آواز۔ ۔ ۔ ۔

محمود احمد غزنوی — جنوری 19، 2010 8:14 شام
آواز
وہ تو واقف نہ تھی الفاظ کے تقدّس سے۔ ۔ ۔ ۔
معنی و حرف کی حرمت سے بھی آگاہ نہ تھی!
اس سے شکایت کیسی؟
اپنے ہی عہدِ محبت کا جسے پاس نہیں۔ ۔ ۔
کوئی احساس نہیں۔ ۔ ۔ ۔
اس سے گلہ کیا معنی؟
اس سے پہلے کہ ہر اک لفظ تازیانہ بنے۔ ۔ ۔
حرفِ شکوہ سے کوئی اور ہی افسانہ بنے
اپنے خاموش تکلّم کا بھرم رکھ لینا۔ ۔ ۔ ۔
کچھ مت کہنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بس چُپ رہنا !!!
الف عین — جنوری 20، 2010 5:11 شام
اچھی نظم ہے، بس ایک حرف تنگ کر رہا ہے، تازیانہ۔۔ یہاں جو ارکان استعمال ہوئے ہیں، ان میں درست نہیں بیٹھتا۔
مغزل — جنوری 28، 2010 1:59 شام
بہت خوب محمود صاحب ، باقی گفتگو تو ہو ہی چکی ہے ، سو میری جانب سے مبارکباد، گر قبول افتد زہے عزو شرف

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2%DB%94-%DB%94-%DB%94-%DB%94.27934/