’’ خود کُشی ‘‘
(میری پہلی نثری نظم) پوں پوں۔۔ پم پم۔۔ دھڑ دھڑ دھڑ
چل چھیاں چھیاں۔۔۔ لگا رہ لگارہ ۔۔ لگارہ۔
موہے سّیاں تو ہیں پردیس
بندر روڈ ۔۔جامع کلاتھ ۔۔ ٹاور ٹاور
چر چر چرر چچرررر
(بریک لگنے پر گاڑی کے ٹائر چرچرانے کی آواز) اوے ۔۔ اندھے ۔۔۔
چل بے ۔۔۔ او ۔۔۔
اوے ۔۔ دیکھ کر نہیں چلتا کیا۔
جانے دے استاد ۔۔ ڈبل اے ۔۔ڈب ڈب ڈب ٹرن ٹرن۔۔ اے تھیوا مندری دا تھیوا آ ٹھنڈا گلاس ۔۔ بھائی جان قدر دان مہربان
یار دو شان سنی دیو۔۔
مراد ماوا دیو۔۔
چل بے او ۔۔ پیچھے ہٹ۔
ہاں بے ۔۔ دو گٹکے دیو۔
ابے یار کیا چوکس بچی ہے۔
ابے رہنے دے شانڑے۔۔ اوے ہوئے ۔۔۔۔ کنچاس یار،، میں آوازوںکے جنگل میں تھا
سب اپنی اپنی موت مر رہے تھے
آوازیں بھی، جنگل بھی
یہ میری تہذیب کی خود کشی تھی م۔م۔مغل
مغزل — اگست 1، 2008 10:34 صبح
بہت شکریہ
امر شہزاد, خرم شہزاد خرم, محمد وارث صاحبان
کرم فرمائی کیلئے۔
والسلام
قبلہ حوصلہ افزائی تو ہم نے کی اور شکریہ آپ محسن صاحب کا ادا کر گئے
مغزل — اگست 1، 2008 11:04 صبح
سرکار ۔۔ لاشعوری طور پر آپ کے احسان کی مد میں محسن علوی لکھ گیا۔
مذکورہ مراسلہ مدون کردیا ہے ۔ امید ہے معاف فرمائیں گے۔
والسلام
حسن علوی — اگست 1، 2008 11:09 صبح
بہت شکریہ مغل صاحب۔ مجھے معلوم ھے جناب کہ یہ ایک لاشعوری غلطی تھی۔ کوئی مسئلہ نہیں بھائی جی
مغزل — اگست 1، 2008 11:27 صبح
بہت شکریہ جناب
الف عین — اگست 1، 2008 11:42 صبح
نثری ہے بس یہی خامی ہے۔ ورنہ نظم۔۔ یا نثر اچھی ہے۔
محمداحمد — اگست 1، 2008 11:55 صبح
بہت خوب بھیا لگے رہیے!
مغزل — اگست 1، 2008 12:11 شام
بہت شکریہ اعجاز صاحب۔
حوصلہ افزائی کیلئے ممنون ہوں۔
میں خود نثری نظم کے کافروں میں سے تھا
لیکن گزشتہ دنوں ۔۔ پاکستان پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن کے ایک مشاعرے میں
ایک نثری نظم ’’ ڈرامہ ‘‘ تنقید کیلئے پیش ہوئی۔۔ جسے پڑھ کر میں نثری نظم پر
ایمان لے آیا ۔۔
وہ کیا ہے ۔ کہ۔
بس یونہی ہو گئی " نَظَم " محمود
آگیا کچھ دماغ میں دل کے ۔ بہر کیف ۔ ایک بار پھر شکریہ عنایات کیلئے ۔،
والسلام
’’ خود کُشی ‘‘
(میری پہلی نثری نظم) پوں پوں۔۔ پم پم۔۔ دھڑ دھڑ دھڑ
چل چھیاں چھیاں۔۔۔ لگا رہ لگارہ ۔۔ لگارہ۔
موہے سّیاں تو ہیں پردیس
بندر روڈ ۔۔جامع کلاتھ ۔۔ ٹاور ٹاور
چر چر چرر چچرررر
(بریک لگنے پر گاڑی کے ٹائر چرچرانے کی آواز) اوے ۔۔ اندھے ۔۔۔
چل بے ۔۔۔ او ۔۔۔
اوے ۔۔ دیکھ کر نہیں چلتا کیا۔
جانے دے استاد ۔۔ ڈبل اے ۔۔ڈب ڈب ڈب ٹرن ٹرن۔۔ اے تھیوا مندری دا تھیوا آ ٹھنڈا گلاس ۔۔ بھائی جان قدر دان مہربان
یار دو شان سنی دیو۔۔
مراد ماوا دیو۔۔
چل بے او ۔۔ پیچھے ہٹ۔
ہاں بے ۔۔ دو گٹکے دیو۔
ابے یار کیا چوکس بچی ہے۔
ابے رہنے دے شانڑے۔۔ اوے ہوئے ۔۔۔۔ کنچاس یار،، میں آوازوںکے جنگل میں تھا
سب اپنی اپنی موت مر رہے تھے
آوازیں بھی، جنگل بھی
یہ میری تہذیب کی خود کشی تھی م۔م۔مغل
’’ خود کُشی ‘‘
(میری پہلی نثری نظم) پوں پوں۔۔ پم پم۔۔ دھڑ دھڑ دھڑ
چل چھیاں چھیاں۔۔۔ لگا رہ لگارہ ۔۔ لگارہ۔
موہے سّیاں تو ہیں پردیس
بندر روڈ ۔۔جامع کلاتھ ۔۔ ٹاور ٹاور
چر چر چرر چچرررر
(بریک لگنے پر گاڑی کے ٹائر چرچرانے کی آواز) اوے ۔۔ اندھے ۔۔۔
چل بے ۔۔۔ او ۔۔۔
اوے ۔۔ دیکھ کر نہیں چلتا کیا۔
جانے دے استاد ۔۔ ڈبل اے ۔۔ڈب ڈب ڈب ٹرن ٹرن۔۔ اے تھیوا مندری دا تھیوا آ ٹھنڈا گلاس ۔۔ بھائی جان قدر دان مہربان
یار دو شان سنی دیو۔۔
مراد ماوا دیو۔۔
چل بے او ۔۔ پیچھے ہٹ۔
ہاں بے ۔۔ دو گٹکے دیو۔
ابے یار کیا چوکس بچی ہے۔
ابے رہنے دے شانڑے۔۔ اوے ہوئے ۔۔۔۔ کنچاس یار،، میں آوازوںکے جنگل میں تھا
سب اپنی اپنی موت مر رہے تھے
آوازیں بھی، جنگل بھی
یہ میری تہذیب کی خود کشی تھی م۔م۔مغل