آخری بات ڈھونڈ لیتے ہیں

محمد شکیل خورشید — جون 27، 2020 10:29 شام
درد کی رات ڈھونڈلیتے ہیں
تیری سوغات ڈھونڈ لیتے ہیں
اس فسانے میں ربط کی خاطر
اتفاقات ڈھونڈلیتے ہیں
لوگ پوچھیں گے کچھ سوال تو ہم
کچھ جوابات ڈھونڈ لیتے ہیں
ڈوب کر درد کی گپھاؤں میں
اپنی ہی ذات ڈھونڈ لیتے ہیں
ان کی خدمت میں پیش کرنے کو
کچھ مناجات ڈھونڈ لیتے ہیں
اب روایات کو بدلتے ہیں
کچھ نئی بات ڈھونڈ لیتے ہیں
جس کی خوشبو ابھی بھی باقی ہے
وہ ملاقات ڈھونڈ لیتے ہیں
بادہ و جام و ساغر و مینا
یہ خرافات ڈھونڈ لیتے ہیں
اب شکیل اختتام کرتے ہیں
آخری بات ڈھونڈ لیتے ہیں
محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
و دیگر اساتذہ و احباب کی نذر
الف عین — جون 28، 2020 5:16 صبح
درست لگ رہی ہے غزل
اب روایات کو بدلتے ہیں
کو بدل دیں، یہ بھی ردیف 'ہیں' پر ختم ہو رہا ہے
محمد شکیل خورشید — جون 28، 2020 7:31 شام
درست لگ رہی ہے غزل
اب روایات کو بدلتے ہیں
کو بدل دیں، یہ بھی ردیف 'ہیں' پر ختم ہو رہا ہے
شکریہ استادِ محترم
یہ غلطی مقطع میں بھی در آئی ہے
کیا یوں مناسب ہو جائیں گے دونوں اشعار
اب روایات کو بدلتے ہوئے
کچھ نئی بات ڈھونڈ لیتے ہیں
اور
اب شکیل اختتام ہے نزدیک
آخری بات ڈھونڈ لیتے ہیں
الف عین — جون 29، 2020 10:20 صبح
اب درست ہو گئی ہے غزل
محمد شکیل خورشید — جون 30، 2020 8:39 شام
اب درست ہو گئی ہے غزل
شکریہ استادِ محترم

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88-%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA.112238/