آتشِ رنج و الم ، سیلِ بلا سامنے ہے

ظہیراحمدظہیر — دسمبر 30، 2015 4:57 صبح
آتشِ رنج و الم ، سیلِ بلا سامنے ہے
زندگی جلوہ نما ہے کہ قضا سامنے ہے
شعلہء جاں ہے مرا اور ہوا سامنے ہے
پیکر ِ خاک میں ہونے کی سزا سامنے ہے
ہر طرف ڈھونڈنے والو! اُسے دیکھو تو سہی
وہ کہیں اور نہیں ہے بخدا سامنے ہے
منعکس ہوں میں زمانے میں ، زمانہ مجھ میں
خود بھی آئینہ ہوں اور عکس نما سامنے ہے
لغزش ِ پائے تمنا کا بھی امکان نہیں
جادہء شوق میں گر اس کی رضا سامنے ہے
کیا خبر کون سا جلوہ ہے پسِ پردہء غیب
جس طرف دیکھئے اک راز نیا سامنے ہے
پھر وہی سوزِ دروں میرا ، وہی غفلتِ جاں
پھر وہی ساعتِ تجدیدِ وفا سامنے ہے
مجھ کو ناموس ِ غم ِ عشق ہے مانع ورنہ
چارہ گر پہلو میں بیٹھے ہیں ، دوا سامنے ہے​

اپنے بارے میں نہ کھا عصمتِ یوسف کی قسم
پہلے یہ دیکھ تو لے چاکِ قبا سامنے ہے
اور کیا پیش کروں اپنی محبت کا ثبوت
میرے حالات کی صورت میں وفا سامنے ہے
ہم بھلا کون سے سقراطِ زماں ہیں جو ظہیر
روز اک زہر بھرا جام نیا سامنے ہے
ظہیر احمد ظہیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مئی ۲۰۱۵
ٹیگ: سید عاطف علی فاتح کاشف اختر محمد تابش صدیقی
سید عاطف علی — دسمبر 30، 2015 5:16 صبح
واہ ظہیر صاحب واہ ۔ بہت خوبصورت غزل ہے ۔ کمال لہجہ ہے ۔ بہت خووب
محمد تابش صدیقی — دسمبر 30، 2015 5:18 صبح
کیا کہنے ظہیر بھائی
لغزش ِ پائے تمنا کا بھی امکان نہیں
جادہء شوق میں گر اس کی رضا سامنے ہے
اکمل زیدی — دسمبر 30، 2015 5:18 صبح
آہا ...کیا کہنے ....خوب کہی ...
اور خاص کر ...
اپنے بارے میں نہ کھا عصمتِ یوسف کی قسم
پہلے یہ دیکھ تو لے چاکِ قبا سامنے ہے
حمیرا عدنان — دسمبر 30، 2015 5:53 صبح
بہت خوب ظہیر بھائی
فاتح — دسمبر 30، 2015 2:14 شام
ہم بھلا کون سے سقراطِ زماں ہیں جو ظہیر
روز اک زہر بھرا جام نیا سامنے ہے
ہائے ہائے ہائے کتنا درد بھرا ہے اس شعر میں
کاشف اختر — دسمبر 30، 2015 5:07 شام
بہت ہی اعلی، واہ واہ کیا کہنے ظہیر بھائی واہ واہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%AA%D8%B4%D9%90-%D8%B1%D9%86%D8%AC-%D9%88-%D8%A7%D9%84%D9%85-%D8%8C-%D8%B3%DB%8C%D9%84%D9%90-%D8%A8%D9%84%D8%A7-%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92-%DB%81%DB%92.86774/