آؤ مجھے رلا دو

اظہرالحق — اکتوبر 31، 2006 6:10 صبح
آؤ مجھے رلا دو
--------------------------
اتنا خون دیکھکر بھی
میری آنکھ نم نہیں ۔ ۔ ۔
میرے دل میں ذرا سا ۔۔۔
اٹھا کوئی بھی غم نہیں ۔ ۔
میں صدائے درد نکالوں ۔ ۔
اتنا بھی مجھ میں دم نہیں ۔ ۔
میں اک بجھی ہوئی شمع ہوں
مجھے جلنا سکھا دو ۔ ۔ ۔
اس الم کے عالم میں ۔ ۔
مجھے رلا دو ۔ ۔ مجھے رلا دو ۔ ۔
یہ طوفاں جو اٹھا ہے وطن میں
یہ جو آگ لگی ہے چمن میں
یہ جو دھوپ جلی ہے عدن میں
یہ جو لوگ آئے ہیں گہن میں
مجھے ان نظاروں میں بسا دو
مجھے رلا دو مجھے رلا دو
رو رہی ہے دھرتی ، روتا ہے آسماں
رو رہا شہر مرا، روتا ہے جہاں
رو رہا ہے ہر پیر و جواں
رو رہا ہے مرا پاکستاں
میرے ہی ہونٹوں کی چپ مٹا دو
مجھے رلا دو مجھے رلا دو
عاصم ملک — اکتوبر 31، 2006 7:15 صبح
بہت خوب اظہر بھائی، کافی سبق آموز شاعری ہے
دوست — اکتوبر 31، 2006 8:07 صبح
اچھی لگی۔
قیصرانی — اکتوبر 31، 2006 3:36 شام
بہت خوب اظہر بھائی، اب کے بہت دن بعد دکھائی دیے
نبیل — اکتوبر 31، 2006 4:10 شام
اظہر نے یہ کچھ شاید داد حاصل کرنے کے لیے نہیں کہا ہے۔
قیصرانی — اکتوبر 31، 2006 4:25 شام
نبیل نے کہا:
اظہر نے یہ کچھ شاید داد حاصل کرنے کے لیے نہیں کہا ہے۔
نبیل بھائی، آپ بھی دودھ کے جلے ہیں‌ :(
نبیل — اکتوبر 31، 2006 4:41 شام
قیصرانی نے کہا:
نبیل نے کہا:
اظہر نے یہ کچھ شاید داد حاصل کرنے کے لیے نہیں کہا ہے۔
نبیل بھائی، آپ بھی دودھ کے جلے ہیں‌ :(

منصور، میرا کہنے کا یہ مطلب نہیں تھا۔
قیصرانی — اکتوبر 31، 2006 4:47 شام
نبیل نے کہا:
منصور، میرا کہنے کا یہ مطلب نہیں تھا۔
:( :(
اظہرالحق — نومبر 1، 2006 9:07 صبح
جی نبیل آپ نے صحیح کہا کہ یہ سب داد کے لئے نہیں لکھا، دل کی آواز تھی جو آپ سے Share کی ۔ ۔۔
اب درد کے لمحوں میں ، آنکھ یہ نم ہوتی نہیں
پتھروں کے دیس میں آنکھیں ہی پتھرا گئیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%A4-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D8%B1%D9%84%D8%A7-%D8%AF%D9%88.4535/