ش زاد — اکتوبر 17، 2008 9:46 شام
آنکھوں سے اپنی شوقِ نظارا نہیں گیا
جب تک کے تن سے سر کو اُتارا نہیں گیا
اُس نے پلٹ کے دیکھ لیا تھا بچشمِ نم
بس اُس کے بعد ہم سے پُکارا نہیں گیا
آئینہ دیکھ اُس پہ وہ برسا نہ پوچھئیے
پتھر سے اپنا روُپ سہارا نہیں گیا
سُورج کی ظلمتوں کا سبب یہ ہوا ! کہ میں
سُورج کے سامنے سے گُزارا نہیں گیا
کیا راہِ اِلتفات میں دیتے تُمھارا ساتھ
ہم سے تو اپنا بوجھ سہارا نہیں گیا
اُس نوبہارِ حُسن کی آمد نہیں ہوئی
گُلشن کو اِس بہار ، بُہارا نہیں گیا
کشکول ہم نے ہاتھ میں لے تو لیا !مگر
سر سے انا کا بوجھ اُتارا نہیں گیا
ش زاد
الف عین — اکتوبر 18، 2008 10:39 صبح
کیا گلشنِ سخن کو بُہارا ہے شین۔
لیکن ’بُہارا پر پیش دے دینا تھا ورنی اکثر لوگوں کو یہ لفظ سمجھ میں نہیں آئے گا۔
غزل اچھی ہے۔
ش زاد — اکتوبر 18، 2008 1:06 شام
بہت نوازش حضرت
مجھے خوشی ہے کے آپ میرے کلام کا بغور مطالعہ فرما رہے ہیں اپنی قیمتی آرء سے نوازتے رہیے گا
شکریہ
مغزل — اکتوبر 18، 2008 1:09 شام
عنایت صاحب رسید حاضر ہے ۔۔۔ ابھی آیا ۔۔
ش زاد — اکتوبر 18، 2008 1:31 شام
حضور رسید کیسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں کچھ سمجھا نہیں؟
الف عین — اکتوبر 18، 2008 6:45 شام
شین۔ ہمارے محمود مغل ہر وقت رسید بک لئے گھومتے ہیں۔ جہاں کسی کی شعری تخلیق دیکھی، پہلے رسید کاٹ دیتے ہیں، کہ بعد میں فرصت سے اس پر تنقید فرمائیں گے۔
ناہید — اکتوبر 23، 2008 2:01 صبح
غزل اچھی ہے۔ پسند آئی، داد پیشَ خدمت ہے۔
غزل کا یہ شعر
سُورج کی ظلمتوں کا سبب یہ ہوا ! کہ میں
سُورج کے سامنے سے گُزارا نہیں گیا
معنوی لحاظ سے کچھ صحیح نہیں محسوس ہو رہا ہے۔
اور لفظِ بُہارا کبھی سننے/پڑھنے میں نہیںآیا۔ اور لغات پاس نہ ہونے کی وجہ سے معنی تک رسائی بھی نا ممکن ہے لہذا آپ سے ہی امید کی جا سکتی ہے کہ الجھن دور کریں۔
شکریہ
ناہید
مغزل — اکتوبر 23، 2008 5:43 صبح
بہُار (نا) = جاروب کشی
مغزل — اکتوبر 23، 2008 5:46 صبح
حضور رسید کیسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں کچھ سمجھا نہیں؟
رسید اس لیے کہ آپ 15 دنوں کیلئے کراچی سے باہر جارہے ہیں ۔
واپس تشریف لائیے گا ۔۔ تو ۔۔ بات ہوگی۔۔
کیا سمجھے ۔۔ ؟؟
ش زاد — اکتوبر 28، 2008 6:07 شام
آپ پر سلامتی ہو
میں واپس آ چُکا ہوں
مُغل صاحب سُنائے مِزاج کیسے ہیں آپ کے؟
ش زاد — اکتوبر 28، 2008 6:14 شام
غزل اچھی ہے۔ پسند آئی، داد پیشَ خدمت ہے۔
غزل کا یہ شعر
سُورج کی ظلمتوں کا سبب یہ ہوا ! کہ میں
سُورج کے سامنے سے گُزارا نہیں گیا
معنوی لحاظ سے کچھ صحیح نہیں محسوس ہو رہا ہے۔
اور لفظِ بُہارا کبھی سننے/پڑھنے میں نہیںآیا۔ اور لغات پاس نہ ہونے کی وجہ سے معنی تک رسائی بھی نا ممکن ہے لہذا آپ سے ہی امید کی جا سکتی ہے کہ الجھن دور کریں۔
شکریہ
ناہید
میرا خیال ہے مُغل صاحب کے جواب کے بعد مزید وضاحت کی ضرورت تو نہیں ہو گی محترمہ؟
ش زاد — نومبر 24، 2008 9:51 شام
اپنی جب اپنے پاوں پہ دستار گِر پڑی
کیوں قاتِلوں ک ہاتھ سے تلوار گِر پڑی
پہلے تو لوگ سائہِ دیوار پر گِرے
پھِر اُس ک بعد اُن پہ وہ دیوار گِر پڑی
ش زاد