آرزوئے روشنی۔۔۔

زھرا علوی — اگست 29، 2008 5:48 شام
آج ہم سفر میں ہیں
اک نئے سفر میں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
بے یقین موسم کی غمزدہ آغوش میں
جب بھی آخری سانسیں امید گن کے لیتی ہے۔۔۔
بے آس موسموں میں گھری
بنجر زمین ِ خواب پر
امید سے لبریز ابرِ آرزوئے روشنی
کھل کے یوں برستا ہے
کہ پھر یہی بنجر زمیں
شوق ِ سفر کے بیج کوخود پرورش دینے لگتی ہے۔۔۔
سو ۔۔۔۔
آج ہم سفر میں ہیں
اک نئے سفر میں۔۔۔:)
الف عین — اگست 29، 2008 6:39 شام
زہرا۔ نظم تو اچھی ہے بس کچھ زیادہ ہی‌آزاد ہو گئی ہے۔ نثری سے کم، لیکن اصل آزاد نظم کی طرح نہیں جس میں کسی خاص بحر کےارکان کی تعداد ہر مصرع میں گھٹتی بڑھتی ہے۔
زھرا علوی — اگست 29، 2008 6:49 شام
السلام و علیکم انکل
مجھے اندازہ ہے کہ بہت آزاد ہے:(
لیکن کوئی خاص بحر کا مجھے آپ جانتے ہی ہیں علم نہیں ہے۔۔آج تک جو بھی کام کیا بس اندازے سے ہی کیا۔۔۔
اور یہ تو بس جیسے ہی کہی یہاں لکھ دی کوئی نوک پلک درست کیے بغیرکہ سب ہی آج کل پوچھتے ہیں کہ کچھ کہا کہ نہیں۔۔۔۔:)
میں کوشش کرتی ہوں کہ اسے قائدوں کے مطابق ڈھالوں۔۔۔۔:)
زھرا علوی — اگست 29، 2008 10:46 شام
آج پھر سفر میں ہیں
اک نئے سفر میں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
راستوں کی ویرانی
اور ہوا کی طغیانی
ریت وہ اڑاتی ہے
کہ راستے چھپاتی ہے
بے یقین موسم کی
غمزدہ آغوش میں
جب بھی آخری سانسیں امید گن کے لیتی ہے۔۔۔
بے آس موسموں میں گھری
بنجر زمین ِ خواب پر
"امید سے لبریز ابرِ آرزوئے روشنی"
کھل کے یوں برستا اور سیراب ایسے کرتا ہے
کہ خود یہی بنجر زمیں
شوق ِ سفر کے بیج کو
پھرپرورش دینے لگتی ہے۔۔۔۔

انکل اب دیکھیے گا پلیز۔۔۔
جیا راؤ — اگست 30، 2008 10:39 صبح
اچھی نظم ہے زہرا جی:)
زھرا علوی — اگست 30، 2008 12:26 شام
شکریہ جیا جی۔۔۔۔:):)
الف عین — اگست 30، 2008 6:29 شام
ٹھیک ہے زہرا، میں دیکھتا ہوں بعد میں،
زھرا علوی — اگست 31، 2008 10:25 صبح
جی انکل بہت بہتر۔۔۔:)
محسن حجازی — ستمبر 1، 2008 4:49 صبح
انکل کو پاک و ہند سمیت دنیا بھر سے بے شمار غزلیں نظمیں نوحے دوحے ماہئے ٹپے وغیرہ مرمت کے واسطے آتے رہتے ہیں اپنی باری کا انتظار کیجئے :grin:
الف عین — ستمبر 1، 2008 10:11 صبح
ارے رات کو ہی پوسٹ کیا تھا۔ کہاں گئی میری پوسٹ؟
اج رات دوبارہ کرتا ہں۔
زھرا علوی — ستمبر 1، 2008 10:13 صبح
:) :) :) :)
الف عین — ستمبر 1، 2008 6:34 شام
زہرا۔۔۔ اس وقت نہیں اب ہنسو۔۔۔ نظم حاضر ہے۔
آخری مصرعوں کے ساتھ بہت چھیڑ کانی کرنی پڑی۔ ممکن ہے کہ تمہارا اصل خیال مجروح ہو گیا ہو۔
آج پھر سفر میں ہیں
اک نئے سفر میں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
راستوں کی ویرانی
اور ہوا کی طغیانی
ریت خوب اڑاتی ہے
راستے چھپاتی ہے
بے یقین موسم کی
غمزدہ سی گودی میں
جب بھی آخری سانسیں
گن کے لیتی ہے امید ۔۔۔
خواب کی زمیں جس کو
سرد اداس موسم نے
ہر دشا میں گھیرا تھا
وہ زمیں جو بنجر تھی
اس پر ایک موسم میں
نور سےامیدوں کی روشن آرزؤوں کی
روشنی کا اک بادل
کھل کے یوں برستا ہے
وہ زمیں جو بنجر تھی
تخم شوقِ سیری کا
لے کے اپنے آنچل میں
بادِ گرم سے محفوظ
رکھ کے سینچ لیتی ہے
پھر نمود ہوتی ہے۔۔
اور۔۔۔
۔۔۔۔ وہی سفر پیہم
پھر نیا سفر ایک اور۔۔۔
ایم اے راجا — ستمبر 2، 2008 9:16 صبح
بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زھرا علوی — ستمبر 2، 2008 9:34 صبح
السلام و علیکم انکل !
:) :) :) :) :)
خیا ل تو قطعا مجروح نا ہوا البتہ خوب نکھر گیا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ یہ نظم بھی آپ کے نام ۔۔۔۔۔
:) :) :) :) :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%B1%D8%B2%D9%88%D8%A6%DB%92-%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86%DB%8C%DB%94%DB%94%DB%94.14696/