عاطف ملک — ستمبر 23، 2019 5:34 صبح
ایک ٹوٹی پھوٹی سی کاوش:
آنکھ یہ پُرنم نہیں،لب پر گلہ کوئی نہیں
دل پہ ٹوٹی ہے قیامت اور صدا کوئی نہیں
ہم نے پوچھا، "کوئی شکوہ ہے؟" کہا، "کوئی نہیں"
یعنی فرقت کے سوا اب راستہ کوئی نہیں
عشق ہے، دیوانگی ہے، یا نظر کا ہے فریب
جس طرف جاؤں وہی ہے، ماسوا کوئی نہیں
خوب صورت، خوش تکلم، خوش ادا ہیں بے شمار
پھر بھی دل کی ضد یہی ہے، آپ سا کوئی نہیں
فکر ہے پیہم اذیت میں جیے جانے کا نام
آگہی ہے وہ مرض جس کی دوا کوئی نہیں
معرفت اپنی نہ ہو تو حق شناسی ہے محال
خود شناسی سے بڑی عاطفؔ عطا کوئی نہیں
عاطفؔ ملک
ستمبر ۲۰۱۹
یاسر شاہ — ستمبر 23، 2019 7:23 صبح
عاطف بھائی بہت پیاری غزل ہے -بہت ساری داد -

نور وجدان — ستمبر 23، 2019 7:47 صبح
ایک ٹوٹی پھوٹی سی کاوش:
آنکھ یہ پُرنم نہیں،لب پر گلہ کوئی نہیں
دل پہ ٹوٹی ہے قیامت اور صدا کوئی نہیں
ہم نے پوچھا، "کوئی شکوہ ہے؟" کہا، "کوئی نہیں"
یعنی فرقت کے سوا اب راستہ کوئی نہیں
عشق ہے، دیوانگی ہے، یا نظر کا ہے فریب
جس طرف جاؤں وہی ہے، ماسوا کوئی نہیں
خوب صورت، خوش تکلم، خوش ادا ہیں بے شمار
پھر بھی دل کی ضد یہی ہے، آپ سا کوئی نہیں
فکر ہے پیہم اذیت میں جیے جانے کا نام
آگہی ہے وہ مرض جس کی دوا کوئی نہیں
معرفت اپنی نہ ہو تو حق شناسی ہے محال
خود شناسی سے بڑی عاطفؔ عطا کوئی نہیں
عاطفؔ ملک
ستمبر ۲۰۱۹
عمدہ اشعار ہیں ★★★
نور وجدان — ستمبر 23، 2019 7:47 صبح
بحر کونسی ہے؟
محمد تابش صدیقی — ستمبر 23، 2019 8:01 صبح
معرفت اپنی نہ ہو تو حق شناسی ہے محال
خود شناسی سے بڑی عاطفؔ عطا کوئی نہیں
بہت خوب عاطف بھائی
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
محمد عدنان اکبری نقیبی — ستمبر 23، 2019 11:28 صبح
ماشاءاللہ ،
عمدہ اور شاندار اشعار کا شاہکار ۔
زبردست غزل
عاطف ملک — ستمبر 23، 2019 12:12 شام
عاطف بھائی بہت پیاری غزل ہے -بہت ساری داد -
بہت بہت شکریہ یاسر بھائی
نوازش
بہت بہت شکریہ
ماشاءاللہ ،
عمدہ اور شاندار اشعار کا شاہکار ۔
زبردست غزل
بہت شکریہ عدنان بھائی
فاخر رضا — ستمبر 23، 2019 12:25 شام
ماشاء اللہ بہت منجھے ہوئے اشعار ہیں. کیا مصرعہ طرح تھا
عاطف ملک — ستمبر 23، 2019 3:55 شام
ماشاء اللہ بہت منجھے ہوئے اشعار ہیں. کیا مصرعہ طرح تھا
بہت شکریہ

مصرع یہ تھا
"کی عبادت بھی تو وہ جس کی جزا کوئی نہیں"
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 24، 2019 2:58 صبح
کیا بات ہے !!!! بہت اعلیٰ عاطف بھائی! بہت خوب غزل ہے !
آپ کی شاعری روز بروز خوب سے خوب تر ہوتی جارہی ہے ۔ ماشاء اللہ۔
ایک چھوٹی سی تجویز یہ ہے کہ تیسرے شعر کے مصرع ثانی میں جس طرف جاؤں کے بجائے "جس طرف دیکھوں" کرلیجئے ۔ جانے کی نسبت دیکھنا زیادہ بلیغ ہے ۔ یوں شعر میں گہرائی بھی آجائے گی اور پہلے مصرع سے مربوط بھی ہوجائے گا۔
عشق ہے، دیوانگی ہے، یا نظر کا ہے فریب
جس طرف دیکھوں وہی ہے، ماسوا کوئی نہیں
عاطف ملک — ستمبر 24، 2019 2:29 شام
خوب غزل ہے !
آپ کی شاعری روز بروز خوب سے خوب تر ہوتی جارہی ہے ۔ ماشاء اللہ۔
بہت خوشی ہوئی آپ کے اس تبصرے سے
چھوٹی سی تجویز یہ ہے کہ تیسرے شعر کے مصرع ثانی میں جس طرف جاؤں کے بجائے "جس طرف دیکھوں" کرلیجئے ۔ جانے کی نسبت دیکھنا زیادہ بلیغ ہے ۔ یوں شعر میں گہرائی بھی آجائے گی اور پہلے مصرع سے مربوط بھی ہوجائے گا۔
عشق ہے، دیوانگی ہے، یا نظر کا ہے فریب
جس طرف دیکھوں وہی ہے، ماسوا کوئی نہیں
"دیکھوں" بہتر متبادل معلوم ہو رہا ہے.ایسے ہی کر لیتا ہوں

محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 24، 2019 3:16 شام
ایک ٹوٹی پھوٹی سی کاوش:
آنکھ یہ پُرنم نہیں،لب پر گلہ کوئی نہیں
دل پہ ٹوٹی ہے قیامت اور صدا کوئی نہیں
ہم نے پوچھا، "کوئی شکوہ ہے؟" کہا، "کوئی نہیں"
یعنی فرقت کے سوا اب راستہ کوئی نہیں
عشق ہے، دیوانگی ہے، یا نظر کا ہے فریب
جس طرف جاؤں وہی ہے، ماسوا کوئی نہیں
خوب صورت، خوش تکلم، خوش ادا ہیں بے شمار
پھر بھی دل کی ضد یہی ہے، آپ سا کوئی نہیں
فکر ہے پیہم اذیت میں جیے جانے کا نام
آگہی ہے وہ مرض جس کی دوا کوئی نہیں
معرفت اپنی نہ ہو تو حق شناسی ہے محال
خود شناسی سے بڑی عاطفؔ عطا کوئی نہیں
عاطفؔ ملک
ستمبر ۲۰۱۹
خوبصورت خوبصورت!
محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 24، 2019 3:17 شام
فکر ہے پیہم اذیت میں جیے جانے کا نام
آگہی ہے وہ مرض جس کی دوا کوئی نہیں
بہت اچھے!!!
فرحان محمد خان — ستمبر 25، 2019 7:23 شام
❤❤
محمداحمد — اکتوبر 1، 2019 8:58 صبح
بہت ہی عمدہ !
کیا کہنے!
بہت خوبصورت غزل ہے۔