×× غزل ×× تیری یادوں سے کوئی سانس نہ خالی جائے

ایلاف — اپریل 2، 2006 1:44 شام
غزل
تیری یادوں سے کوئی سانس نہ خالی جائے
زندگی اتنی حسیں کیوں بنا لی جائے
اتنی شدت سے نہ کر ترکِ تعلق کا سوال
یہ نہ ہو ہم سے تری بات نہ ٹالی جائے
ان کی قسمت میں جو تاراج ہی ہونا ہے اگر
پھر کسی شھر کی بنیاد نہ ڈالی جائے
آج کچھ ٹھان کے نکلا ہے ہجومِ رنداں
واعظِ شھر کی دستار سنبھالی جائے
شاعر = یوسف علی یوسف
F@rzana — اپریل 2، 2006 7:33 شام
(نہ)
واہ، بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر مندرجہ ذیل شعر بے وزن لگ رہا ہے،
تیری یادوں سے کوئی سانس نہ خالی جائے
زندگی اتنی حسیں کیوں بنا لی جائے
شاید آپ (نہ) لکھنا بھول گئے ہیں!
تیری یادوں سے کوئی سانس نہ خالی جائے
زندگی اتنی حسیں کیوں نہ بنا لی جائے
:roll:
ایلاف — اپریل 3، 2006 6:29 صبح
(نہ)
F@rzana نے کہا:
واہ، بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر مندرجہ ذیل شعر بے وزن لگ رہا ہے،
تیری یادوں سے کوئی سانس نہ خالی جائے
زندگی اتنی حسیں کیوں بنا لی جائے
شاید آپ (نہ) لکھنا بھول گئے ہیں!
تیری یادوں سے کوئی سانس نہ خالی جائے
زندگی اتنی حسیں کیوں نہ بنا لی جائے
:roll:
آپ نے صحیح کہا ۔
ٹائپنگ میں جلدبازی ہو گئی تھی۔
غزل کی پسندیدگی اور تصحیح کا شکریہ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%C3%97%C3%97-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%C3%97%C3%97-%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%DB%8C%D8%A7%D8%AF%D9%88%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%B3-%D9%86%DB%81-%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92.1804/