عاطف بٹ — ستمبر 26، 2012 4:14 شام
e=mc2
آئن سٹائن کا یہ مشہور سا کلیہ ہے
کہ ای مساوی ایم سی اسکوئیر کے ہوتا ہے
یعنی مادہ نور کی چاہت میں
خود کو نور بنا سکتا ہے چاہے تو
بس اپنی رفتار بڑھانی ہے اس کو
اور یوں مادہ خود بھی نور ہی بن جاتا ہے
تیری میری پیار کہانی بھی کچھ ایسی ہے
یعنی تو اک نور کا پیکر ہے
اور میں مادہ، جو بس تجھ سا بننے کو
شب و روز رفتار بڑھائے جاتا ہے
مہ جبین — ستمبر 26، 2012 4:33 شام
نظم میں بھی کلیے یاد کرادیں گے
شاعری کی شاعری اور سبق کا سبق

بہت خوب
عاطف بٹ
قیصرانی — ستمبر 26، 2012 4:34 شام
عاطف بٹ، یہ سبق پڑھا رہے ہیں کہ سبق سکھا رہے ہیں

عاطف بٹ — ستمبر 26، 2012 4:34 شام
نظم میں بھی کلیے یاد کرادیں گے
شاعری کی شاعری اور سبق کا سبق

بہت خوب
عاطف بٹ
بےحد شکریہ خالہ جان
عاطف بٹ — ستمبر 26، 2012 4:35 شام
عاطف بٹ، یہ سبق پڑھا رہے ہیں کہ سبق سکھا رہے ہیں
بس کچھ ملا جلا کام ہی کررہا ہوں۔

سید ذیشان — ستمبر 26، 2012 4:36 شام
E=mc2
آئن سٹائن کا یہ مشہور سا کلیہ ہے
کہ ای مساوی ایم سی اسکوئیر کے ہوتا ہے
یعنی مادہ نور کی چاہت میں
خود کو نور بنا سکتا ہے چاہے تو
بس اپنی رفتار بڑھانی ہے اس کو
اور یوں مادہ خود بھی نور ہی بن جاتا ہے
تیری میری پیار کہانی بھی کچھ ایسی ہے
یعنی تو اک نور کا پیکر ہے
اور میں مادہ، جو بس تجھ سا بننے کو
شب و روز رفتار بڑھائے جاتا ہے
اچھا خیال ہے، کیا اس سرخ کی گئی بات کی وضاحت کریں گے کہ مادہ رفتار بڑھا کر نور میں کیسے تبدیل ہوتا ہے؟ میرے خیال میں تو یہ بات درست نہیں ہے۔ اور آینسٹائن نے بھی ایسا کچھ نہیں کہا۔
مہ جبین — ستمبر 26، 2012 4:36 شام
میرا اور
قیصرانی بھائی کا تبصرہ آگے پیچھے ایک سا ہے

عائشہ عزیز — ستمبر 26، 2012 4:37 شام
بھیا بہت اچھا لکھا آپ نے سچی میں
عاطف بٹ — ستمبر 26، 2012 4:37 شام
بھیا بہت اچھا لکھا آپ نے سچی میں
بہت شکریہ، عائشہ۔
عاطف بٹ — ستمبر 26، 2012 4:39 شام
اچھا خیال ہے، کیا اس سرخ کی گئی بات کی وضاحت کریں گے کہ مادہ رفتار بڑھا کر نور میں کیسے تبدیل ہوتا ہے؟ میرے خیال میں تو یہ بات درست نہیں ہے۔ اور آینسٹائن نے بھی ایسا کچھ نہیں کہا۔
مادہ اگر روشنی کی رفتار سے سفر کرے تو وہ روشنی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ کیا کچھ ایسی ہی بات نہیں ہے؟
قیصرانی — ستمبر 26، 2012 4:40 شام
مادہ اگر روشنی کی رفتار سے سفر کرے تو وہ روشنی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ کیا کچھ ایسی ہی بات نہیں ہے؟
میرا خیال ہے کہ مادہ روشنی کی رفتار کو کبھی نہیں پہنچ سکتا۔ اسی بات پر موجودہ فزکس کی بات رکی ہوئی ہے۔ زیادہ سے زیادہ مادہ روشنی کی رفتار کے نوے فیصد کے برابر تک جا سکتا ہے
سید ذیشان — ستمبر 26، 2012 4:44 شام
مادہ اگر روشنی کی رفتار سے سفر کرے تو وہ روشنی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ کیا کچھ ایسی ہی بات نہیں ہے؟
نہیں جناب، ایسے ذرات جن کی کچھ کثافت (mass) ہو، وہ کبھی روشنی کی رفتار سے سفر نہیں کر سکتے۔
اس مساوات کے یہ معنی ہیں کہ مادہ اور توانائی ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں جیسا کہ ایٹم بم میں ہوتا ہے۔ تو اس نظم کو تبدیل کرکے وحدت الوجود یہ ایسے ہی کسی مضمون کی طرف لے جانا پڑے گا۔

عاطف بٹ — ستمبر 26، 2012 4:44 شام
میرا خیال ہے کہ مادہ روشنی کی رفتار کو کبھی نہیں پہنچ سکتا۔ اسی بات پر موجودہ فزکس کی بات رکی ہوئی ہے۔ زیادہ سے زیادہ مادہ روشنی کی رفتار کے نوے فیصد کے برابر تک جا سکتا ہے
مادہ روشنی کی رفتار کو نہیں پہنچ سکتا اسی لئے تو وہ روشنی میں تبدیل بھی نہیں ہوسکتا۔ لیکن اگر رفتار والی شرط پوری ہوجائے تو نتیجہ وہی نکلے گا جو میں نے اوپر بیان کیا۔
عاطف بٹ — ستمبر 26، 2012 4:46 شام
نہیں جناب، ایسے ذرات جن کی کچھ کثافت (mass) ہو، وہ کبھی روشنی کی رفتار سے سفر نہیں کر سکتے۔
اس مساوات کے یہ معنی ہیں کہ مادہ اور توانائی ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں جیسا کہ ایٹم بم میں ہوتا ہے۔ تو اس نظم کو تبدیل کرکے وحدت الوجود یہ ایسے ہی کسی مضمون کی طرف لے جانا پڑے گا۔
میں تو پہلے ہی یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر مادہ روشنی کی رفتار سے سفر کرسکے تو وہ روشنی میں تبدیل ہوسکتا ہے، بصورت دیگر تو ایسا کچھ ممکن نہیں ہے۔
قرۃالعین اعوان — ستمبر 26، 2012 4:48 شام
واہ واہ واہ!
سید ذیشان — ستمبر 26، 2012 4:49 شام
مادہ روشنی کی رفتار کو نہیں پہنچ سکتا اسی لئے تو وہ روشنی میں تبدیل بھی نہیں ہوسکتا۔ لیکن اگر رفتار والی شرط پوری ہوجائے تو نتیجہ وہی نکلے گا جو میں نے اوپر بیان کیا۔
رفتار والی شرط پوری نہیں ہو سکتی۔ آینسٹائن نے یہی کہا ہے۔ آپ کا نتیجہ ناممکنات میں سے ہے۔
عائشہ عزیز — ستمبر 26، 2012 4:49 شام
ذیش بھیا وحدت الوجود کا کیا مطلب؟
عاطف بٹ — ستمبر 26، 2012 4:49 شام
عاطف بٹ — ستمبر 26، 2012 4:50 شام
رفتار والی شرط پوری نہیں ہو سکتی۔ آینسٹائن نے یہی کہا ہے۔ آپ کا نتیجہ ناممکنات میں سے ہے۔
حضور، یہ دنیائے ممکنات ہے۔ ناممکن صرف ایک وہم کا نام اور کچھ نہیں۔
سید ذیشان — ستمبر 26، 2012 4:52 شام
ذیش بھیا وحدت الوجود کا کیا مطلب؟
یہ صوفیا کے ہاں ایک concept ہے۔ کہ تمام موجودات اصل میں ایک ہی ہیں۔ اور خدا کی ذات کے علاوہ کچھ بھی موجود نہیں۔ یہ بات اتنی سادہ نہیں کہ چند لائنوں میں اس کو سمجھایا جا سکے، کیونکہ اس پر کافی کتابیں لکھی گئی ہیں۔