آپ اگر مل جاتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔

محمود احمد غزنوی — اگست 19، 2010 7:45 صبح
آپ اگر مل جاتے ہیں
آپ اگر مل جاتے ہیں۔ ۔
پھول سبھی کھل جاتے ہیں
یاد سے دل بھرتا ہی نہیں
زخم تو سب بھر جاتے ہیں
بیتا غم پھر بیت رہا ہے۔ ۔ ۔
گذرے دن پھر آتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔
آپکی باتیں، لہجے، سانسیں
گیتوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ ۔
نظریں جس لمحے ملتی ہیں
وقت سبھی تھم جاتے ہیں۔ ۔
آپ کا غم اک پارس پتھر۔ ۔ ۔
کندن ہم بن جاتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔
روح سے لیکر جسم تلک۔ ۔
آپ سے سارے ناتے ہیں۔ ۔ ۔
جانیں کیوں محمود ابھی تک
اس بت سے گھبراتے ہیں۔ ۔ ۔
الف عین — اگست 19، 2010 11:20 صبح
پہلی بات یہ کہ یہ نظم ہے یا غزل؟
غزل ہے تو کچھ مصرعوں کے افاعیل چیک کر لیں۔
فعلن فعلن فعلن فع/فعل
سے تقطیع کر کے۔
جیسے
آپکی باتیں، لہجے، سانسیں
فعلن فعلن فعلن فعلن
سید نصرت بخاری — ستمبر 2، 2010 6:18 صبح
الف عین صاحب کی رائے کی تائید کرتا ہوں۔’’کندن ہم بن جاتے ہیں‘‘کی بجائے ہم کندن بن جاتے ہیں‘‘ہونا چاہیے۔’’جانیں‘‘کی بجائے ’’جانے ‘‘ہوگا۔نسرت بخاری

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D9%BE-%D8%A7%DA%AF%D8%B1-%D9%85%D9%84-%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA%DB%94-%DB%94-%DB%94-%DB%94-%DB%94.31149/