آخر میں کھلا آکر یہ راز کہانی کا

ظہیراحمدظہیر — مارچ 27، 2020 2:55 صبح
احبابِ کرام ، محفل پر اپنا پرانا کلام لگانے کا سلسلہ ایک تعطل کے بعد پھر سے شروع کررہا ہوں ۔ نوید یہ ہے کہ اب سات آٹھ یا اتنی ہی اور غزلیں باقی بچی ہیں ۔ امید ہے کہ کچھ ہی دنوں میں یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچے گا ۔ دو تین تازہ غزلیں بھی اپنی باری کا انتظار کرہی ہیں ۔ :):):) ۔ ایک غزل آپ احباب کے ذوق کی نذر ۔ شاید کوئی شعر کام کا ہو ۔
غزل
٭٭٭
آخر میں کھلا آ کر یہ راز کہانی کا
انجام سے ہوتا ہے آغاز کہانی کا
اس عہدِ تصنع کی ہر بات ہے پردوں میں
عنواں نہیں ہوتا اب غماز کہانی کا
تکرار بناتی ہے اب جھوٹ کو سچائی
تشہیر بدلتی ہے انداز کہانی کا
لے آتا ہے منظر پر،جب چاہے نیا کردار
رکھا ہے مصنف نے در باز کہانی کا
بننا ہی تھا آخر کو افسانۂ رسوائی
یاروں کو بنایا تھا ہمراز کہانی کا
مر کر بھی نہیں مرتے کردار محبت کے
رکھتا ہے انہیں زندہ اعجاز کہانی کا
افسانۂ ہستی میں وہ موڑ بھی آتا ہے
جب ساتھ نہیں دیتے الفاظ کہانی کا
٭٭٭
ظہیرؔاحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2016​
احمد محمد — مارچ 27، 2020 3:45 صبح
واہ۔ سبحان اللّٰہ۔ کیا کہنے۔۔۔
ظہیراحمدظہیر بھائی!
پرانے کلام اتنے شاندار ہیں۔۔۔ تازہ تو پھر غضب ہی ڈھائیں گے۔ شاعر آپ سا پرانا ہو اور کلام تازہ ہو تو لطف نہ آئے۔۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ آپ کے مضامین و خیال کی پختگی اور اندازِ بیاں دونوں ہی ہمارے پسندیدہ ہیں۔
لہٰذا آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ از جلد اپنے تازہ کلام بھی عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 27، 2020 4:16 صبح
بہت خوبصورت کلام کے ساتھ شاندار واپسی۔
آخر میں کھلا آکر یہ راز کہانی کا
انجام سے ہوتا ہے آغاز کہانی کا

اس عہدِتصنع کی ہر بات ہے پردوں میں
عنواں نہیں ہوتا اب غماز کہانی کا

تکرار بناتی ہے اب جھوٹ کو سچائی
تشہیر بدلتی ہے انداز کہانی کا

لےآتا ہے منظر پر،جب چاہےنیاکردار
رکھا ہے مصنف نے درباز کہانی کا

بننا ہی تھا آخر کو افسانۂ رسوائی
یاروں کو بنایا تھا ہمراز کہانی کا

مرکربھی نہیں مرتےکردار محبت کے
رکھتا ہے انہیں زندہ اعجاز کہانی کا

افسانۂ ہستی میں وہ موڑ بھی آتا ہے
جب ساتھ نہیں دیتے الفاظ کہانی کا

نوید یہ ہے کہ اب سات آٹھ یا اتنی ہی اور غزلیں باقی بچی ہیں ۔
یہ ہمارے لیے نوید کے ساتھ ساتھ اداسی کا سبب بھی ہے۔ امید ہے کہ نیا کلام آتا رہے گا، اور ہم آپ کے عمدہ کلام سے مستفید ہوتے رہیں گے۔ :)
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 27، 2020 4:39 صبح
غزل
٭٭٭
آخر میں کھلا آکر یہ راز کہانی کا
انجام سے ہوتا ہے آغاز کہانی کا
اس عہدِتصنع کی ہر بات ہے پردوں میں
عنواں نہیں ہوتا اب غماز کہانی کا
تکرار بناتی ہے اب جھوٹ کو سچائی
تشہیر بدلتی ہے انداز کہانی کا
لےآتا ہے منظر پر،جب چاہےنیاکردار
رکھا ہے مصنف نے درباز کہانی کا
بننا ہی تھا آخر کو افسانۂ رسوائی
یاروں کو بنایا تھا ہمراز کہانی کا
مرکربھی نہیں مرتےکردار محبت کے
رکھتا ہے انہیں زندہ اعجاز کہانی کا
افسانۂ ہستی میں وہ موڑ بھی آتا ہے
جب ساتھ نہیں دیتے الفاظ کہانی کا
٭٭٭
ظہیرؔاحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2016​

واہ وا۔ واہ واہ!! کیا کہنے! خوبصورت خوبصورت!!
عرفان سعید — مارچ 27، 2020 5:20 صبح
افسانۂ ہستی میں وہ موڑ بھی آتا ہے
جب ساتھ نہیں دیتے الفاظ کہانی کا
لاجواب!
مریم افتخار — مارچ 27، 2020 10:22 صبح
احبابِ کرام ، محفل پر اپنا پرانا کلام لگانے کا سلسلہ ایک تعطل کے بعد پھر سے شروع کررہا ہوں ۔ نوید یہ ہے کہ اب سات آٹھ یا اتنی ہی اور غزلیں باقی بچی ہیں ۔ امید ہے کہ کچھ ہی دنوں میں یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچے گا ۔ دو تین تازہ غزلیں بھی اپنی باری کا انتظار کرہی ہیں ۔ :):):) ۔ ایک غزل آپ احباب کے ذوق کی نذر ۔ شاید کوئی شعر کام کا ہو ۔
غزل
٭٭٭
آخر میں کھلا آکر یہ راز کہانی کا
انجام سے ہوتا ہے آغاز کہانی کا
اس عہدِتصنع کی ہر بات ہے پردوں میں
عنواں نہیں ہوتا اب غماز کہانی کا
تکرار بناتی ہے اب جھوٹ کو سچائی
تشہیر بدلتی ہے انداز کہانی کا
لےآتا ہے منظر پر،جب چاہےنیاکردار
رکھا ہے مصنف نے درباز کہانی کا
بننا ہی تھا آخر کو افسانۂ رسوائی
یاروں کو بنایا تھا ہمراز کہانی کا
مرکربھی نہیں مرتےکردار محبت کے
رکھتا ہے انہیں زندہ اعجاز کہانی کا
افسانۂ ہستی میں وہ موڑ بھی آتا ہے
جب ساتھ نہیں دیتے الفاظ کہانی کا
٭٭٭
ظہیرؔاحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2016​
واہ! واہ! بے حد خوبصورت کلام (ہمیشہ کی طرح)!
درباز کے معانی؟
فلک شیر — مارچ 27، 2020 10:58 صبح
االلہ اللہ
بہت ہی خوب
فاخر رضا — مارچ 27، 2020 11:32 صبح
بہت شکریہ بھائی
اس وقت اس کی اشد ضرورت ہے
ظہیراحمدظہیر — مارچ 27، 2020 9:12 شام
واہ۔ سبحان اللّٰہ۔ کیا کہنے۔۔۔
ظہیراحمدظہیر بھائی!
پرانے کلام اتنے شاندار ہیں۔۔۔ تازہ تو پھر غضب ہی ڈھائیں گے۔ شاعر آپ سا پرانا ہو اور کلام تازہ ہو تو لطف نہ آئے۔۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ آپ کے مضامین و خیال کی پختگی اور اندازِ بیاں دونوں ہی ہمارے پسندیدہ ہیں۔
لہٰذا آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ از جلد اپنے تازہ کلام بھی عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔
بہت شکریہ احمد ! اس محبت اور پذیرائی کے لئے دل سے ممنون ہوں ۔ بہت نوازش!
ان شاء اللہ جلد ہی تازہ کلام بھی پوسٹ کرتا ہوں ۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 27، 2020 9:22 شام
بہت خوبصورت کلام کے ساتھ شاندار واپسی۔
پس ثابت ہوا کہ قبلہ تابش صاحب کی طبیعت میں شاعری اور کرکٹ مساوی طور پر کوٹ کوٹ کر بھری ہے ۔ :D
یہ ہمارے لیے نوید کے ساتھ ساتھ اداسی کا سبب بھی ہے۔ امید ہے کہ نیا کلام آتا رہے گا، اور ہم آپ کے عمدہ کلام سے مستفید ہوتے رہیں گے۔ :)
تابش بھائی پرانا کلام ایک دفعہ تمام کا تمام یہاں پوسٹ ہوجائے تو سر سے ایک بوجھ ہٹ جائے گا ۔ وہ کام جو چار سال پہلے شروع کیا تھا اختتام کو پہنچے گا۔ اہلِ ذوق کی طرف سے پذیرائی اور حوصلہ افزائی سلامت ، تازہ کلام بھی جب ہوا اور جیسا بھی ہوا ان شاء اللہ یہیں پوسٹ کرتا رہوں گا ۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 27، 2020 9:22 شام
واہ وا۔ واہ واہ!! کیا کہنے! خوبصورت خوبصورت!!
بہت شکریہ خلیل بھائی ، محبت ہے آپ کی! بہت نوازش!
ظہیراحمدظہیر — مارچ 27، 2020 9:23 شام
بہت شکریہ عرفان بھائی ! نوازش!
ظہیراحمدظہیر — مارچ 27، 2020 9:28 شام
واہ! واہ! بے حد خوبصورت کلام (ہمیشہ کی طرح)!
درباز کے معانی؟
یہ ہوئی نا مدیرانہ بات! :):):)
مریم بیٹا ،آپ نے بالکل ٹھیک نشاندہی کی ۔ میں نے درست کردیا ہے ۔ در اور باز کے درمیان وقفہ نہیں دیا تھا ۔ اب دونوں لفظوں کو الگ الگ کردیا ہے ۔ یعنی دروازہ کھول دیا ہے ۔ :):):)
کلمۂ تحسین کے لئے بہت شکریہ! سخنوروں کی طرف سے داد و تحسین دل بڑھادیتی ہے ۔ بہت نوازش!
ظہیراحمدظہیر — مارچ 27، 2020 9:29 شام
االلہ اللہ
بہت ہی خوب
بہت شکریہ فلک شیر بھائی ! بہت نوازش! بہت ممنون ہوں ۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 27، 2020 9:30 شام
بہت شکریہ بھائی
اس وقت اس کی اشد ضرورت ہے
بہت شکریہ ! بہت نوازش ، فاخر بھائی !
بندہ پرور — مارچ 27، 2020 9:40 شام
واہ محترم
بہت ہی عمدہ غزل ۔۔ خاص کر یہ مصرعے بہت ہی پسند آئے ۔
اس عہدِتصنع کی ہر بات ہے پردوں میں
عنواں نہیں ہوتا اب غماز کہانی کا
تکرار بناتی ہے اب جھوٹ کو سچائی
تشہیر بدلتی ہے انداز کہانی کا
ظہیراحمدظہیر — مارچ 29، 2020 5:11 صبح
واہ محترم
بہت ہی عمدہ غزل ۔۔ خاص کر یہ مصرعے بہت ہی پسند آئے ۔
اس عہدِتصنع کی ہر بات ہے پردوں میں
عنواں نہیں ہوتا اب غماز کہانی کا
تکرار بناتی ہے اب جھوٹ کو سچائی
تشہیر بدلتی ہے انداز کہانی کا
نوازش! بہت شکریہ جناب! اللہ آپ کو خوش رکھے!
شکیل احمد خان23 — مارچ 29، 2020 6:02 صبح
احبابِ کرام ، محفل پر اپنا پرانا کلام لگانے کا سلسلہ ایک تعطل کے بعد پھر سے شروع کررہا ہوں ۔ نوید یہ ہے کہ اب سات آٹھ یا اتنی ہی اور غزلیں باقی بچی ہیں ۔ امید ہے کہ کچھ ہی دنوں میں یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچے گا ۔ دو تین تازہ غزلیں بھی اپنی باری کا انتظار کرہی ہیں ۔ :):):) ۔ ایک غزل آپ احباب کے ذوق کی نذر ۔ شاید کوئی شعر کام کا ہو ۔
غزل
٭٭٭
آخر میں کھلا آکر یہ راز کہانی کا
انجام سے ہوتا ہے آغاز کہانی کا
اس عہدِتصنع کی ہر بات ہے پردوں میں
عنواں نہیں ہوتا اب غماز کہانی کا
تکرار بناتی ہے اب جھوٹ کو سچائی
تشہیر بدلتی ہے انداز کہانی کا
لےآتا ہے منظر پر،جب چاہےنیاکردار
رکھا ہے مصنف نے در باز کہانی کا
بننا ہی تھا آخر کو افسانۂ رسوائی
یاروں کو بنایا تھا ہمراز کہانی کا
مرکربھی نہیں مرتےکردار محبت کے
رکھتا ہے انہیں زندہ اعجاز کہانی کا
افسانۂ ہستی میں وہ موڑ بھی آتا ہے
جب ساتھ نہیں دیتے الفاظ کہانی کا
٭٭٭
ظہیرؔاحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2016​
سبحان اللہ العظیم،ماشاء اللہ ،واہ !بہت شاندار !(تعریف کروں کیا اُس کی جس نے تمھیں بنایا)واقعی بہت خوبصورت غزل کہ بے اختیار آتش کا قول ذہن میں آیا: بندشِ الفاظ والا۔ایک بار پھر واہ!
عبید انصاری — مارچ 29، 2020 6:36 صبح
یہ ہوئی نا مدیرانہ بات! :):):)
مریم بیٹا ،آپ نے بالکل ٹھیک نشاندہی کی ۔ میں نے درست کردیا ہے ۔ در اور باز کے درمیان وقفہ نہیں دیا تھا ۔ اب دونوں لفظوں کو الگ الگ کردیا ہے ۔ یعنی دروازہ کھول دیا ہے ۔ :):):)
کلمۂ تحسین کے لئے بہت شکریہ! سخنوروں کی طرف سے داد و تحسین دل بڑھادیتی ہے ۔ بہت نوازش!
مجھے معلوم ہوتا کہ آپ اتنی تعریف کریں گے تو میں "مرکربھی" کے بارے میں ضرور پوچھتا۔ :) :)
مرکربھی نہیں مرتےکردار محبت ک
محمد تابش صدیقی — مارچ 29، 2020 6:45 صبح



آپ کے یہ الفاظ سوشل ڈسٹینس نہیں رکھ پا رہے۔
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%AE%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7-%D8%A2%DA%A9%D8%B1-%DB%8C%DB%81-%D8%B1%D8%A7%D8%B2-%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DA%A9%D8%A7.110989/