آنے لگا ہے راس غمِ عاشقی مجھے

عاطف ملک — اگست 26، 2019 5:12 صبح
آنے لگا ہے راس غمِ عاشقی مجھے
دینے لگی ہے لطف یہ دیوانگی مجھے

وہ دے رہا تھا مجھ کو تسلی کہ خوش ہے وہ
اور لگ رہی تھی آنکھ میں اس کی نمی مجھے
گو ان کی مثل ہونے کا دعوٰی نہیں رہا
کہتے ہیں پھر بھی عکس انھی کا سبھی مجھے
مختار ہوں تو کیسے ہوں؟ عاجز ہوں میں تو کیوں؟
الجھن تمام عمر رہی بس یہی مجھے
خوشیاں ہیں، رونقیں ہیں، بہاریں ہیں چار سو
اور آ رہا ہے یاد برابر کوئی مجھے
آیا نہ راس مجھ کو کسی دوسرے کا قرب
محسوس ہو رہی ہے تمھاری کمی مجھے
رکھی جو تُو نے دل میں مرے جستجو کی آگ
در در تری تلاش میں وہ لے گئی مجھے
پہلے تو جرمِ عشق میں کھینچیں گے دار پر
اور اس کے بعد لوگ کہیں گے ولی مجھے
اک شمع تیرے دل میں فروزاں ہے عشق کی
عاطفؔ بتا رہی ہے تری شاعری مجھے

عاطفؔ ملک
اگست ۲۰۱۹
محمد عدنان اکبری نقیبی — اگست 26، 2019 7:29 صبح
آیا نہ راس مجھ کو کسی دوسرے کا قرب
محسوس ہو رہی ہے تمھاری کمی مجھے
بہت عمدہ زبردست
پہلے تو جرمِ عشق میں کھینچیں گے دار پر
اور اس کے بعد لوگ کہیں گے ولی مجھے
واہ واہ ،
کیا کہنے ہیں ،
شاندار غزل عاطف بھیا ۔
محمد تابش صدیقی — اگست 26، 2019 7:47 صبح
وہ دے رہا تھا مجھ کو تسلی کہ "خوش ہوں میں"
اور لگ رہی تھی آنکھ میں اس کی نمی مجھے

مختار ہوں تو کیسے ہوں؟ عاجز ہوں میں تو کیوں؟
الجھن تمام عمر رہی بس یہی مجھے
بہت خوب
فرحان محمد خان — اگست 26، 2019 10:43 صبح
واہ واہ واہ
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
عاطف ملک — اگست 26، 2019 2:10 شام
واہ واہ ،
کیا کہنے ہیں ،
شاندار غزل عاطف بھیا ۔
بہت شکریہ عدنان بھائی
متشکرم
واہ واہ واہ
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
شکریہ فرحان بھیا:)
ظہیراحمدظہیر — اگست 28، 2019 3:00 صبح
بہت خوب عاطف! کیا خوب غزل ہے! کئی اچھے اشعار ہیں!
وہ دے رہا تھا مجھ کو تسلی کہ "خوش ہوں میں"
اور لگ رہی تھی آنکھ میں اس کی نمی مجھے
مندرجہ بالا شعر کے بارے میں کچھ کہنا چاہوں گا۔ چونکہ مصرع اول آپ نے لفظ "کہ" استعمال کیا ہے اس لئے اس کے بعد واوین کی ضرورت نہیں ۔ اب یہ مصرع یوں ہونا چاہئے:
وہ دے رہا تھا مجھ کو تسلی کہ خوش ہے وہ
اور لگ رہی تھی آنکھ میں اس کی نمی مجھے
ایسا کرنے سے واوین والے مصرع کی تعقید دور ہوگئی۔
عاطف ملک — اگست 28، 2019 4:24 صبح
بہت خوب عاطف! کیا خوب غزل ہے! کئی اچھے اشعار ہیں!
حوصلہ افزائی کیلیے بہت ممنون ہوں جناب:)
وہ دے رہا تھا مجھ کو تسلی کہ "خوش ہوں میں"
اور لگ رہی تھی آنکھ میں اس کی نمی مجھے
مندرجہ بالا شعر کے بارے میں کچھ کہنا چاہوں گا۔ چونکہ مصرع اول آپ نے لفظ "کہ" استعمال کیا ہے اس لئے اس کے بعد واوین کی ضرورت نہیں ۔ اب یہ مصرع یوں ہونا چاہئے:
وہ دے رہا تھا مجھ کو تسلی کہ خوش ہے وہ
اور لگ رہی تھی آنکھ میں اس کی نمی مجھے
ایسا کرنے سے واوین والے مصرع کی تعقید دور ہوگئی۔
جی، بہتر۔
تصیح کر لیتا ہوں۔
یاسر شاہ — اگست 31، 2019 4:12 شام
ما شاء الله خوب غزل ہے عاطف بھائی -:)
عاطف ملک — اگست 31، 2019 7:35 شام
ما شاء الله خوب غزل ہے عاطف بھائی -:)
آپ کا حسنِ نظر ہے یاسر بھائی:)
شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D9%86%DB%92-%D9%84%DA%AF%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%B1%D8%A7%D8%B3-%D8%BA%D9%85%D9%90-%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D9%82%DB%8C-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92.108195/