آن رہ جائے گی تمہاری بھی۔ ۔ آصف شفیع

آصف شفیع — فروری 26، 2009 5:40 صبح
غزل:
آن رہ جائے گی تمہاری بھی
بات سن لو اگر ہماری بھی
ہم محبت کا خون کر آئے
جنگ جیتی بھی اور ہاری بھی
تم کو دعوٰی بھی ہے محبت کا
اور کرتے ہو آہ و زاری بھی
عشق میں امتحاں بھی آتے ہیں
کاٹ سکتی ہے سر کو آری بھی
اپنے دشمن سے میں نہیں ہارا
ضرب اس نے لگائی کاری بھی
سب سے دل کی کہا نہیں کرتے
کچھ تو رکھتے ہیں رازداری بھی
بے ثمر ہی رہے محبت میں
خوب ہم نے اٹھائی خواری بھی
زندگی میں سکوں نہیں آصف
آزمائی ہے شہریاری بھی
( آصف شفیع)
آصف شفیع — فروری 26، 2009 5:41 صبح
فاتح صاحب! غزل حاضر ہے۔
سید محمد نقوی — فروری 26، 2009 5:43 صبح
بہت عمدہ جناب
شکریہ
خرم شہزاد خرم — فروری 26، 2009 6:45 صبح
بے ثمر ہی رہے محبت میں
خوب ہم نے اٹھائی خواری بھی
بہت خوب اچھی غزل ہے جناب بہت شکریہ
مغزل — فروری 26، 2009 7:50 صبح
آصف صاحب
آداب۔
غزل نظر نواز ہوئی ، پیش کرنے کیلیے ممنو ن ہوں۔
سبھی اشعار خوب ہیں ، سو رسید حاضر ہے ۔
والسلام
فاتح — فروری 26، 2009 8:09 صبح
سبحان اللہ سبحان اللہ!
آصف صاحب! اس قدر خوبصورتی سے الفاظ کے موتی چن کر اشعار کی مالا بناتے ہیں آپ۔ سبحان اللہ! مبارک باد قبول ہو۔
آری کا قافیہ کمال خوبصورتی سے باندھا ہے۔
محمد وارث — فروری 26، 2009 4:35 شام
بہت خوبصورت غزل ہے آصف صاحب، لا جواب! سبھی اشعار بہت اچھے ہیں۔
ش زاد — مارچ 3، 2009 11:16 صبح
اچھی غزل ہے آصف صاحب
ایم اے راجا — مارچ 3، 2009 7:43 شام
واہ واہ کیا خوب غزل ہے آصف صاحب داد قبول ہو

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D9%86-%D8%B1%DB%81-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92-%DA%AF%DB%8C-%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%DA%BE%DB%8C%DB%94-%DB%94-%D8%A2%D8%B5%D9%81-%D8%B4%D9%81%DB%8C%D8%B9.19655/