آگہی

محمود احمد غزنوی — ستمبر 10، 2009 10:13 صبح
ایک نظم پیش کر رہا ہوں۔ ۔ ۔ اس میں شائد تھوڑی سی ن-م-راشد کی ایک نظم کی بازگشت سی محسوس ہوتی ہے لیکن خیر۔ ۔ ۔:)
آگہی​
آگہی سے ڈرتی ہو؟ ۔ ۔ ۔
آسماں پہ رہتی ہو۔ ۔ ۔ ۔
اور زمیں سے ڈرتی ہو؟ ۔ ۔ ۔
آگہی تو سورج ہے۔ ۔ ۔ ۔
روشنی سے ڈرتی ہو؟ ۔ ۔ ۔
سوچ پر یہ پہرہ کیوں
ہر نفس ہے گہرا کیوں
چھڑکر وہ سرشاری ۔ ۔ ۔
گرمجوشیاں ساری۔ ۔ ۔
ہو رہی ہو تنہا کیوں؟
یہ تو خود فریبی ہے۔۔۔۔۔۔
اپنے آپ کو جاناں ۔ ۔ ۔
دے رہی ہو دھوکا کیوں
جبکہ تم بھی واقف ہو۔ ۔ ۔
اِس خفی حقیقت سے۔ ۔
زندگی عبارت ہے ۔ ۔ ۔ ۔
زندگی کے جذبوں سے ! ۔ ۔
زندگی کے جذبوں کی۔۔۔۔۔۔
شدّتوں سے ڈرتی ہو؟ ۔ ۔ ۔
چاہتوں کو پا کر بھی
بندھنوں سے ڈرتی ہو۔ ۔ ۔ ۔
آگہی سے ممکن ہے۔ ۔
بندھنوں سے ٹکرانا
شائد اِس لئیے جا ناں۔ ۔ ۔ ۔
آگہی سے ڈرتی ہو !!!۔۔۔۔۔۔۔۔
الف عین — ستمبر 10، 2009 6:09 شام
مکمل درست نظم۔ عروض کے لحاظ سے۔ اور فکر کی پرواز تو تمہارے پاس ہے ہی ماشاء اللہ۔ اچھی نظم ہے۔ اگلے کسی شمارے میں شامل کی جا سکتی سہے ’سمت‘ کے
ایم اے راجا — ستمبر 10، 2009 6:37 شام
بہت خوب لاجواب غزنوی صاحب
زھرا علوی — ستمبر 10، 2009 8:36 شام
آگہی
آگہی سے ڈرتی ہو؟ ۔ ۔ ۔
آسماں پہ رہتی ہو۔ ۔ ۔ ۔
اور زمیں سے ڈرتی ہو؟ ۔ ۔ ۔
آگہی تو سورج ہے۔ ۔ ۔ ۔
روشنی سے ڈرتی ہو؟ ۔ ۔ ۔
سوچ پر یہ پہرہ کیوں
ہر نفس ہے گہرا کیوں
چیھڑکر وہ سرشاری ۔ ۔ ۔
گرمجوشیاں ساری۔ ۔ ۔
ہو رہی ہو تنہا کیوں؟
یہ تو خود فریبی ہے۔۔۔۔۔۔
اپنے آپ کو جاناں ۔ ۔ ۔
دے رہی ہو دھوکا کیوں
جبکہ تم بھی واقف ہو۔ ۔ ۔
اِس خفی حقیقت سے۔ ۔
زندگی عبارت ہے ۔ ۔ ۔ ۔
زندگی کے جذبوں سے ! ۔ ۔
زندگی کے جذبوں کی۔۔۔۔۔۔
شدّتوں سے ڈرتی ہو؟ ۔ ۔ ۔
چاہتوں کو پا کر بھی
بندھنوں سے ڈرتی ہو۔ ۔ ۔ ۔
آگہی سے ممکن ہے۔ ۔
بندھنوں سے ٹکرانا
شائد اِس لئیے جا ناں۔ ۔ ۔ ۔
آگہی سے ڈرتی ہو !!!۔۔۔۔۔۔۔۔

بہت اچھی نظم ہے۔۔۔داد قبول ہو۔۔۔:)
شاہ حسین — ستمبر 10، 2009 9:12 شام
بہت خوب جناب محمود غزنوی صاحب ۔ اچھی نظم ہے
محمود احمد غزنوی — ستمبر 11، 2009 2:37 صبح
آپ سب صاحبان کا اس حوصلہ افزائی کیلئیے بہت بہت مشکور ہوں۔ ۔؛ ۔ شکریہ۔ ۔ ۔ :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%DA%AF%DB%81%DB%8C.25211/