتےہیں
الف عین — نومبر 24، 2008 2:41 شام
غزل اچھی ہے پسند آئی۔ لیکن ایک شعر غیر پنجابیوں یا پاکستانیوں کو سمجھنے میں دقت ہو سکتی ہے۔ بوجھئے کون سا؟
ابن سعید — نومبر 24، 2008 2:47 شام
چاچو شاید یہ والا
میں جانتا تھا کہ اس نے مکر ہی جانا ہے
ش زاد — نومبر 24، 2008 9:37 شام
آصف صاحب اچھی غزل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوش رہیں یوں ہی شعر کہتے رہیں
آمین
ماوراء — نومبر 25، 2008 1:43 صبح
نہ جانےکس لیے لمحوں کا بوجھ ڈھوتے ہیں
یہ جانتے ہیں کہ اک دن تو مر ہی جانا ہے
بہت حسین ہے تو بھی اے پھول سی خواہش!
ہوا کے ساتھ تجھے بھی بکھر ہی جانا ہے
بہت خوبصورت۔
آصف شفیع — نومبر 25، 2008 6:50 شام
آصف صاحب اچھی غزل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوش رہیں یوں ہی شعر کہتے رہیں
آمین

بہت شکریہ آپ کا۔بہت مہر بانی۔
آصف شفیع — نومبر 25، 2008 6:52 شام
نہ جانےکس لیے لمحوں کا بوجھ ڈھوتے ہیں
یہ جانتے ہیں کہ اک دن تو مر ہی جانا ہے
بہت حسین ہے تو بھی اے پھول سی خواہش!
ہوا کے ساتھ تجھے بھی بکھر ہی جانا ہے
بہت خوبصورت۔

اشعار کی پسندیدگی کا شکریہ۔
آصف شفیع — نومبر 25، 2008 6:58 شام
غزل اچھی ہے پسند آئی۔ لیکن ایک شعر غیر پنجابیوں یا پاکستانیوں کو سمجھنے میں دقت ہو سکتی ہے۔ بوجھئے کون سا؟

شاید وہی جس کا ابن سعید نے ذکر کیا ہے۔غزل کی پسندیدگی کا شکریہ۔ اب آپ کی صحت کیسی ہے؟ ہم سب آپ کی صحت یابی کیلیے دعا گو ہیں۔
محمد وارث — نومبر 26، 2008 6:23 صبح
آصف صاحب میں نے کسی زمانے میں مہدی حسن کی آواز میں مشہور شاعر عالمتاب تشنہ کی ایک غزل سنی تھی جسکا مطلع ہے:
وہ کہ ہر عہدِ محبت سے مُکرتا جائے
دل وہ ظالم کہ اسی شخص پہ مرتا جائے
کیا کوئی دوست کنفرم کر سکتا ہے کہ یہ مطلع ایسے ہی ہے، اگر ایسے ہی ہے تو پھر قطعاً کوئی مضائقہ نہیں ہے اس لفظ کے استعمال پر!
آصف شفیع — نومبر 26، 2008 7:38 صبح
آصف صاحب میں نے کسی زمانے میں مہدی حسن کی آواز میں مشہور شاعر عالمتاب تشنہ کی ایک غزل سنی تھی جسکا مطلع ہے:
وہ کہ ہر عہدِ محبت سے مُکرتا جائے
دل وہ ظالم کہ اسی شخص پہ مرتا جائے
کیا کوئی دوست کنفرم کر سکتا ہے کہ یہ مطلع ایسے ہی ہے، اگر ایسے ہی ہے تو پھر قطعاً کوئی مضائقہ نہیں ہے اس لفظ کے استعمال پر!

جی، شعر تو ایسےہی ہے۔ لفظ کے استعمال میں مضائقہ بھی نہیں۔ مزے کی بات یہ بھی ہے کہ اسی شعر پر مشاعروں میں داد ملتی ہے۔ ہمارے ہاں تو اس لفظ کا استعمال عام ہے۔
ش زاد — نومبر 28، 2008 4:33 صبح
وارث صاحب، آصف صاحب
اردو کا دامن بہت وسیع ہے اور اب ہمیں اپنے دل و دماغ کو کشادہ کر لینا چاہیئے ۔۔۔۔۔۔یھاں لوگ انگلش کے الفاظ کو اردو میں گوندھنے""شامل کرنے کی"" کی کوشش کر رہے ہیں تو ہم ھماری علاقائی ذبانوں کے الفاظوں کو اردو میں شامل کرنے سے کیوں کتراتے ہیں ۔۔۔۔۔یقین جانیئے اگر ہم نے اردو کے لیے اپنے رویوں کو تبدیل نا کیا تو ہماری نسلوں کو بے شناخت انگلش زدہ اردو کا زہر پینا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔جو کہ یقیناً آپ کو بھی قبول نہیں ہوگا اور مجھے بھی قبول نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکریہ۔۔۔۔۔۔:hatoff:
آصف شفیع — نومبر 29، 2008 12:33 شام
وارث صاحب، آصف صاحب
اردو کا دامن بہت وسیع ہے اور اب ہمیں اپنے دل و دماغ کو کشادہ کر لینا چاہیئے ۔۔۔۔۔۔یھاں لوگ انگلش کے الفاظ کو اردو میں گوندھنے""شامل کرنے کی"" کی کوشش کر رہے ہیں تو ہم ھماری علاقائی ذبانوں کے الفاظوں کو اردو میں شامل کرنے سے کیوں کتراتے ہیں ۔۔۔۔۔یقین جانیئے اگر ہم نے اردو کے لیے اپنے رویوں کو تبدیل نا کیا تو ہماری نسلوں کو بے شناخت انگلش زدہ اردو کا زہر پینا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔جو کہ یقیناً آپ کو بھی قبول نہیں ہوگا اور مجھے بھی قبول نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکریہ۔۔۔۔۔۔:hatoff:

جی شکریہ۔ آپ نے بالکل بجا فرمایا۔ لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ روایت سے انحراف ایک حد تک تو مناسب ہے لیکن اتنا بھی نہ ہو کہ انسان کی جمالیاتی حس مجروح ہو رہی ہو۔ دیکھیں اگر انگلش کے الفاظ ہمارے روز مرہ میں داخل ہو رہے ہیں تو یہ تو انگریزی زبان کی مقبولیت کا ثبوت ہے اس میں کوئی چاہنے کے با وجود بھی کچھ نہیں کر سکتا۔میں اس سلسلے میں ، بس اس نظریے پر یقین رکھتا ہوں کہ۔
"جس دیے میں جان ہوگی، وہ دیا رہ جائے گا"
جیا راؤ — نومبر 29، 2008 8:19 شام
بہت حسین ہے تو بھی اے پھول سی خواہش!
ہوا کے ساتھ تجھے بھی بکھر ہی جانا ہے
وہ کہ رہا تھا نبھائے گا پیار کی رسمیں
میں جانتا تھا کہ اس نے مکر ہی جانا ہے
واہ۔۔۔ بہت خوبصورت جناب !!:):)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%8C%DB%81-%D9%85%D8%B9%D8%AC%D8%B2%DB%81-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DA%A9%D8%B3%DB%8C-%D8%B1%D9%88%D8%B2%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%DB%94-%D8%A2%D8%B5%D9%81-%D8%B4%D9%81%DB%8C%D8%B9.16793/