ظہیراحمدظہیر — ستمبر 22، 2016 5:08 شام
آئینہ گر کے دُکھ
پتھرہی رہو ، شیشہ نہ بنو
شیشوں کی ابھی رُت آئی نہیں
اِس شہرمیں خالی چہروں پر
آنکھیں تو اُبھرآئی ہیں مگر
آنکھوں میں ابھی بینائی نہیں
خاموش رہو ، آواز نہ دو
کانوں میں سماعت سوتی ہے
سوچوں کو ابھی الفاظ نہ دو
احساس کو زحمت ہوتی ہے
اظہارِ حقیقت کے لہجے
سننےکا ابھی دستور نہیں
الفاظ و معانی کے رشتے
ذہنوں کو ابھی منظورنہیں
یہ شہر کسی کا شہر ہے کب
یہ لوگ نہیں ہیں سائےہیں
ا ِن سایوں میں کوئی مہر ہے کب
یہ پیاس بڑھانے آئے ہیں
اشکوں سے کہو جم جائیں وہیں
جس چشمہء غم سے پھوٹے ہیں
آہو ں سے کہو تھم جائیں وہیں
یہ جذبے شاید جھوٹے ہیں
مت ہاتھ بڑھاؤ چاہت کا
انجان بنو ، انجان رہو
یہ رسم گراں ہے لوگوں پر
مشکل نہ بنو ، آسان رہو
جو بھول چکے ہومدت سے
اُس درد کو پھر آغاز نہ دو
جانے دو انہیں ، آوازنہ دو
آواز نہ دو ، آواز نہ دو
ظہیر احمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۱۲
محمد تابش صدیقی — ستمبر 22، 2016 5:13 شام
کیا ہی خوبصورت اور احساسات سے مزین نظم ہے. بہت عمدہ ظہیر بھائی.
آئینہ گر کے دُکھ
پتھرہی رہو ، شیشہ نہ بنو
شیشوں کی ابھی رُت آئی نہیں
اِس شہرمیں خالی چہروں پر
آنکھیں تو اُبھرآئی ہیں مگر
آنکھوں میں ابھی بینائی نہیں
خاموش رہو ، آواز نہ دو
کانوں میں سماعت سوتی ہے
سوچوں کو ابھی الفاظ نہ دو
احساس کو زحمت ہوتی ہے
اظہارِ حقیقت کے لہجے
سننےکا ابھی دستور نہیں
الفاظ و معانی کے رشتے
ذہنوں کو ابھی منظورنہیں
یہ شہر کسی کا شہر ہے کب
یہ لوگ نہیں ہیں سائےہیں
ا ِن سایوں میں کوئی مہر ہے کب
یہ پیاس بڑھانے آئے ہیں
اشکوں سے کہو جم جائیں وہیں
جس چشمہء غم سے پھوٹے ہیں
آہو ں سے کہو تھم جائیں وہیں
یہ جذبے شاید جھوٹے ہیں
مت ہاتھ بڑھاؤ چاہت کا
انجان بنو ، انجان رہو
یہ رسم گراں ہے لوگوں پر
مشکل نہ بنو ، آسان رہو
جو بھول چکے ہومدت سے
اُس درد کو پھر آغاز نہ دو
جانے دو انہیں ، آوازنہ دو
آواز نہ دو ، آواز نہ دو
ادب دوست — ستمبر 22، 2016 8:45 شام
واہ واہ واہ ... کیا کہنے کیا کہنے ظہیر بھائی بہت خوب... لاجواب نظم ، بھرپور رواں ، بہترین گرفت ، کیا کہنے واہ واہ واہ ....
فاتح — ستمبر 22، 2016 9:04 شام
احساسات کی کیا ہی خوبصورت ترجمانی کی ہے نظم کی صورت میں
عباد اللہ — ستمبر 23، 2016 7:58 صبح
واہ اواہ کیا کہنے واجواب سر
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 24، 2016 3:09 شام
کیا ہی خوبصورت اور احساسات سے مزین نظم ہے. بہت عمدہ ظہیر بھائی.
بہت بہت شکریہ ! اللہ سلامت رکھے آپ کو تابش بھائی !
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 24، 2016 3:10 شام
واہ واہ واہ ... کیا کہنے کیا کہنے ظہیر بھائی بہت خوب... لاجواب نظم ، بھرپور رواں ، بہترین گرفت ، کیا کہنے واہ واہ واہ ....
نوازش!! بہت خوشی ہے کہ آپ کو نظم پسند آئی ! بہت ممنون ہوں!!
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 24، 2016 3:13 شام
احساسات کی کیا ہی خوبصورت ترجمانی کی ہے نظم کی صورت میں
بہت شکریہ فاتح بھائی ! نظمیں کم ہی لکھی ہیں ۔ نظم کے لئے جو وقت اور یکسوئی چاہئے وہ کم ہی میسر آتے ہین۔
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 24، 2016 3:14 شام
واہ اواہ کیا کہنے واجواب سر
بہت بہت شکریہ عباداللہ ! نوازش! اللہ آپ کو خوش رکھے!