آ سوئے فلسطیں چل

ذوالفقار نقوی — جولائی 29، 2014 9:32 صبح
غزّہ و فلسطیں کے، دیکھا ہے یتیموں کو؟
جو دست بریدہ ہیں
غلطاں ہیں لہو میں جو۔
بے مادر و خواہر ہیں، جن کے نہ برادر ہیں
بے مقنہ و چادر ہیں ، گھیرا ہے بلاؤں نے، بے مونس و یاور ہیں۔
تو محو ِ تماشا ہے !
کہتا ہے مقدر ہے !
تقدیر کا رونا کیوں ، روتا ہے مرے بھائی؟
تدبیر تُو کر ، ورنہ
تقدیر نے رخ پلٹا، بہہ جائے گا جگ سارا
اِس ظلم کے دریا میں۔
نعروں کا، دعاؤں کا
اب وقت نہیں بھائی
محشر ہے بپا ہر سو، کر پیش عمل کوئی
پہلو میں اگر تیرے ، انسان کا دل ہے تَو
اُٹھ جانب ِ غزّہ بڑھ
آ سوئے فلسطیں چل
آ سوئے فلسطیں چل
ذوالفقار نقوی
ذوالفقار نقوی — جولائی 29، 2014 10:11 صبح
بہت نوازش محترم محمد یعقوب آسی صاحب
ذوالفقار نقوی — جولائی 29، 2014 10:12 صبح
ممنون ہوں جناب الف نظامی صاحب
الف نظامی — جولائی 29، 2014 10:39 صبح
بہت نوازش! :)
نایاب — جولائی 29، 2014 1:20 شام
تو محو ِ تماشا ہے !
کہتا ہے مقدر ہے !
تقدیر کا رونا کیوں ، روتا ہے مرے بھائی؟
تدبیر تُو کر ، ورنہ
تقدیر نے رخ پلٹا، بہہ جائے گا جگ سارا
اِس ظلم کے دریا میں۔

حق کی صدا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
ذوالفقار نقوی — جولائی 29، 2014 3:47 شام
نایاب صاحب ۔۔۔۔۔۔ آمین ۔۔۔۔۔۔اللہ آپ کو بھی سلامت رکھے، شکریہ
ذوالفقار نقوی — جون 10، 2016 7:50 شام
غزہ کو غازہ بھی پڑھا جا سکتا ہے کیونکہ بعض کے نزدیک غازہ درست ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2-%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92-%D9%81%D9%84%D8%B3%D8%B7%DB%8C%DA%BA-%DA%86%D9%84.76615/