آپ بھی اللہ اللہ کرتے، ہم بھی لیلیٰ لیلیٰ کرتے

راحیل فاروق — اپریل 5، 2016 10:40 صبح
بڑ تو ہانکیں گے دیوانے، ایسا کرتے!ً ویسا کرتے!
حسن کی بھیک پہ پلنے والے عشق نہ کرتے تو کیا کرتے؟
میرا زور بھی میرے رب پر، تیرا زور بھی میرے رب پر
میری مسجد ڈھانے والے! اپنا قبلہ سیدھا کرتے
ہم نے آپ کو کب روکا تھا؟ آپ نے روکا، ظلم کمایا
آپ بھی اللہ اللہ کرتے، ہم بھی لیلیٰ لیلیٰ کرتے
ایک نظر کی مار تھے واعظ، زاہد، عابد، قاضی، مفتی
تیرے حسن کا دم بھرتے سب، تیرے عشق کا دعویٰ کرتے
غم میں ماتم ہوتا ہی ہے تم کو کیا شے مانع آئی؟
اللہ ہاتھ سلامت رکھے، دل کا بوجھ تو ہلکا کرتے!
ایک کا سینہ چاک پڑا ہے ایک کو نغمے سوجھ رہے ہیں
گل اور بلبل لڑ نہیں سکتے ورنہ باغ کو آدھا کرتے
ٹوپی، ڈاڑھی، سجدہ، روزہ، یہ سب کیا ہے اے مولانا؟
اتنا سہل اگر ہوتا تو ہم بھی خدا سے دھوکا کرتے
شعر سمجھ کر جھوم رہے ہو، راحیلؔ میاں یہ دستک تھی
سننے والوں نے سن بھی لی، تم رہے آہا آہا کرتے!
راحیلؔ فاروق
(23 جنوری 2015ء)
یاز — اپریل 5، 2016 10:49 صبح
بہت عمدہ جناب۔ شاندار غزل ہے۔
محمد تابش صدیقی — اپریل 5، 2016 10:58 صبح
ہمیشہ کی طرح جاندار غزل۔ بہت عمدہ
میرا زور بھی میرے رب پر، تیرا زور بھی میرے رب پر
میری مسجد ڈھانے والے! اپنا قبلہ سیدھا کرتے
کاش
ایک کا سینہ چاک پڑا ہے ایک کو نغمے سوجھ رہے ہیں
گل اور بلبل لڑ نہیں سکتے ورنہ باغ کو آدھا کرتے
واہ، کیا خوب تخیل ہے
بہت خوبصورت غزل راحیل بھائی۔ کیا کہنے
عباس اعوان — اپریل 5، 2016 11:05 صبح
کیا غزل کہی، ہر ایک شعر پھڑکتا ہوا، اور سامعین کو پھڑکاتا ہوا۔
لطف آ گیا۔ زبردست۔
بہت بہت شکریہ برادر
سید عاطف علی — اپریل 5، 2016 11:16 صبح
واہ راحیل ۔ خوب رنگ بکھیرے ہیں ۔
مقطع میں کچھ قطع کر نے کی ضرورت تو نہیں ہے ۔
محمد وارث — اپریل 5، 2016 11:18 صبح
خوب غزل ہے جناب، لاجواب
سید لبید غزنوی — اپریل 5، 2016 11:35 صبح
واللہ بہت ہی پیاری غزل ہے اس کےلیے آپ کو جتنی بھی داد دی جائے کم ہے اور یہ شعر تو مجھے بہت ہی پیارا لگا۔۔۔۔
ٹوپی، ڈاڑھی، سجدہ، روزہ، یہ سب کیا ہے اے مولانا؟
اتنا سہل اگر ہوتا تو ہم بھی خدا سے دھوکا کرتے
راحیل صاحب دل میں آپ سے ملاقات کا شوق پیدا ہو گیا ہے ۔۔۔اللہ آپکی عمرمیں علم میں اور عمل میں برکت دے آمین۔۔
کیا مجھے یہ غزل اپنے پاس موجود ڈائری میں نقل کرنے کی اجازت ہے۔۔۔۔ کم ہی ایسے کلام ہوتے ہیں جو دل میں کھب جاتے ہیں۔۔
بہت دعائیں آباد رہیے۔۔
کاشف اختر — اپریل 5، 2016 1:20 شام
بہت خوب جناب راحیل فاروق صاحب! واہ واہ ۔ بہت عمدہ غزل ہے !
نایاب — اپریل 5، 2016 4:48 شام
واہہہہہہہہہ
کلاسیک ۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
الف عین — اپریل 5، 2016 5:48 شام
واہ واہ۔ عمدہ غزل ہے
قمرآسی — اپریل 5، 2016 7:56 شام
بڑ تو ہانکیں گے دیوانے، ایسا کرتے!ً ویسا کرتے!
حسن کی بھیک پہ پلنے والے عشق نہ کرتے تو کیا کرتے؟
میرا زور بھی میرے رب پر، تیرا زور بھی میرے رب پر
میری مسجد ڈھانے والے! اپنا قبلہ سیدھا کرتے
ہم نے آپ کو کب روکا تھا؟ آپ نے روکا، ظلم کمایا
آپ بھی اللہ اللہ کرتے، ہم بھی لیلیٰ لیلیٰ کرتے
ایک نظر کی مار تھے واعظ، زاہد، عابد، قاضی، مفتی
تیرے حسن کا دم بھرتے سب، تیرے عشق کا دعویٰ کرتے
غم میں ماتم ہوتا ہی ہے تم کو کیا شے مانع آئی؟
اللہ ہاتھ سلامت رکھے، دل کا بوجھ تو ہلکا کرتے!
ایک کا سینہ چاک پڑا ہے ایک کو نغمے سوجھ رہے ہیں
گل اور بلبل لڑ نہیں سکتے ورنہ باغ کو آدھا کرتے
ٹوپی، ڈاڑھی، سجدہ، روزہ، یہ سب کیا ہے اے مولانا؟
اتنا سہل اگر ہوتا تو ہم بھی خدا سے دھوکا کرتے
شعر سمجھ کر جھوم رہے ہو، راحیلؔ میاں یہ دستک تھی
سننے والوں نے سن بھی لی، تم رہے آہا آہا کرتے!
راحیلؔ فاروق
(23 جنوری 2015ء)
بہت عمدہ غزل کہی جناب ۔۔۔۔۔۔۔ بہت سی داد حاضر ہے۔۔ قبول کیجئے
ابن رضا — اپریل 6، 2016 4:05 صبح
واہ واہ بہت خوب کلام ہے
جاسمن — اپریل 6، 2016 5:19 صبح
بہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہت خوبصورت
ایک شاندار غزل
دعاؤں بھری داد
مریم افتخار — اپریل 6، 2016 2:37 شام
:applause::applause::applause::applause::applause:
یوسف سلطان — اپریل 6، 2016 5:06 شام
بہت خوب !
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
سلمان دانش جی — اپریل 6، 2016 5:52 شام
واہ صاحب۔ مزا آیا ہے
میرا زور بھی میرے رب پر، تیرا زور بھی میرے رب پر​
میری مسجد ڈھانے والے! اپنا قبلہ سیدھا کرتے َََََ۔​
راحیل فاروق — اپریل 6، 2016 7:53 شام
آپ سب کے اتنے پیار کا بہت بہت شکریہ۔ اللہ آپ کی محبتیں قائم دائم رکھے۔
مقطع میں کچھ قطع کر نے کی ضرورت تو نہیں ہے ۔
میں سمجھا نہیں۔ اگر اصلاح مقصود ہے تو ارشاد فرمائیے۔
کیا مجھے یہ غزل اپنے پاس موجود ڈائری میں نقل کرنے کی اجازت ہے
آپ کو ڈائری میں 'اصل' کرنے کی بھی اجازت ہے، سرکار۔ بصد شوق!
سید عاطف علی — اپریل 6، 2016 9:04 شام
میں سمجھا نہیں۔ اگر اصلاح مقصود ہے تو ارشاد فرمائیے۔
!
اصلاح تو نہیں البتہ مجھے گمان گزرا کہ مصرع اولی (مقطع) میں کچھ ٹائپو کی وجہ سے وزن بحر سے ناہموار ہو رہا ہے ۔ میرے خیال میں" رہے ہو" میں "ہو "زائد ہے بحر کے حساب سے فاضل ہے۔
شعر سمجھ کر جھوم رہے ہو ، راحیلؔ میاں یہ دستک تھی
سلمان دانش جی — اپریل 6، 2016 11:34 شام
اصلاح تو نہیں البتہ مجھے گمان گزرا کہ مصرع اولی (مقطع) میں کچھ ٹائپو کی وجہ سے وزن بحر سے ناہموار ہو رہا ہے ۔ میرے خیال میں" رہے ہو" میں "ہو "زائد ہے بحر کے حساب سے فاضل ہے۔
شعر سمجھ کر جھوم رہے ہو ، راحیلؔ میاں یہ دستک تھی
عاطف صاحب سے متفق ہؤں. معاملہ راحیل پر اٹکتا ہے،
شعر سمجھ کر جھوم اُٹھے، راحیلؔ میاں یہ دستک تھی
راحیل فاروق — اپریل 7، 2016 12:19 صبح
اصلاح تو نہیں البتہ مجھے گمان گزرا کہ مصرع اولی (مقطع) میں کچھ ٹائپو کی وجہ سے وزن بحر سے ناہموار ہو رہا ہے ۔ میرے خیال میں" رہے ہو" میں "ہو "زائد ہے بحر کے حساب سے فاضل ہے۔
شعر سمجھ کر جھوم رہے ہو ، راحیلؔ میاں یہ دستک تھی
عاطف صاحب سے متفق ہؤں. معاملہ راحیل پر اٹکتا ہے،
شعر سمجھ کر جھوم اُٹھے، راحیلؔ میاں یہ دستک تھی
بجا۔ اس بحر کی تقطیع دراصل نسبتاً پیچیدہ واقع ہوئی ہے۔ لہٰذا دو باتیں ممکن ہیں۔ یا تو میں آپ کا اعتراض نہیں سمجھ پایا۔ یا آپ پر معاملہ واضح نہیں ہو سکا۔
میں اس معرکۃالآرا بحر کی تقطیع کے لیے ایک طبع زاد قاعدے سے کام لیتا آیا ہوں جو میرؔ سے لے کر میرا جی تک بلااستثنا کام آتا ہے۔ میں یہ قاعدہ بھی مناسب موقع پر بیان کروں گا لیکن فی الحال صورتِ حال اس بات کی متقاضی ہے کہ کچھ اور لوگوں سے رائے لے لی جائے۔ میری خواہش ہو گی کہ محمد وارث بھائی، الف عین صاحب اور مزمل شیخ بسمل بھائی اس معاملے میں کچھ ارشاد فرمائیں۔
صفحات: 1 2 3 4

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D9%BE-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92%D8%8C-%DB%81%D9%85-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%D9%B0-%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%D9%B0-%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92.89102/