ذوالفقار نقوی — فروری 7، 2014 6:05 صبح
اجنبی لگتے ہیں کیوں یہ بام و در اب کے مجھے
خشت و سنگ - شہر بهی کیا بے وفا ہو جائیں گے؟
ذوالفقار نقوی
ذوالفقار نقوی — جولائی 30، 2014 4:38 صبح
ہوس کے ناخنوں نے اِس قدر کھرچا بدن اِن کا
لہو رِستی رہیں گی حشر تک اقدار ِ انسانی
ذوالفقار نقوی
ذوالفقار نقوی — جولائی 30، 2014 4:44 صبح
یوم ِ مزدور پر کہا گیا ایک شعر
مطمئن سویا ہوا ہے خاک پر مزدور، دیکھ
مخملی بستر پہ تجھ کو نیند کیوں آتی نہیں
ذوالفقار نقوی
ذوالفقار نقوی — جولائی 30، 2014 4:47 صبح
اُگا نہ ایسا کوئی پیڑ تیرے آنگن میں
کہ جس کی شاخ پرندوں کا آشیاں ٹھہرے
ذوالفقار نقوی — جولائی 30، 2014 5:04 صبح
تری تصویر تو دهندلی نہیں ہے
مری آنکھوں میں آنسو آ گئے ہیں
ذوالفقار نقوی
ذوالفقار نقوی — جنوری 23، 2016 2:03 شام
ہماری تیرہ شبی حد میں رہ نہیں سکتی
اب اپنی ذات میں سورج کوئی اگانا ہے
ذوالفقار نقوی
ذوالفقار نقوی — جنوری 23، 2016 4:19 شام
بہت شکریہ محمد احمد صاحب
ذوالفقار نقوی — جنوری 26، 2016 1:08 شام
بہت شکریہ توصیف مغل صاحب ۔۔سلامت رہیں
ذوالفقار نقوی — جون 10، 2016 7:58 شام
یوم ِ مزدور پر کہا گیا ایک شعر
مطمئن سویا ہوا ہے خاک پر مزدور، دیکھ
مخملی بستر پہ تجھ کو نیند کیوں آتی نہیں
ذوالفقار نقوی
اس شعر لفظ مخملی غلط لکھا گیا ہے ۔۔۔
مخملیں ۔۔۔۔پڑھیں ۔۔۔
مطمئن سویا ہوا ہے خاک پر مزدور، دیکھ
مخملیں بستر پہ تجھ کو نیند کیوں آتی نہیں
ذوالفقار نقوی — جون 10، 2016 8:01 شام
چوم لیتا ہوں بصد شوق ہر اک زخم نیا
اپنے ہاتھوں ہی سے پہنی ہوئی زنجیر جو ہے
ذوالفقار نقوی
ذوالفقار نقوی — جون 11، 2016 6:37 صبح
اہل تقوی ہر نفس ، شام و سحر روزے سے ہیں
کم سے کم رمضان میں ہو جائیں ہم بھی روزہ دار
ذوالفقار نقوی
ذوالفقار نقوی — جون 11، 2016 6:43 صبح
ہواؤ جان کھپاؤ نہ تند جھونکوں پر
تمہاری راہ میں لا کر چراغ رکھتا ہوں
ذوالفقار نقوی
ذوالفقار نقوی — جون 12، 2016 5:48 صبح
کہتے ہیں کہ رمضان میں شیطاں ہے مقید
پر میں اُسے مصروف ِعمل دیکھ رہا ہوں
ذوالفقار نقوی
سیما علی — مئی 1، 2023 3:08 شام
شاید میں غلط دور میں اترا ہوں زمیں پر
ہر شخص تحیر سے مجھے دیکھ رہا ہے
تنویر سپرا
سیما علی — مئی 1، 2023 3:13 شام
دیکھیں اس ڈھونے ڈھلانے کی ملے کیا اجرت
جسم کو بوجھ تو انساں کو مزدور سمجھ
(شاد عظیم آبادی)
سیما علی — مئی 1، 2023 3:15 شام
آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے
آدمی مزدور ہے راہیں بنانے کے لیے
حفیظ جالندھری