ش زاد — دسمبر 6، 2008 9:32 شام
آپ ہی سے ہیں رابطے اپنے
اتنے محدود سلسلے اپنے
منزلوں کا نشان تو نہ مِلا
مِل گئے ہم کو راستے اپنے
ایک دوجے سے اتنا دور ہوئے
مِٹ گئے خُود ہی فاصلے اپنے
کوئی ہم کو مٹائے گا کیسے؟
ہم نے کھینچے ہیں دائرے اپنے
اب بھلے سے بُجھا دو سورج کو
جل اُٹھے ہیں مرے دئیے اپنے
ش زاد
الف عین — دسمبر 6، 2008 11:19 شام
شہرزاد۔۔۔ یہ تم ایک ہی بحر میں کیوں کہتے ہو۔۔۔
غزل تو اچھی ہے لیکن ایک شعر۔۔۔
کوئی ہم کو مٹائے گا کیسے؟
ہم نے کھینچے ہیں دائرے اپنے
اس میں ’اپنے دائرے‘ کس طرح کھینچے جاتے ہیں۔۔
محمد نعمان — دسمبر 7، 2008 4:08 صبح
آپ ہی سے ہیں رابطے اپنے
اتنے محدود سلسلے اپنے
اچھی غزل ہے۔۔۔ شکریہ
ش زاد — دسمبر 7، 2008 12:14 شام
شہرزاد۔۔۔ یہ تم ایک ہی بحر میں کیوں کہتے ہو۔۔۔
غزل تو اچھی ہے لیکن ایک شعر۔۔۔
کوئی ہم کو مٹائے گا کیسے؟
ہم نے کھینچے ہیں دائرے اپنے
اس میں ’اپنے دائرے‘ کس طرح کھینچے جاتے ہیں۔۔
بہت شکریہ اعجاز صاحب میں دانستہ ایسا نہیں کرتا """ایک ہی بحر میں """
ش زاد — دسمبر 7، 2008 12:15 شام
آپ ہی سے ہیں رابطے اپنے
اتنے محدود سلسلے اپنے
اچھی غزل ہے۔۔۔ شکریہ
نوازش نعمان صاحب
محمد وارث — دسمبر 7، 2008 2:46 شام
بہت اچھی غزل ہے شہزاد صاحب!
منزلوں کا نشان تو نہ ملا
مل گئے ہم کو راستے اپنے
لا جواب!
ش زاد — دسمبر 8، 2008 8:49 صبح
بہت اچھی غزل ہے شہزاد صاحب!
منزلوں کا نشان تو نہ ملا
مل گئے ہم کو راستے اپنے
لا جواب!
آداب عرض ہے حضور
مغزل — دسمبر 8، 2008 9:10 صبح
ا س غزل میں شین زاد کہاں ہے ۔۔۔۔۔ ؟؟
محمداحمد — دسمبر 8، 2008 9:19 صبح
اب بھلے سے بُجھا دو سورج کو
جل اُٹھے ہیں مرے دئیے اپنے
بہت خوب، ماشاءاللہ۔
خوش رہیے!
ش زاد — دسمبر 8، 2008 11:03 شام
ش زاد — دسمبر 8، 2008 11:04 شام
اب بھلے سے بُجھا دو سورج کو
جل اُٹھے ہیں مرے دئیے اپنے
بہت خوب، ماشاءاللہ۔
خوش رہیے!
احمد بھائی بہت بہت نوازش


خوشی — دسمبر 8، 2008 11:19 شام
بہت اچھے بھئی بہت اچھے
ش زاد — دسمبر 9، 2008 9:30 شام
ش زاد — فروری 9، 2009 6:06 شام
بے مہر ہونے لگا بامِِِِِِِِِ نظر
تارے آنکھوں سے گرا چاہتے ہیں
چاہتے کُھچھ بھی نہیں ہیں تُم سے
ایک چاہت کی ادا چاہتے ہیں
ش زاد
شیخ یونس — مئی 25، 2016 4:37 شام
خوب