آئینہ

عظیم خواجہ — نومبر 8، 2015 5:30 صبح
ہوا ہے ساتھ میرے اشکبار آئینہ
وہ میرا دوست میرا غمگسار ، آئینہ
اسے ذرا بھی تصنع کا فن نہیں آتا
کرے گا کیسے بھلا مجھ سے پیار، آئینہ
ادھر ادھر سے کرے مجھ پہ وار آئینہ
بنا ہے جب سے تیرا کاروبار ، آئینہ
نہ جانےخواب میں کیاکہہ گیا کوئ ان سے
بغور دیکھتے ہیں منہ نہار ، آئينہ
ہے عکس ء یار وگرنا تیری وقعت کیا ہے
دکھا کے دیکھ ذرا آئینے کو آئینہ
تم اپنے آپ سے دو طرفہ گفتگو کے ليئے
ہٹا کے دیکھنا دل سے غبار ، آئينہ
جنوری ۲۰۱۵
ابن رضا — نومبر 8، 2015 5:32 صبح
بہت خوب
"ذرا" درست فرما لیں
سید عاطف علی — نومبر 8، 2015 5:48 صبح
بہت اچھی غزل ہے بھئی ۔بہت بہت خوب عظیم خواجہ صاحب۔ بہت پسند آئی سلاست ۔اور نپا تلا انداز اچھا ہے۔
عکس والے شعر کےپہلے مصرع میں کچھ کتابت کی ترتیب درست نہیں لگ رہی۔
اور ایک دخل در معقولات یہ کہ تیسرے شعرکو مطلع ثانیہ بنایا جائے تو بہتر ہو دو مطلعوں سے غزل اور اچھی لگتی ہے۔
اب جب دخل دے ہی دیا جائے تو ایک نکتہ ،بشرطے کہ نکتہ چینی پر محمول نہ کیا جائے، یہ بھی مذکور ہو جائے کہ نہار منہ محآورہ ہے منہ نہار کی ترکیب شعر کو متاثر کر رہی ہے۔
امید ہے ناگوار نہیں گزرے گا ۔ بصد آداب
عظیم خواجہ — نومبر 8، 2015 5:49 صبح
بہت خوب
"ذرا" درست فرما لیں
شکریہ۔ درست کر لیا۔
عظیم خواجہ — نومبر 8، 2015 5:52 صبح
بہت اچھی غزل ہے بھئی ۔بہت بہت خوب عظیم خواجہ صاحب۔ بہت پسند آئی سلاست ۔اور نپا تلا انداز اچھا ہے۔
عکس والے شعر کےپہلے مصرع میں کچھ کتابت کی ترتیب درست نہیں لگ رہی۔
اور ایک دخل در معقولات یہ کہ تیسرے شعرکو مطلع ثانیہ بنایا جائے تو بہتر ہو دو مطلعوں سے غزل اور اچھی لگتی ہے۔
اب جب دخل دے ہی دیا جائے تو ایک نکتہ ،بشرطے کہ نکتہ چینی پر محمول نہ کیا جائے، یہ بھی مذکور ہو جائے کہ نہار منہ محآورہ ہے منہ نہار کی ترکیب شعر کو متاثر کر رہی ہے۔
امید ہے ناگوار نہیں گزرے گا ۔ بصد آداب
بہت بہت شکریہ جناب۔ میں ان نکات پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا اور آئندہ خیال رکھوں گا۔
ابن رضا — نومبر 8، 2015 5:55 صبح
شکریہ۔ درست کر لیا۔
ایک اور بھی ہے:)
عظیم خواجہ — نومبر 8، 2015 6:01 صبح
وہ بھی صحیح کر لیا۔ یہ میں ٹھیک جگہ آ گیا ہوں۔ یہاں بہت سیکھنے کوُ ملے گا۔ ابن رضا بھائ آپ کے وقت کا بہت بہے شکریہ۔
ابن رضا — نومبر 8، 2015 6:01 صبح
وہ بھی صحیح کر لیا۔ یہ میں ٹھیک جگہ آ گیا ہوں۔ یہاں بہت سیکھنے کوُ ملے گا۔ ابن رضا بھائ آپ کے وقت کا بہت بہے شکریہ۔
دیر آید درست آید
محمد تابش صدیقی — نومبر 8، 2015 6:06 صبح
اسے ذرا بھی تصنع کا فن نہیں آتا
کرے گا کیسے بھلا مجھ سے پیار، آئینہ
بہت خوب بھائی، بہت عمدہ
کرشن بہاری نور کا ایک شعر یاد آ گیا
چاہے سونے کے فریم میں جڑ دو
آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں
عظیم خواجہ — نومبر 8، 2015 6:26 صبح
بہت خوب بھائی، بہت عمدہ
کرشن بہاری نور کا ایک شعر یاد آ گیا
چاہے سونے کے فریم میں جڑ دو
آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں
بہت نوازش جناب۔ اور اتنا اچھا شعر یاد دلانے کا بھی بےحد شکریہ۔
ابن رضا — نومبر 8، 2015 6:52 صبح
بہت خوب بھائی، بہت عمدہ
کرشن بہاری نور کا ایک شعر یاد آ گیا
چاہے سونے کے فریم میں جڑ دو
آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں
کرشن بہاری صاحب نے شاید سرکس کا آئینہ نہیں دیکھا ہوگا:p
محمد تابش صدیقی — نومبر 8، 2015 7:00 صبح
کرشن بہاری صاحب نے شاید سرکس کا آئینہ نہیں دیکھا ہوگا:p
محدب اور مقعر آئینہ بھی نہیں دیکھا ہو گا۔:D
x boy — نومبر 8، 2015 7:29 صبح
زبردست
لیکن آئینہ دیکھے بغیر رہ بھی کیسے سکتے ہیں،،، اب تو آئینہ ہر جگہہ ہوتا ہے
آفس میں آئینہ، شوروم میں آئینہ، کیفیٹیریاء میں آئینہ، جم میں بھی آئینہ ہی آئینہ۔
اب بندہ اپنے آپ کا فزکس دیکھ ہی لیتا ہے چلتے ہوئے پیٹ آگے ہوتا ہے یا قدم
بیٹھے ہوئے پیٹ شرم گاہ کو چھپاتی ہے یا جینس پینٹ، اگر قدم آگے ہوتو
اورجینس فٹ ہوتو سمجھے کہ وہ شرمسار نہیں ہے اگر جوان ہو آئینہ منہ چڑائے
تو سمجھ لینا چاہئے کہ دنیا کچھ نہیں بول رہی تو کیا ہوا ۔
عظیم خواجہ — نومبر 8، 2015 5:36 شام
غزل مرمت کے لیے ہٹا لی گئ ہے
سید عاطف علی — نومبر 8، 2015 5:55 شام
سید عاطف علی صاحب ایک نظر پھر ڈال دیں عین نوازش ہوگی۔ شکریہ
ہوا ہے ساتھ میرے اشکبار آئینہ
وہ میرا دوست میرا غمگسار ، آئینہ
ادھر ادھر سے کرے مجھ پہ وار آئینہ
بنا ہے جب سے تیرا کاروبار ، آئینہ
اسے ذرا بھی تصنع کا فن نہیں آتا
کرے گا کیسے بھلا مجھ سے پیار، آئینہ
نہ جانےخواب میں کیاکہہ گیا کوئ ان سے
صبح سے دیکھتے ہیں بار بار ، آئينہ
ہے عکسِ یار وگرنا تیری وقعت کیا ہے
دکھا کے دیکھ ذرا آئینے کو آئینہ
تم اپنے آپ سے دو طرفہ گفتگو کے ليئے
ہٹا کے دیکھنا دل سے غبار ، آئينہ
جنوری ۲۰۱۵
خواجہ صاحب ۔ بہت اچھا ۔
لیکن صبح کا تلفظ ٹھیک نہیں آرہا بحر کے لحاظ سے ۔۔۔۔ صبح کا وزن فاع ہے اور یہاں فعو بن گیا جو درست نہیں ۔۔۔۔۔ اسے "بغور" ہی دہنے دیا جاسکتا ہے ۔ یعنی اس شعر میں "بار بار" کی تبدیلی کافی ہے۔
عکس والے مصررع کا وزن اب بھی فٹ نہیں ۔ اسے اس طرح فٹ کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ اے عکسِ یار وگرنا ہےتیری وقعت کیا ۔۔۔
آپ کے استشار میں حسن ظن کے لیے ممنون ہوں کہ میں کوئی استاد نہیں بہر حال رائے پیش ہے۔ ۔۔آداب اور ایک بار پھر بہت سی داد ۔۔۔۔
ابن رضا — نومبر 8، 2015 7:02 شام
دکھا کے دیکھ ذرا آئینے کو آئینہ
یہاں قافیہ بھی غائب ہے
سید عاطف علی — نومبر 8، 2015 7:53 شام
دکھا کے دیکھ ذرا آئینے کو آئینہ
یہاں قافیہ بھی غائب ہے
بجا فرمایا۔ اور یہ تو غزل کی شرط بھی ہے۔سو اس پر توجہ دینا ضروری ٹھہرا ۔
عظیم خواجہ — نومبر 9، 2015 12:44 صبح
بجا فرمایا۔ اور یہ تو غزل کی شرط بھی ہے۔سو اس پر توجہ دینا ضروری ٹھہرا ۔
یہ کیسے ہو گیا سمجھ نہیں آرہا۔
دکھا کے دیکھ ذرا آئینے کو آئینہ
یہاں قافیہ بھی غائب ہے
ابن رضا بھائ اور عاطف بھائ اس غزل کو کافی مسائل درپیش ہیں۔ میں اسے واپس ڈرائنگ بورڈ لیے جاتا ہوں۔ آپ دونوں کا بےحد شکریہ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81.85763/