ش زاد — مارچ 31، 2011 5:21 شام
اتنا دل گیر ہو کے جانا ہے
آنکھ سے نیر ہو کے جانا ہے
رنگ لمحوں کو کیسے تھامتے ہیں
آج تصویر ہو کے جانا ہے
آدمی کِتنا ٹوٹ جاتا ہے
میں نے تعمیر ہو کے جانا ہے
لفظ مضمون میں ڈھلا کیسے
خود پہ تحریر ہو کے جانا ہے
رُتبہ ِ دشت و آبلہ پائی
پاء بازنجیر ہو کے جانا ہے
ش زاد
زھرا علوی — اپریل 1، 2011 10:22 صبح
آدمی کِتنا ٹوٹ جاتا ہے
میں نے تعمیر ہو کے جانا ہے
لفظ مضمون میں ڈھلا کیسے
خود پہ تحریر ہو کے جانا ہے
رُتبہ ِ دشت و آبلہ پائی
پاء بازنجیر ہو کے جانا ہے
کیا بات ہے۔۔!!
ش زاد — اپریل 4، 2011 6:46 شام
آداب مُحترمہ
ایس فصیح ربانی — اپریل 7، 2011 6:28 صبح
واہ! کیا کہنے!
بہت ہی دلکش غزل عطا کی ہے آپ نے،
بہت سی داد قبول کیجیے۔
الف عین — اپریل 17، 2011 6:42 شام
داد قبول کرو ش۔ اچھی غزل ہے۔
ش زاد — مارچ 30، 2012 7:06 شام
بہت شکریہ صاحبان
ناعمہ عزیز — اپریل 1، 2012 5:10 شام
بہت خوب

ش زاد — جون 17، 2012 2:36 شام
آداب
محمد وارث — جون 18، 2012 6:17 صبح
بہت خوب جناب، کیا کہنے۔
ش زاد — ستمبر 27، 2012 12:41 شام
شکریہوارث بھائی
نویدظفرکیانی — اکتوبر 6، 2012 3:07 شام
بہت اعلٰی
ش زاد — اکتوبر 7، 2012 9:50 صبح
آداب حضور
قرۃالعین اعوان — اکتوبر 7، 2012 9:52 صبح
لاجواب!
اسد قریشی — اکتوبر 8، 2012 7:00 صبح
رُتبہ ِ دشت و آبلہ پائی
پاء بازنجیر ہو کے جانا ہے
واہ!واہ! بہت خوب، بہت عمدہ! داد قبول کیجئیے
ش زاد — اکتوبر 8، 2012 10:22 صبح
شکریہ