ڈاکٹر ابرار عمر — نومبر 26، 2012 2:51 شام
آپ کے جو قریب ہو جائے
وہ ہمارا حبیب ہو جائے
دھوپ بارش سے دوستی کر لے
آج موسم عجیب ہو جائے
جو تمہاری ہواؤں کو چھو لے
خوشبوؤں کا نقیب ہو جائے
دولت درد پاس ہو نہ اگر
میرا فن بھی غریب ہو جائے
پھول زندہ رہے تو کیسے رہے
شاخ جب خود صلیب ہو جائے
جس کا تُو نام لے عمر اُس کا
شہر سارا رقیب ہو جائے
قرۃالعین اعوان — نومبر 26، 2012 3:32 شام
خوب!
اسامہ جمشید — نومبر 27، 2012 7:10 صبح
واہ واہ واہ
الف عین — نومبر 27، 2012 3:58 شام
داد قبول کریں۔ بہت اچھی غزل ہے
مقدس — نومبر 27، 2012 4:00 شام
آپ وہی ڈاکٹر ابرار عمر تو نہیں ہیں ناں جو ریڈیو پر پروگرامز بھی کرتے ہیں
اسامہ جمشید — نومبر 28، 2012 8:51 صبح
جي يه وهي ڈاكٹر ابرار عمر هيں جو ريڈيو پر كام كرتے هيں اور شاعر بھي هيں اور استاد اعجاز عبيد كي برقي لايبريري ميں انكا شعري مجموعه بھهي هے اور خوش قسمتي سے مجھ عاجز كي تقريبا هر هفته ان سے ملاقات بھي هوتي رهتي هے
الف عین — نومبر 29، 2012 4:23 صبح
جي يه وهي ڈاكٹر ابرار عمر هيں جو ريڈيو پر كام كرتے هيں اور شاعر بھي هيں اور استاد اعجاز عبيد كي برقي لايبريري ميں انكا شعري مجموعه بھهي هے اور خوش قسمتي سے مجھ عاجز كي تقريبا هر هفته ان سے ملاقات بھي هوتي رهتي هے
اوہو، میں یہی یاد کر رہا تھا کہ یہ تو جانی پہچانی شخصیت لگتے ہیں۔ خوش آمدید ابرار عمر۔
محمد حفیظ الرحمٰن — نومبر 29، 2012 6:24 صبح
واہ ڈاکٹر ابرار عمر صاحب ۔ بہت اچھی ٍغزل ہے۔ بہت سی داد اس غزل کے لئے۔