آبلے پھول ہوئے گرچہ نہ پائی منزل

ثامر شعور — مئی 2، 2014 4:41 صبح
آبلے پھول ہوئے گرچہ نہ پائی منزل
دو قدم ساتھ ترا میرے سفر کا حاصل
ڈوب جاتا جو بھنور میں تو نئی بات نہ تھی
سانحہ یہ ہے کہ آیا ہے ڈبونے ساحل
بات کرنے سے جو خوشبو سی بکھر جاتی ہے
میرے لفظوں میں ہوا ہے ترا لہجہ شامل
اجنبی بن کے کبھی ایسے نہ ملتی مجھ سے
زندگی تو جو سمجھتی مجھے اپنے قابل
رات پھر ایک ہی لمحے میں جیا ہوں ثاؔمر
رات پھر اس کو بھلانا تھا بہت ہی مشکل​
محمداحمد — مئی 2، 2014 7:39 صبح
بہت خوب ثامر صاحب۔
اچھی غزل ہے۔ داد قبول کیجے۔
الف عین — مئی 2، 2014 12:14 شام
بہت خوب
خالد محمود چوہدری — مئی 2، 2014 12:24 شام
بہت خوب ثامر صاحب۔
ثامر شعور — مئی 2، 2014 2:20 شام
بہت خوب ثامر صاحب۔
اچھی غزل ہے۔ داد قبول کیجے۔
بہت شکریہ احمد بھائی۔
ثامر شعور — مئی 2، 2014 2:21 شام
بہت شکریہ اعجاز صاحب۔
ثامر شعور — مئی 2، 2014 2:22 شام
بہت خوب ثامر صاحب۔
بہت شکریہ خالد صاحب۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%A8%D9%84%DB%92-%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-%DA%AF%D8%B1%DA%86%DB%81-%D9%86%DB%81-%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84.73978/