آشنائی کبھی ہوتی نہیں چلتے چلتے۔ آصف شفیع

آصف شفیع — اپریل 13، 2009 5:00 صبح
غزل:
آشنائی کبھی ہوتی نہیں چلتے چلتے
وقت لگتا ہے کسی رنگ میں ڈھلتے ڈھلتے
ایک دن کہہ ہی دیا اُس نے، مجھے جانا ہے
ایک دن ہو ہی گیا سانحہ ٹلتے ٹلتے
کیا بتائیں کسے چاہا، کسے پایا ہم نے
عمر گزری کفِ افسوس ہی ملتے ملتے
ایک پل کو بھی نہیں وصل کا موسم دیکھا
زندگی بیت گئی ہجر میں جلتے جلتے
ڈھونڈتا رہتا ہوں میں اس کے نشاں تک آصف
چھوڑ جاتا ہے مجھے روز وہ چلتے چلتے
( آصف شفیع)
محسن حجازی — اپریل 13، 2009 8:03 صبح
کیا کہنے جناب! ایک دن ہو ہی گیا سانحہ ٹلتے ٹلتے۔
محمد وارث — اپریل 13، 2009 8:17 صبح
بہت خوبصورت غزل ہے آصف صاحب، جاندار مطلع ہے، سبھی اشعار بہت اچھے ہیں! لاجواب۔
بہت داد قبول کریں جناب!
عمران شناور — اپریل 13، 2009 9:17 صبح
واہ جی واہ! آصف صاحب کمال کر دیا آپ نے
ایک دن کہہ ہی دیا اُس نے، مجھے جانا ہے
ایک دن ہو ہی گیا سانحہ ٹلتے ٹلتے
فیصل عظیم فیصل — اپریل 13، 2009 9:20 صبح
ماشاء اللہ آصف بھائی اللہ مزید لکھنے کی توفیق عطا کرے
مغزل — اپریل 13، 2009 9:56 صبح
وا ہ صاحب واہ ، بہت خوب جناب ، کیا ہی عمدہ غزل ہے ، بندہ ناچیز کی طرف سے ہدیہ داد قبول کیجے ۔( ایک مصرعے میں گزری کو گذری لکھ دیا گیا ہے ) اسے درست کرلیں۔ اور اسی مصرعے میں ’’ ہی ‘‘ کھل رہا ہے ، مقطع باقی غزل کی نسبت کمزور لگ رہا ہے ، امید ہے ناگوار نہ گزرے گا۔ والسلام
فرخ منظور — اپریل 13، 2009 10:07 صبح
اچھی غزل ہے آصف صاحب۔ مجھے بھی وہی شعر سب زیادہ پسند آیا۔
ایک دن کہہ ہی دیا اُس نے، مجھے جانا ہے
ایک دن ہو ہی گیا سانحہ ٹلتے ٹلتے
بہت خوب!
محمداحمد — اپریل 13، 2009 10:28 صبح
آصف شفیع صاحب،
بہت اچھی غزل ہے، دل خوش ہوا پڑھ کر۔ خاص طور پر یہ اشعار۔
آشنائی کبھی ہوتی نہیں چلتے چلتے
وقت لگتا ہے کسی رنگ میں ڈھلتے ڈھلتے
ایک دن کہہ ہی دیا اُس نے، مجھے جانا ہے
ایک دن ہو ہی گیا سانحہ ٹلتے ٹلتے

نذرانہء تحسین حاضرِ خدمت ہے۔
آصف شفیع — اپریل 13، 2009 10:52 صبح
وا ہ صاحب واہ ، بہت خوب جناب ، کیا ہی عمدہ غزل ہے ، بندہ ناچیز کی طرف سے ہدیہ داد قبول کیجے ۔( ایک مصرعے میں گزری کو گذری لکھ دیا گیا ہے ) اسے درست کرلیں۔ اور اسی مصرعے میں ’’ ہی ‘‘ کھل رہا ہے ، مقطع باقی غزل کی نسبت کمزور لگ رہا ہے ، امید ہے ناگوار نہ گزرے گا۔ والسلام

مغل صاحب۔ داد دینے کا بہت شکریہ۔ گذری کو ٹھیک کر دیا ہے۔ ہی کا مسئلہ ضرور ہے اور مجھے بھی کھٹک رہا ہے۔ اس کو بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔ باقی اگر کوئی اشعار پر رائے دے تو مجھے خوشی ہوتی ہے اور کلام پوسٹ کرنے کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے تاکہ اگر کوئی خامی ہو تو دوستوں کی رائے سامنے آ جائے۔ صرف داد لینا تھوڑی مقصود ہوتا ہے۔ اسی لیے اگر میں بھی کسی کلام پر تبصرہ کرتا ہوں تو وہ بے لاگ ہوتا ہے۔ یہ غزل ایک دن پہلے ہی ہوئی تھی صرف پانچ اشعار ہی لکھے جا سکے ہیں۔
آصف شفیع — اپریل 13، 2009 10:53 صبح
تمام احباب کا بے حد شکریہ
الف عین — اپریل 13، 2009 11:22 صبح
غزل تو بہت اچھی ہے، خیال کے اعتبار سے اور زبان و بیان کے اعتبار سے. لیکن کچھ مجھ جیسے عروضیے (جو کچھ نیم حکیم قسم کے ہیں( تکنیکی خرابی ڈھونڈھ لیتے ہیں.
سوال قافیہ کا ہے، بلکہ ردیف کا بھی. ردیف کیا مانی جائے اور قافیہ کیا؟ حرف روی کیا ہے؟ عروض کے اعتبار سے قافئے درست نہیں.
مغزل — اپریل 13، 2009 12:05 شام
مغل صاحب۔ داد دینے کا بہت شکریہ۔ گذری کو ٹھیک کر دیا ہے۔ ہی کا مسئلہ ضرور ہے اور مجھے بھی کھٹک رہا ہے۔ اس کو بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔ باقی اگر کوئی اشعار پر رائے دے تو مجھے خوشی ہوتی ہے اور کلام پوسٹ کرنے کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے تاکہ اگر کوئی خامی ہو تو دوستوں کی رائے سامنے آ جائے۔ صرف داد لینا تھوڑی مقصود ہوتا ہے۔ اسی لیے اگر میں بھی کسی کلام پر تبصرہ کرتا ہوں تو وہ بے لاگ ہوتا ہے۔ یہ غزل ایک دن پہلے ہی ہوئی تھی صرف پانچ اشعار ہی لکھے جا سکے ہیں۔

بہت بہت شکریہ بہت نوازش آصف صاحب ، پہلی دھوپ مجھے نوید بھائی کے وسیلے سے نصیب ہوئی ، اس کلام کے بارے میں رائے عنقریب پیش کروں گا۔ والسلام
مغزل — اپریل 13، 2009 12:07 شام
بابا جانی ذوالقافیتین میں ہے مگر ٍغیر مردف ، باقی وارث صاحب اور صاحبِ کلام ہی بہتر رائے دے سکیں گے ۔
محمد وارث — اپریل 13، 2009 12:54 شام
بالکل بجا کہا مغل صاحب، غیر مردف غزل ہے اور قافیے دو ہیں، اصل قافیہ 'اَلتے' ہے اگر پہلے کو چھوڑ بھی دیا جائے تو۔
لام حرف روی ہے اور لام سے پہلے زبر کی حرکت قافیے میں شامل ہے، اور اسی سے قافیے چلتے، ڈھلتے، ملتے، جلتے وغیرہ ہیں!
مغزل — اپریل 13، 2009 1:10 شام
بہت شکریہ وارث صاحب ،
آصف شفیع — اپریل 13، 2009 2:52 شام
بالکل بجا کہا مغل صاحب، غیر مردف غزل ہے اور قافیے دو ہیں، اصل قافیہ 'اَلتے' ہے اگر پہلے کو چھوڑ بھی دیا جائے تو۔
لام حرف روی ہے اور لام سے پہلے زبر کی حرکت قافیے میں شامل ہے، اور اسی سے قافیے چلتے، ڈھلتے، ملتے، جلتے وغیرہ ہیں!
جی بالکل صحیح فرمایا وارث صاحب نے۔ یہ غیر مردف غزل ہے اور قافیے چلتے۔ ملتے۔ ڈھلتے۔ ۔ ۔ وغیرہ ہیں۔ البتہ اندرونی قافیے بھی استعمال ہوئے ہیں جنہیں بظاہر قافیے نہٰن کہہ سکتے۔ ان کو چھوڑ کر ہی غزل کی ہیئت بنتی ہے۔
آپ تینوں احباب کا شکریہ۔
ناہید — اپریل 13، 2009 4:15 شام
وقت لگتا ہے کسی رنگ میں‌ڈھلتے ڈھلتے
آصف، آپ تو شاعر بنتے جا رہے ہیں‌:) غزل اچھی ہے اور آپ داد کے حقدار ہیں۔
ناہید
الف عین — اپریل 13، 2009 5:34 شام
نیم حکیم ہوں نا، اس لئے دوسروں کی جان خطرے میں ڈالتا رہتا ہوں۔ بہر حال میری تشفی کر دی وارث، بہت شکریہ۔۔ آصف، غزل پر پھر ایک بار داد قبول کرو۔
آصف شفیع — اپریل 14، 2009 8:14 صبح
وقت لگتا ہے کسی رنگ میں‌ڈھلتے ڈھلتے
آصف، آپ تو شاعر بنتے جا رہے ہیں‌:) غزل اچھی ہے اور آپ داد کے حقدار ہیں۔
ناہید

ارے بھئی! آج کل شاعروں کو کون پوچھتا ہے۔ یہ دور تو شاعرات کا ہے۔ اشعار کی تعریف کیلیے شکریہ۔ مقطع کے بارے میں کیا خیال ہے؟
مغزل — اپریل 14، 2009 9:19 صبح
ارے بھئی! آج کل شاعروں کو کون پوچھتا ہے۔ یہ دور تو شاعرات کا ہے۔ اشعار کی تعریف کیلیے شکریہ۔ مقطع کے بارے میں کیا خیال ہے؟

ایک اضافہ کہ "" ترنم "" کا بھی ۔ :battingeyelashes:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%92-%DA%86%D9%84%D8%AA%DB%92%DB%94-%D8%A2%D8%B5%D9%81-%D8%B4%D9%81%DB%8C%D8%B9.20872/