’’خواب سفر‘‘ میری پہلی نظم آپ کی ادبی بصارتوں کی نذر

مغزل — مارچ 10، 2008 1:13 شام
محترم احباب
آداب و سلام ِ مسنون
میں آج تک صرف عروسِ غزل کی زلفوں سے کھیلتا رہا، موصوفہ کبھی ناراض ہوجاتی ہیں تو کبھی ملتفت، خیر۔۔ کلپنا دیوی پچھلے کئی دنوں سے مفقود الخبر تھیں اسی فرقت میں ایک نظم سرزد ہوگئی، جسے آپ کی اعلیٰ ادبی بصارتوں کی نذر کررہا ہوں، اس امید کہ ساتھ کہ آپ احباب اپنی گراں قدر رائے سے سرفراز فرمائیںگے۔
منتظر: محمد محمود مغل (م۔م۔مغل )
’’ خوا ب سفر‘‘
میں کسی گود میں محوِ خوابیدگی
جانے کب تک رہا
دفعتاً اک صدا
العطش العطش، الاماں الاماں
میری نیندوں کے خیمے اڑا لے گئی
و ہ صدا جیسے نقّارے کی چوب تھی
میں نے آنکھیں ملیں
دھند چھٹنے لگی
چار جانب سفر ، ابتدا، ابتلا
گردنوں کو جھکائے کھڑے با ادب
میری جانب کنکھیوں سے دیکھا کیے
ابتلا مجھ سے آکر ملی اور میں
ابتدا سے ملا ،پھر سفر سے ملا
حکم سا کچھ ہُوا،اب چلو !
میں نے پوچھا، کہاں؟
زادِ راہ ساتھ لوں؟
حکم صادر ہو ا ،بس چلو!
خیر میں چل پڑا
کچھ قدم ہی چلا تھا کہ اک آئینہ
راہ میں مل گیا
تھا شباہت گزیدہ ، تحیّر فروش
ایک بے چہرگی کے سفر میں مگن
ہم قدم ہوگیا
راستے میں کئی مقبرے بھی ملے
نارسائی کسی روح کے بھیس میں
بے یقینی، گماں بھی ملے راہ میں
میں ، کہ چلتا رہا۔ وہ بھی چلتے رہے
پھول ، قوسِ قزح،تتلیاں بھی ملیں
ایک ظلمت کدہ بھی سرِ رہ ملا
میرے قدموں پہ سر رکھ کے رونے لگا
اس سے پہلے کہ میں اس سے کچھ پوچھتا
مجھ سے کہنے لگا ،مجھ کو بھی لے چلو
خیر! ہم چل پڑے اور چلتے رہے
تین ہمجولیاں ایک برگد کی ڈالی پہ پینگیں بڑھاتی ملیں
کچھ شکستہ حروف اور لہجے ملے
پارسائی ، تعرض ، وفا ، تمکنت
رتجگے، نیم خوابی، فغاںدر فغاں
اک ادھوری خوشی ،وصل بھی ، ہجر بھی
ایک سونی کلائی ، حنا بھی ملی
دسترس بھی ملی اور اماں بھی ملی
ایک سہما ہوا لمس بھی مل گیا
بھوک ، غربت کی اٹھکیلیاں بھی ملیں
راستے میں مجھے ریگزار ِجنوں بھی ملا
ایک دمساز اور اک خرد آشنا
فہم و دانش ملے اور پندار بھی
چاکِ دامن کا موسم،رفو کے ببول
اک چمن بھی ملا ، باغباں بھی ملا
راہبر ، راہزن، نقدِ جاں اور نشاط
سیم و زر بھی ملے ، بے دلی سے ملے
ساتھ دینے کو بس ساتھ چلتے رہے
میں بھی چلتا رہا
دفعتاً ایک جانب سے آئی صدا
زندگی آگئی زندگی آگئی
زندگی کیا تھی جیسے ہو کوئی دلہن
جیسے رنگین موسم کی کوئی پھبن
جانے کیوں میرے سینے میں اٹھی چبھن
میری قسمت میںچلنا لکھا تھا میں چلتا رہا
دن ڈھلا رات کروٹ بدلنے لگی
سب تھکے ہارے ، پژمردہ چہروں کے ساتھ
اپنی اپنی تھکن اوڑھے چلتے رہے
میں بھی چلتا رہا
چاند بدلی کی چلمن میں تاروں کے ساتھ
رات بھر منہمک گفتگو میں رہا
میں بھی سرگوشیاں ان کی سنتا رہا
رات ڈھلنے لگی،’’ہم‘‘ بھی تھکنے لگے
تارے سونے لگے
ایک تارہ میرا ہمسفر رہ گیا
دور افق سے کوئی آ رہا تھا ادھر (وہ کدھر رہ گیا)
اک کرن اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے
میں بھی جلدی سے آگے بڑھا اس طرف
اس طرف روشنی تھی ۔۔ مگر روشنی
صرف خوش خواب آنکھوں کی زینت بنی
(م۔م۔مغل)
چاند بابو — مارچ 10، 2008 1:41 شام
بہت خوب م۔م۔مغل گو کہ میرا شاعری سے تعلق صرف سننے کی حد تک ہے پھر بھی آپ کی نظم مجھے تو بہت پسند آئی باقی لوگوں کی کیا رائے ہے یہ ان کو پتہ ہو گا۔خیر اپنی پہلی نظم پر میری طرف سے مبارک باد قبول فرمائیں۔
فرخ منظور — مارچ 10، 2008 2:34 شام
اچھی نظم ہے مغل صاحب - بہت شکریہ پوسٹ کرنے کے لیے-
دوست — مارچ 10، 2008 3:51 شام
اچھی نظم ہے۔
الف عین — مارچ 10، 2008 5:18 شام
اچھی ہے نظم مغل۔ لکھتے رہیں۔
شمشاد — مارچ 10، 2008 6:38 شام
بہت خوب مغل صاحب۔ اسی بہانے آپ محفل میں واپس تو آئے۔
جیا راؤ — مارچ 11، 2008 11:28 صبح
السلام علیکم
واہ جناب۔ بہت ہی خوبصورت کاوش ہے۔
ڈھیروں داد قبول کیجئے۔
زھرا علوی — مارچ 11، 2008 2:03 شام
بہت بہت بہت خوب۔۔۔۔۔
ہر لحاظ سے مکمل نظم ہے
جیتے رھیے۔۔۔۔۔
محمد نعمان — مارچ 12، 2008 3:00 شام
واہ بھئی م۔م۔مغل صاحب۔۔۔۔۔۔
اتنی طویل غزل
واہ۔۔۔داد ہی داد قبول فرمائیے
محمد نعمان — مارچ 12، 2008 3:03 شام
واہ بھئی م۔م۔مغل صاحب۔۔۔۔۔۔
اتنی طویل غزل
واہ۔۔۔داد ہی داد قبول فرمائیے

معاف کیجے گا اوپر نظم کی جگہ غزل لکھ گیا۔۔۔
شمشاد — مارچ 12، 2008 4:07 شام
تو "قطع و برید" کا بیڑا دبا کر اس کو مدون کر لیتے۔
مغزل — اپریل 1، 2008 6:44 صبح
لائقِ صد احترام محبّین
ابن سعید, الف عین, جیا راؤ, زھرا علوی, شمشاد, فاتح, محمد وارث, چاند بابو, یونس رضا
شکریہ کیلیے صمیم ِ قلب سے ممنون و متشکر ہوں۔
نیاز مند
م۔م۔مغل
مغزل — اپریل 1، 2008 6:54 صبح
بہت خوب م۔م۔مغل گو کہ میرا شاعری سے تعلق صرف سننے کی حد تک ہے پھر بھی آپ کی نظم مجھے تو بہت پسند آئی باقی لوگوں کی کیا رائے ہے یہ ان کو پتہ ہو گا۔خیر اپنی پہلی نظم پر میری طرف سے مبارک باد قبول فرمائیں۔

پیارے صاحب " چاند بابو"
جناب۔۔ جناب۔
تآخیر کی معذرت ۔۔ کہ میں کئی دنوں بعد اس دھاگے میں آیا دراصل میری اہلیہ کی طبیعت ناساز رہی ۔۔۔
اسی دوران مالکِ ارض و سماء نے مجھے ایک ننھی مُنّی سی گڑیا سی بیٹی عطا کی ۔۔ مورخہ 23مارچ بمطابق 14ربیع الاول۔۔
(جیا (سوات) صاحبہ کو بھی مبارک کہ اب وہ "پھپھو" بن گئی ہیں۔۔۔ آپ تو چچا ہیں ہی)
یہی وجہ ہے کہ میں کچھ دنوں کیلئے بزم سے دوری پر رھا۔ بہر کیف آپ کی خلوص بھری داد اور مبارکباد کیلئے ممنون و متشکر ہوں۔
آپ نے فرمایا کہ " گو کہ میرا شاعری سے تعلق صرف سننے کی حد تک ہے پھر بھی آپ کی نظم مجھے تو بہت پسند آئی"
اس سطر نے میرا ڈھیروں خون بڑھا دیا۔۔ میرے لیے آپ کی یہ بات بھی سر آنکھوں پر ۔۔۔ "خدا نصیب کرے دائمی خوشی تم کو"
باقی احباب کی رائے بھی مجھ تک پہنچ چکی ہے ۔۔
انشا اللہ وقت کے ساتھ ساتھ سبھی احباب کا شکریہ ادا کرتا رہوں گا۔
نیاز مشرب
م۔م۔مغل
خرم شہزاد خرم — اپریل 1، 2008 9:24 صبح
السلام علیکم جناب م م مغل صاحب کیا کمال کی نظم لکھی ہے آپ نے بہت خوب بہت اچھی نظم ہے میں نے شروع سے دیکھا تو بہت لمبی تھی لیکن جب پڑھی تو بہت مزہ آیا بہت خوب
مغزل — مئی 3، 2008 3:17 شام
بہت شکریہ خرّم بھیا۔۔
محمدارشد — مئی 5، 2008 11:08 شام
واہ واہ کیا غزل کافی لمبی چھوڑی
شمشاد — مئی 6، 2008 2:53 صبح
محمد ارشد صاحب آپ کو ایسا نہیں لکھنا چاہیے تھا۔
الف عین — مئی 6، 2008 5:42 صبح
شمشاد شاید ارشد کا مطلب تھا "لمبی چوڑی‘۔۔ کہ یہ طویل نظم ہے۔
ارشد یہ غزل نہیں نظم ہے، خود م م مغل نے اسے نظم کہا ہے۔
مغزل — مئی 6، 2008 6:43 صبح
[FONT="Urdu_Umad_Nastaliq"]
واہ واہ کیا غزل کافی لمبی چھوڑی

بہت شکریہ ارشد صاحب ۔
نظم کی ہیئت میں غزل تلاش کرنے پر اور پزیرائی کیلئے۔۔
نیاز مشرب
م۔م۔مغل
[/FONT]
مغزل — مئی 6، 2008 7:02 صبح
محمد ارشد صاحب آپ کو ایسا نہیں لکھنا چاہیے تھا۔

لکھنے دیجئے شمشاد صاحب۔۔
کیا خبر اسی طرح مجھے غزل لکھنے کا ہنر مل جائے۔۔;)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%E2%80%99%E2%80%99%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8-%D8%B3%D9%81%D8%B1%E2%80%98%E2%80%98-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C-%D9%86%D8%B8%D9%85-%D8%A2%D9%BE-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D8%AF%D8%A8%DB%8C-%D8%A8%D8%B5%D8%A7%D8%B1%D8%AA%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%D8%B0%D8%B1.11165/