آرزو جس عہدِ بے پایاں کی ہے - منیب احمد فاتحؔ

منیب احمد فاتح — جون 2، 2013 6:46 شام
مجھے ذاتی طور پر لفظ میرؔ بطورِ تخلص نہایت پسند ہے۔ مگر حضرت میر تقی میرؔ کے احترام میں اس کو اپناتا نہیں۔ خیر اپنی واحد غزل کہ جس میں میں نے اس تخلص کو برتا تھا نذر محفل کرتا ہوں تا کہ یادگار رہے۔ آپ حضرات غزل پر بھی رائے دیجئے گا:​
آرزو جس عہدِ بے پایاں کی ہے​
وہ گھڑی نظارۂ خوباں کی ہے​
پھول کے ہم دست کچھ آتے ہیں خار​
آزمائش وسعتِ داماں کی ہے​
کل کھلی جو آنکھ تو دیکھو گے ایک​
کشمکش پھر دوزخ و رضواں کی ہے​
ہے خدا کی حضرتِ انساں کو فکر​
اور اُس کو حضرتِ انساں کی ہے​
تیرے ہی پاؤں نے مسلا دہنِ گل​
سب عنایت گلشنِ امکاں کی ہے​
حکم ہے اگلے جہاں رکنے کا میرؔ​
پھر طلب تجھ سوختہ ساماں کی ہے​
مزمل شیخ بسمل — جون 2، 2013 6:55 شام
مجھے ذاتی طور پر لفظ میرؔ بطورِ تخلص نہایت پسند ہے۔ مگر حضرت میر تقی میرؔ کے احترام میں اس کو اپناتا نہیں۔ خیر اپنی واحد غزل کہ جس میں میں نے اس تخلص کو برتا تھا نذر محفل کرتا ہوں تا کہ یادگار رہے۔ آپ حضرات غزل پر بھی رائے دیجئے گا:​
آرزو جس عہدِ بے پایاں کی ہے​
وہ گھڑی نظارۂ خوباں کی ہے​
پھول کے ہم دست کچھ آتے ہیں خار​
آزمائش وسعتِ داماں کی ہے​
کل کھلی جو آنکھ تو دیکھو گے ایک​
کشمکش پھر دوزخ و رضواں کی ہے​
ہے خدا کی حضرتِ انساں کو فکر​
اور اُس کو حضرتِ انساں کی ہے​
تیرے ہی پاؤں نے مسلا دہنِ گل
سب عنایت گلشنِ امکاں کی ہے​
حکم ہے اگلے جہاں رکنے کا میرؔ​
پھر طلب تجھ سوختہ ساماں کی ہے​

واہ۔ خوب است۔
منیب احمد فاتح — جون 3، 2013 4:07 صبح

شکریہ :)
دہن آپ نے دہن کیوں کیا ہے؟
الف عین — جون 3، 2013 8:44 صبح
شکریہ :)
دہن آپ نے دہن کیوں کیا ہے؟

کیونکہ اس کے صحیح تلفظ میں ہ متحرک ہے، مفتوح۔ یہاں منیب نے ذہن کی طرح ساکن برتا ہے۔
اس کے علاوہ مجھے
کل کھلی جو آنکھ تو دیکھو گے ایک
میں ’ایک‘ کی نشست بھی پسند نہیں آئی، جو دوسرے مصرع کی کشمکش سے جڑی ہوئی ہے۔ یہاں محض ’تم‘ کیا جا سکتا ہے، ’ایک‘ تو understood ہے
محمداحمد — جون 3، 2013 8:57 صبح
پھول کے ہم دست کچھ آتے ہیں خار​
آزمائش وسعتِ داماں کی ہے​
ہے خدا کی حضرتِ انساں کو فکر​
اور اُس کو حضرتِ انساں کی ہے​

بہت ہی خوب منیب احمد فاتح صاحب،
عمدہ کلام ہے۔
منیب احمد فاتح — جون 3، 2013 2:46 شام
اس کے علاوہ مجھے
کل کھلی جو آنکھ تو دیکھو گے ایک
میں ’ایک‘ کی نشست بھی پسند نہیں آئی، جو دوسرے مصرع کی کشمکش سے جڑی ہوئی ہے۔ یہاں محض ’تم‘ کیا جا سکتا ہے، ’ایک‘ تو understood ہے

صحیح! یوں کیسا ہے:
کل کھلی جو آنکھ تو دیکھو گے پھر​
کشمکش اک دوزخ و رضواں کی ہے​
منیب احمد فاتح — جون 3، 2013 2:48 شام
بہت ہی خوب منیب احمد فاتح صاحب،
عمدہ کلام ہے۔

شکریہ جناب :)
سارہ بشارت گیلانی — جون 14، 2013 7:25 شام
"پھول کے ہم دست کچھ آتے ہیں خار
آزمائش وسعتِ داماں کی ہے"
beautiful
محمد خلیل الرحمٰن — جون 14، 2013 8:23 شام
بہت خوبصورت غزل۔ بہت داد قبول فرمائیے جناب
عمر سیف — جون 14، 2013 8:36 شام
پھول کے ہم دست کچھ آتے ہیں خار
آزمائش وسعتِ داماں کی ہے
بہت خوب ۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88-%D8%AC%D8%B3-%D8%B9%DB%81%D8%AF%D9%90-%D8%A8%DB%92-%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%DB%81%DB%92-%D9%85%D9%86%DB%8C%D8%A8-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD%D8%94.64555/