یہ کہہ رہے ہیں وہ کالک اُچھالنے والے

ظہیراحمدظہیر — ستمبر 20، 2016 4:07 صبح

غزل
یہ کہہ رہے ہیں وہ کالک اُچھالنے والے
ہمی ہیں شہر کی رونق اُجا لنے وا لے
۔ ق ۔
منافقت کی عفونت بھی ساتھ لائے ہیں
گلے میں ہار گلابوں کا ڈالنے والے
دہن میں لقمۂ شیریں بھی رکھتے جاتے ہیں
مرے وجود میں لاوا اُبا لنے وا لے
۔
ہجوم چنتا ہے ساحل پہ سیپیوں سے گہر
نظر سے گم ہیں سمندر کھنگا لنے وا لے
کہاں گئے وہ شناور اندھیری جھیلوں کے
وہ ڈوبے چاند کو باہر نکا لنے وا لے
نہیں ڈھلیں گے کبھی سیم وزر کے سانچوں میں
تمہاری یاد کو شعروں میں ڈھالنے وا لے
ظہیر احمد ظہیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگست ۲۰۰۲​
محمد وارث — ستمبر 20، 2016 4:10 صبح
لاجواب۔ کیا خوبصورت غزل ہے ظہیر صاحب محترم، بہت داد قبول کیجیے۔
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 20، 2016 4:20 صبح
لاجواب۔ کیا خوبصورت غزل ہے ظہیر صاحب محترم، بہت داد قبول کیجیے۔

بہت شکریہ وارث صاحب ! آپ کی طرف سے عزت افزائی میرے لئے باعثِ افتخار ہے !! اللہ تعالٰی آپ کو سلامت رکھے!!
محمد تابش صدیقی — ستمبر 20، 2016 4:28 صبح
سبحان اللہ ظہیر بھائی. لاجواب غزل ہے.
کس خوبی سے منافقت عیاں کی ہے.
یہ کہہ رہے ہیں وہ کالک اُچھالنے والے
ہمی ہیں شہر کی رونق اُجا لنے وا لے
۔ ق ۔
منافقت کی عفونت بھی ساتھ لائے ہیں
گلے میں ہار گلابوں کا ڈالنے والے
دہن میں لقمۂ شیریں بھی رکھتے جاتے ہیں
مرے وجود میں لاوا اُبا لنے وا لے

کیا خوب استعارہ لیا ہے.
ہجوم چنتا ہے ساحل پہ سیپیوں سے گہر
نظر سے گم ہیں سمندر کھنگا لنے وا لے

کہاں گئے وہ شناور اندھیری جھیلوں کے
وہ ڈوبے چاند کو باہر نکا لنے وا لے

کیا کہنے. بہت عمدہ
جاسمن — ستمبر 20، 2016 6:49 صبح
بہت خوب!
عارضی کے — ستمبر 20، 2016 6:50 صبح
یہ ”ق“ سے کیا مراد ہے؟
محمد تابش صدیقی — ستمبر 20، 2016 6:54 صبح
یہ ”ق“ سے کیا مراد ہے؟
قطعہ
جب ایک موضوع ایک سے زیادہ اشعار میں مکمل کیا جائے تو اس کو قطع کہہ دیا جاتا ہے.
ق سے قاری کو معلوم ہو جاتا ہے کہ آگے اشعار مل کر مفہوم مکمل کر رہے ہیں. نیچے ڈیش سے قطع کا اختتام ہے.
عارضی کے — ستمبر 20، 2016 7:01 صبح
قطعہ
جب ایک موضوع ایک سے زیادہ اشعار میں مکمل کیا جائے تو اس کو قطع کہہ دیا جاتا ہے.
ق سے قاری کو معلوم ہو جاتا ہے کہ آگے اشعار مل کر مفہوم مکمل کر رہے ہیں. نیچے ڈیش سے قطع کا اختتام ہے.
ہمم - یعنی اس قطعہ میں منافقت کا ذکر ہے! واہ کیا خوب سمجھایا۔
محمد تابش صدیقی — ستمبر 20، 2016 7:05 صبح
ہمم - یعنی اس قطعہ میں منافقت کا ذکر ہے! واہ کیا خوب سمجھایا۔
چونکہ غزل کا ہر شعر اپنے مفہوم میں مکمل ہوتا ہے. تو استثنائی کیفیت کی وضاحت کا طریقہ ہے یہ. :)
محمداحمد — ستمبر 20، 2016 7:11 صبح
یہ کہہ رہے ہیں وہ کالک اُچھالنے والے
ہمی ہیں شہر کی رونق اُجا لنے وا لے

خوبصورت مطلع!
قران کی آیت یاد آگئی کہ: مفہوم "جب اُن سے کہا جاتا کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو دراصل اصلاح کرنے والے ہیں"۔
۔ ق ۔
منافقت کی عفونت بھی ساتھ لائے ہیں
گلے میں ہار گلابوں کا ڈالنے والے
دہن میں لقمۂ شیریں بھی رکھتے جاتے ہیں
مرے وجود میں لاوا اُبا لنے وا لے

کیا کہنے!
ہجوم چنتا ہے ساحل پہ سیپیوں سے گہر
نظر سے گم ہیں سمندر کھنگا لنے وا لے

واقعی !
اصلی غواص تو نظروں میں ہی نہیں آتے۔
کہاں گئے وہ شناور اندھیری جھیلوں کے
وہ ڈوبے چاند کو باہر نکا لنے وا لے

خوبصورت شعر!
نہیں ڈھلیں گے کبھی سیم وزر کے سانچوں میں
تمہاری یاد کو شعروں میں ڈھالنے وا لے

کیا کہنے!
بلاشبہ ! سیم و زر میں ڈھلنے والے ایسے نفیس احساسات کہاں سنبھال پاتے ہیں۔
بہت خوب غزل! بہت سی داد اس خاکسار کی جانب سے!
سچی بات تو یہ ہے کہ اس محفل پر نہ تو وہ ریٹنگ ہے کہ میں آپ کی غزل کو ریٹ کر سکوں اور نہ میرے پاس آپ کے کلام کو سراہنے کے لئے الفاظ!
ماشاءاللہ۔
اللہ شاد آباد رکھے آپ کو۔
سید ذیشان — ستمبر 20، 2016 7:16 صبح
بہت عمدہ!
نایاب — ستمبر 20، 2016 8:51 صبح
بہت اعلی
بہت سی دعاؤں بھری داد
ڈھیروں دعائیں ؟؟
الف عین — ستمبر 20، 2016 10:15 صبح
بہت عمدہ۔عزیزی راحیل فاروق کی زمین ہو گئی یہ تو!! شاید یہی قدیم تر ہو۔
محمد تابش صدیقی — ستمبر 20، 2016 10:20 صبح
بہت عمدہ۔عزیزی راحیل فاروق کی زمین ہو گئی یہ تو!! شاید یہی قدیم تر ہو۔
یہ قدیم تر ہے۔ وہ غزل 2007 کی ہے۔
اور زمین میں "ل" اور "ن" کا فرق ہے۔ :)
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 21، 2016 4:52 شام
سبحان اللہ ظہیر بھائی. لاجواب غزل ہے.
کس خوبی سے منافقت عیاں کی ہے.
کیا خوب استعارہ لیا ہے.
کیا کہنے. بہت عمدہ

تابش بھائی آپ کی محبت ہے !! زیرِ بارِ سپاس ہوں !! اللہ آپ کو خوش رکھے ! آپ جیسے بلند ذوق احباب سے قبولیت ملنا باعثِ انبساط ہوتا ہے ۔ سلامت رہیں !
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 21، 2016 4:55 شام
نوازش !! ممنون ہوں خواہرِ محترم !! اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ اپنے رنگ میں رکھے !
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 21، 2016 5:03 شام
خوبصورت مطلع!
بہت خوب غزل! بہت سی داد اس خاکسار کی جانب سے!
سچی بات تو یہ ہے کہ اس محفل پر نہ تو وہ ریٹنگ ہے کہ میں آپ کی غزل کو ریٹ کر سکوں اور نہ میرے پاس آپ کے کلام کو سراہنے کے لئے الفاظ!
احمد بھائی یہ صرف آپ کی محبت اور وسعتِ قلب ہے!! میرے پاس شکریے کے لئے الفاظ نہیں ۔ صرف بے پایاں احساسِ تشکر ہے !
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 21، 2016 5:05 شام

بہت بہت شکریہ ذیشان صاحب! بہت خوشی ہے کہ غزل آپ کو پسند آئی ! اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے !
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 21، 2016 5:07 شام
بہت اعلی
بہت سی دعاؤں بھری داد
ڈھیروں دعائیں ؟؟

بہت بہت شکریہ نایاب بھائی ! بہت ممنون ہوں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو شادآباد رکھے! آمین ۔
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 21، 2016 5:10 شام
بہت عمدہ۔عزیزی راحیل فاروق کی زمین ہو گئی یہ تو!! شاید یہی قدیم تر ہو۔

بہت شکریہ اعجاز بھائی ! آپ کو پسند آئی تو سمجھئے کہ محنت وصول ہوئی !
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%8C%DB%81-%DA%A9%DB%81%DB%81-%D8%B1%DB%81%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%88%DB%81-%DA%A9%D8%A7%D9%84%DA%A9-%D8%A7%D9%8F%DA%86%DA%BE%D8%A7%D9%84%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92.92004/