آزاد نظم با عنوان : ’’شاعری‘‘ :از: غزل نازغزلؔ

مغزل — فروری 24، 2013 11:20 صبح
شاعری
شاعری بھی بارش ہے !!
جب برسنے لگتی ہے ۔۔
سوچ کی زمینوں کو رنگ بخش دیتی ہے۔۔۔
لفظ کو معانی کے ڈھنگ بخش دیتی ہے۔۔۔
نِت نئے خیالوں کی کونپلیں نکلتی ہیں۔۔۔
اور پھر روانی پر یوں بہار آتی ہے۔۔۔
جیسے ٹھوس پربت سے گنگناتی وادی میں آبشار آتی ہے۔۔
شاعری بھی بارش ہے۔۔۔
اُن دلوں کی دھرتی پر ۔۔۔
غم کی آگ نے جن کوراکھ میں بدل ڈالا۔۔
ذہن و دل کا ہرجذبہ جیسے خاک کرڈالا۔۔
ایسی سرزمینوں پر۔۔۔
بارشیں برسنے سے فرق کچھ نہیں پڑتا ! !
غزل نازغزلؔ
صوری آہنگ میں:
nazm_211.jpg
مہ جبین — فروری 24، 2013 11:43 صبح
واہ بہت عمدہ خیال
اور پھر روانی پر یوں بہار آتی ہے۔۔۔
جیسے ٹھوس پربت سے گنگناتی وادی میں آبشار آتی ہے۔۔
شاعری بھی بارش ہے۔۔۔

ماشاءاللہ غزل ناز
اللہ کلام میں مزید روانی عطا فرمائے آمین
فاتح — فروری 24، 2013 12:35 شام
ایسی سرزمینوں پر۔۔۔
بارشیں برسنے سے فرق کچھ نہیں پڑتا ! !
واہ واہ بہت خوب۔
محمد وارث — فروری 24، 2013 1:39 شام
لاجواب، کیا کہنے
محمد بلال اعظم — فروری 24، 2013 2:34 شام
شاعری بھی بارش ہے !!
جب برسنے لگتی ہے ۔۔
سوچ کی زمینوں کو رنگ بخش دیتی ہے۔۔۔
لفظ کو معانی کے ڈھنگ بخش دیتی ہے۔۔۔
غم کی آگ نے جن کوراکھ میں بدل ڈالا۔۔
ذہن و دل کا ہرجذبہ جیسے خاک کرڈالا۔۔
ایسی سرزمینوں پر۔۔۔
بارشیں برسنے سے فرق کچھ نہیں پڑتا ! !
واہ
بیحد خوبصورت تخلیق
ڈھیروں داد غزل آپی کے لیے اور آپ کا شکریہ۔
ابن سعید — فروری 24، 2013 2:52 شام
:) :) :) لا جواب! :) :) :)
نایاب — فروری 24، 2013 2:57 شام
واہہہہہہہہ
بہت خوب خیال
محسن وقار علی — فروری 24، 2013 4:18 شام
:zabardast1:
عزیز آبادی — فروری 24، 2013 4:23 شام
شاعری بھی بارش ہے !!
جب برسنے لگتی ہے ۔۔
سوچ کی زمینوں کو رنگ بخش دیتی ہے۔۔۔
لفظ کو معانی کے ڈھنگ بخش دیتی ہے۔۔۔
نِت نئے خیالوں کی کونپلیں نکلتی ہیں۔۔۔
اور پھر روانی پر یوں بہار آتی ہے۔۔۔
جیسے ٹھوس پربت سے گنگناتی وادی میں آبشار آتی ہے۔۔
شاعری بھی بارش ہے۔۔۔
اُن دلوں کی دھرتی پر ۔۔۔
غم کی آگ نے جن کوراکھ میں بدل ڈالا۔۔
ذہن و دل کا ہرجذبہ جیسے خاک کرڈالا۔۔
ایسی سرزمینوں پر۔۔۔
بارشیں برسنے سے فرق کچھ نہیں پڑتا ! !
غزل نازغزلؔ
صوری آہنگ میں:
nazm_211.jpg
عزیز آبادی — فروری 24، 2013 4:24 شام
فن و فکر لاجواب
مدیحہ گیلانی — فروری 24، 2013 4:27 شام
بہت عمدہ ۔ لاجواب
الف عین — فروری 25، 2013 5:26 صبح
واہ، اچھی نظم ہے۔
لیکن یہ آبشار مؤنث کب سے ہو گیا؟
سید زبیر — فروری 25، 2013 7:12 صبح
لا جواب کلام
غم کی آگ نے جن کوراکھ میں بدل ڈالا۔۔
ذہن و دل کا ہرجذبہ جیسے خاک کرڈالا۔۔
ایسی سرزمینوں پر۔۔۔
بارشیں برسنے سے فرق کچھ نہیں پڑتا ! !
عاطف بٹ — فروری 25، 2013 10:14 صبح
واہ، بہت ہی عمدہ نظم ہے۔
عاطف بٹ — فروری 25، 2013 10:16 صبح
واہ، اچھی نظم ہے۔
لیکن یہ آبشار مؤنث کب سے ہو گیا؟
سر، وارث سرہندی کے مطابق ’آبشار‘ اردو میں مؤنث کے طور پر بھی مستعمل ہے۔
مغزل — فروری 25، 2013 12:57 شام
واہ، اچھی نظم ہے۔
لیکن یہ آبشار مؤنث کب سے ہو گیا؟
بابا جانی آبشار (فارسی) اسمِ نکرہ مذکر اور مؤنث دونوں ہیں۔ میں اپنے آپ میں اس صحت پر واضح ہوں لیکن آپ ملاحظہ کیجے ۔
ہے موج زن فضا میں اک آبشار سیمیں
یا ملکۂ پرستاں موتی لٹا رہی ہے
( 1941ء، صبح بہار، 15 )
تبسم — فروری 26، 2013 1:14 شام
بہت اچھے مغل بھائی
مقدس — فروری 26، 2013 1:30 شام
اوسم
Tahira Masood — فروری 28، 2013 2:07 صبح
undefined
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 28، 2013 2:40 صبح
بہت خوب صورت نظم ہے مغزل بھائی اور غزل بھابی۔ بہت بہت داد قبول فرمائیے۔
شاعری
شاعری بھی بارش ہے !!
جب برسنے لگتی ہے ۔۔
سوچ کی زمینوں کو رنگ بخش دیتی ہے۔۔۔
لفظ کو معانی کے ڈھنگ بخش دیتی ہے۔۔۔
نِت نئے خیالوں کی کونپلیں نکلتی ہیں۔۔۔
اور پھر روانی پر یوں بہار آتی ہے۔۔۔
جیسے ٹھوس پربت سے گنگناتی وادی میں آبشار آتی ہے۔۔
شاعری بھی بارش ہے۔۔۔
اُن دلوں کی دھرتی پر ۔۔۔
غم کی آگ نے جن کوراکھ میں بدل ڈالا۔۔
ذہن و دل کا ہرجذبہ جیسے خاک کرڈالا۔۔
ایسی سرزمینوں پر۔۔۔
بارشیں برسنے سے فرق کچھ نہیں پڑتا ! !
غزل نازغزلؔ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF-%D9%86%D8%B8%D9%85-%D8%A8%D8%A7-%D8%B9%D9%86%D9%88%D8%A7%D9%86-%E2%80%99%E2%80%99%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C%E2%80%98%E2%80%98-%D8%A7%D8%B2-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%86%D8%A7%D8%B2%D8%BA%D8%B2%D9%84%D8%94.60307/