آصف شفیع — ستمبر 12، 2008 11:24 شام
"سنخور" کے اصرار پر ایک غزل پیش خدمت ہے۔ میری ایک غزل فورم پر زیرِ بحث رہی جس کا مطلع یوں تھا:
دیکھ مت دل کی طرف اتنی فراوانی سے
یہ کبھی دام میں آتا نہیں آسانی سے
درج بالا اور درج ذیل غزل ایک ہی رو میں لکھی گئی تھیں۔لہذا مجھے یہ غزل بھی پوسٹ کرنے کو کہا گیا ہے۔ جو حاضر ہے
غزل
آبدیدہ تھا جو میں بے سرو سامانی پر
محوِ حیرت ہوں محبت کی فراوانی پر
تجھ سے بیگانہءاحساسِ الم کیا جانیں
کیا گزرتی ہے شب و روز کے زندانی پر
موج در موج بہے جاتا ہوں تہ داری میں
آج کل درد کا دریا بھی ہے طغیانی پر
چشمِ نم سے کہاں ممکن ہے نظارا دل کا
نقش بنتا ہی نہیں بہتے ہوئے پانی پر
حسنِ جاں سوز کو جب شعر میں ڈھالا میں نے
لوگ حیران ہوئے میری سخن دانی پر
وہی اندازِ عملداری بھی سکھلائے گا
جس نے مامور کیا مجھ کو جہاں بانی پر
میرا ہر خواب تہِ خاک پڑا ہے آصف
نوحہ کس طرح لکھوں شہر کی ویرانی پر
الف عین — ستمبر 13، 2008 2:24 صبح
سخن دانی ہر تو ہم بھی حیران ہیں آصف!!!!
وقعی بہت خوب آصف، اور بہت شکریہ نوید آصف کو یہاں لانے کا۔ اب محفل کی اگلی سال گرہ کا مقابلہ مزے کا ہوگا محفل کے بہترین شاعر کا، اس بار تو محض ’نئے‘ شاعر کی قید لگا دی گئی تھی۔
شمشاد — ستمبر 13، 2008 2:25 صبح
آصف صاحب بہت شکریہ۔
آصف شفیع — ستمبر 13، 2008 8:26 صبح
سخن دانی ہر تو ہم بھی حیران ہیں آصف!!!!
وقعی بہت خوب آصف، اور بہت شکریہ نوید آصف کو یہاں لانے کا۔ اب محفل کی اگلی سال گرہ کا مقابلہ مزے کا ہوگا محفل کے بہترین شاعر کا، اس بار تو محض ’نئے‘ شاعر کی قید لگا دی گئی تھی۔
اعجاز صاحب، بہت شکریہ۔
محمد وارث — ستمبر 13، 2008 11:29 صبح
لا جواب غزل ہے آصف صاحب، واہ واہ واہ سبحان اللہ۔
ایک ایک شعر خوبصورت ہے، کیا کہنے جناب، ماشاءاللہ!
زھرا علوی — ستمبر 13، 2008 11:35 صبح
موج در موج بہے جاتا ہوں تہ داری میں
آج کل درد کا دریا بھی ہے طغیانی پر
چشمِ نم سے کہاں ممکن ہے نظارا دل کا
نقش بنتا ہی نہیں بہتے ہوئے پانی پر
میرا ہر خواب تہِ خاک پڑا ہے آصف
نوحہ کس طرح لکھوں شہر کی ویرانی پر
بہت زبردست آصف شفیع صاحب۔۔
بلاشبہ ہر شعر بہت خوب ہے۔۔
داد قبول کیجیے۔۔۔۔
جیا راؤ — ستمبر 13، 2008 12:03 شام
آبدیدہ تھا جو میں بے سرو سامانی پر
محوِ حیرت ہوں محبت کی فراوانی پر
تجھ سے بیگانہءاحساسِ الم کیا جانیں
کیا گزرتی ہے شب و روز کے زندانی پر
حسنِ جاں سوز کو جب شعر میں ڈھالا میں نے
لوگ حیران ہوئے میری سخن دانی پر
بہت ہی خوبصورت جناب !
جیہ — ستمبر 13، 2008 12:17 شام
میرا ہر خواب تہِ خاک پڑا ہے آصف
نوحہ کس طرح لکھوں شہر کی ویرانی پر
بہت خوب جناب
آصف شفیع — ستمبر 13، 2008 12:23 شام
بہت شکریہ۔
فرخ منظور — ستمبر 13، 2008 4:41 شام
واہ واہ آصف صاحب - بہت شکریہ قبلہ یہ غزل بھی اس غزل سے کم نہیں ہے - یہ بتائیے کہ آپ کے مجموعے، لاہور میں کہاں سے مل سکتے ہیں؟
کنگ پٹھان — ستمبر 13، 2008 5:45 شام
شکریہ آصف بھائی ۔۔بہترین
شمشاد — ستمبر 13، 2008 7:49 شام
کنگ پٹھان صاحب اردو محفل میں خوش آمدید
اپنا تعارف تو دیں۔
آصف شفیع — ستمبر 15، 2008 1:39 صبح
میری کتابیں
واہ واہ آصف صاحب - بہت شکریہ قبلہ یہ غزل بھی اس غزل سے کم نہیں ہے - یہ بتائیے کہ آپ کے مجموعے، لاہور میں کہاں سے مل سکتے ہیں؟
سر جی! آپ کسی بھی ادبی کتابوں کی دکان سے پتہ کر سکتے ہیں۔ ویسے میرے پبلشر کا اڈریس یہ ہے-
خزینہء علم و ادب-الکریم مارکیٹ ، اردو بازار لاہور
تقسیم کار:
سعد پبلیکیشنز فرسٹ فلور، میاں مارکیٹ ، اردو بازار لاہور فون: 7122943
محمداحمد — ستمبر 15، 2008 7:00 صبح
تجھ سے بیگانہءاحساسِ الم کیا جانیں
کیا گزرتی ہے شب و روز کے زندانی پر
موج در موج بہے جاتا ہوں تہ داری میں
آج کل درد کا دریا بھی ہے طغیانی پر
چشمِ نم سے کہاں ممکن ہے نظارا دل کا
نقش بنتا ہی نہیں بہتے ہوئے پانی پر
واہ آصف صاحب،
بہت عمدہ غزل ہے ۔ خاص طور پر یہ تین اشعار بہت عمدہ ہیں۔
داد حاضرِ خدمت ہے۔
ایم اے راجا — ستمبر 15، 2008 11:21 صبح
بہت خوب، واہ واہ کیا مصرعے ہیں، لاجواب، لفظ نہیں کے تعریف کروں، آصف صاحب داد قبول ہو۔
آصف شفیع — ستمبر 16، 2008 12:12 صبح
بہت خوب، واہ واہ کیا مصرعے ہیں، لاجواب، لفظ نہیں کے تعریف کروں، آصف صاحب داد قبول ہو۔
راجہ صاحب، آپ کی محبت کا بہت شکریہ۔