آنکھوں میں اب یقین کی جنت نہیں رہی

ظہیراحمدظہیر — مارچ 2، 2016 6:25 شام
آنکھوں میں اب یقین کی جنت نہیں رہی
لہجے میں اعتماد کی شدت نہیں رہی
آشوبِ دہر ایسا کہ دنیا تو برطرف
خود پر بھی اعتبار کی ہمت نہیں رہی
- ق -
کس کس گلی نہ لے گئی آشفتگی ہمیں
کس کس نگر میں درد کی شہرت نہیں رہی
ویران اب بھی رہتا ہے عالم خیال کا
تنہائیوں میں پہلی سی وحشت نہیں رہی
ہر شام اب بھی اٹھتی ہے سینے میں ہُوک سی
بیکار گھومنے کی وہ عادت نہیں رہی
ہر شام اب بھی جمتی ہیں لوگوں کی بیٹھکیں
یارانِ خوش خیال کی صحبت نہیں رہی
آنے لگے ہیں راس ہمیں ہجر کے عذاب
نظروں میں اب وصال کی جنت نہیں رہی
۔
ہم ہوگئے ہیں خود کسی آنگن کا سایہ اب
سائے میں بیٹھنے کی وہ فرصت نہیں رہی
رونق گلی کی لے گیا آسیبِ روزگار
وہ مطمئن مزاج سی خلقت نہیں رہی
ڈرتے تھے کس طرح سے کریں گے وضاحتیں
وہ مل کے رودیئے تو یہ دِقت نہیں رہی
کس کس کا دل ٹٹول کے دیکھیں ظہیر اب
خود کو تلاش کرنے کی مہلت نہیں رہی
ظہیر احمد ظہیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۰۳​
یاز — مارچ 2، 2016 7:08 شام
رونق گلی کی لے گیا آسیبِ روزگار
وہ مطمئن مزاج سی خلقت نہیں رہی
بہت خوب جی۔ عمدہ غزل کہی ہے جناب
فاتح — مارچ 2، 2016 7:32 شام
کس کس کا دل ٹٹول کے دیکھیں ظہیر اب
خود کو تلاش کرنے کی مہلت نہیں رہی
اچھوتا مضمون کس خوبی سے بیان کر گئے۔ خوب ہے ظہیر بھائی
محمد تابش صدیقی — مارچ 2، 2016 7:55 شام
بہت اعلٰی ظہیر بھائی.
آشوبِ دہر ایسا کہ دنیا تو برطرف
خود پر بھی اعتبار کی ہمت نہیں رہی

ہم ہوگئے ہیں خود کسی آنگن کا سایہ اب
سائے میں بیٹھنے کی وہ فرصت نہیں رہی

کس کس کا دل ٹٹول کے دیکھیں ظہیر اب
خود کو تلاش کرنے کی مہلت نہیں رہی
محمد تابش صدیقی — مارچ 2، 2016 7:56 شام
اس مصرع میں غالباً ٹائپو ہے.
آنکھوں اب یقین کی جنت نہیں رہی
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 12:20 صبح
رونق گلی کی لے گیا آسیبِ روزگار
وہ مطمئن مزاج سی خلقت نہیں رہی
بہت خوب جی۔ عمدہ غزل کہی ہے جناب

بہت شکریہ یاز صاحب ۔ بہت عنایت!
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 12:22 صبح
کس کس کا دل ٹٹول کے دیکھیں ظہیر اب
خود کو تلاش کرنے کی مہلت نہیں رہی
اچھوتا مضمون کس خوبی سے بیان کر گئے۔ خوب ہے ظہیر بھائی

فاتح بھائی سراسر آپ کی محبت ہے ۔ آپ کے چند الفاظ میرے لئے سرمایہ ہوتے ہیں۔ خدا آپ کو سلامت رکھے۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 12:26 صبح
بہت اعلٰی ظہیر بھائی.

تابش بھائی بہت ممنون ہوں آپ کا ۔ آپ جیسےسخن فہم اگر ان ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو نوازدیں تو میرے لئے خوشی کی بات ہے۔ اللہ سلامت رکھے ۔ ٹائپو کی نشاندہی کے لئے بھی الگ سے شکریہ۔
نیرنگ خیال — مارچ 4، 2016 7:10 صبح
آشوبِ دہر ایسا کہ دنیا تو برطرف
خود پر بھی اعتبار کی ہمت نہیں رہی
ہائے۔۔۔۔
ویران اب بھی رہتا ہے عالم خیال کا
تنہائیوں میں پہلی سی وحشت نہیں رہی
واہ۔۔۔۔
آنے لگے ہیں راس ہمیں ہجر کے عذاب
نظروں میں اب وصال کی جنت نہیں رہی
کیا کہنے۔۔۔۔ عمدہ
رونق گلی کی لے گیا آسیبِ روزگار
وہ مطمئن مزاج سی خلقت نہیں رہی
سچ۔۔۔ حق۔۔۔ واہ۔۔۔۔
کس کس کا دل ٹٹول کے دیکھیں ظہیر اب
خود کو تلاش کرنے کی مہلت نہیں رہی
کیا مقطع ہے۔۔۔ سبحان اللہ۔۔۔ کس کس کا دل ٹٹول کے دیکھیں ظہیر اب۔۔۔ واہ سئیں۔۔۔
سید اسد معروف — مارچ 4، 2016 8:29 صبح
ڈرتے تھے کس طرح سے کریں گے وضاحتیں
وہ مل کے رودیئے تو یہ دِقت نہیں رہی
کیا خوبصورت بات کی ہے۔۔بہت خوب
ظہیراحمدظہیر — مارچ 6، 2016 6:09 صبح
کیا مقطع ہے۔۔۔ سبحان اللہ۔۔۔ کس کس کا دل ٹٹول کے دیکھیں ظہیر اب۔۔۔ واہ سئیں۔۔۔

مہربانی ادا سئیں !! اوھانجی محبتون کھپے!
ظہیراحمدظہیر — مارچ 6، 2016 6:10 صبح
ڈرتے تھے کس طرح سے کریں گے وضاحتیں
وہ مل کے رودیئے تو یہ دِقت نہیں رہی
کیا خوبصورت بات کی ہے۔۔بہت خوب

بہت ممنون ہوں پذیرائی پر اس بھائی ۔ بہت شکریہ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%A8-%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%AC%D9%86%D8%AA-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%B1%DB%81%DB%8C.88417/