آگہی سو غموں کا اک غم ہے

ظہیراحمدظہیر — اگست 11، 2021 4:48 شام
احبابِ کرام! ایک سہ غزلہ آپ کے ذوق کی نذر ہے ۔ ان میں کچھ اشعار پرانے ہیں اور کچھ تازہ ۔ چند روز پہلے میردرؔد کا ایک شعر دیکھ کر اپنی ایک پرانی غزل یاد آئی اور پھر کچھ تازہ اشعار اس میں اضافہ ہوئے ۔ امید کہ کچھ اشعار آپ کو ضرور پسند آئیں گے ۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف!

٭٭٭
آگہی سو غموں کا اک غم ہے
ایک دل اور ہزار ماتم ہے
جب سے دیکھا ہے چہرۂ ہستی
ہونٹ خاموش ، آنکھ پُر نم ہے
صرف باہر نہیں ہے سناٹا
میرے اندر بھی ہُو کا عالم ہے
لمحہ لمحہ بکھر رہا ہوں میں
عکس کیوں آئنے میں باہم ہے
ہاتھ ملتا ہوں خالی دامن ہوں
حاصلِ عمر دام و درہم ہے
ذہن میں اُگ رہے ہیں اندیشے
پھر نئے فیصلوں کا موسم ہے
٭٭٭
اب کوئی ہم نشیں نہ ہمدم ہے
روز و شب کی بساط برہم ہے
لوگ ملتے ہیں راہ لگتے ہیں
زندگی راستوں کا سنگم ہے
نخلِ خواہش کی ہر کہانی میں
بنتِ حوا ہے ، ابنِ آدم ہے
کیمرا بن گیا ہے آئینہ
آئنوں کا مزاج برہم ہے
رہنما سر فراز ہیں اپنے
سرنگوں ہے تو سبز پرچم ہے
میں وہ پیاسا ہوں جس کی سیرابی
سنگِ اسود ہے آبِ زمزم ہے
٭٭٭
جو بھی تصویر ہے وہ مدھم ہے
یادِ ماضی شکستہ البم ہے
اک ترا نقش ہے فقط جس پر
گردِ وہم و گمان کم کم ہے
یہ مرا زخم کیوں نہیں بھرتا
تم تو کہتے تھے وقت مرہم ہے
تو نہیں ہے تو کون ہے یہ شخص
جو مری ذات میں مجسّم ہے
تیری خوشبو نہیں تو کیا ہے پھر
میرے انفاس میں جو مدغم ہے
تمہیں مجھ سے گلہ نہیں ہے کوئی
تو پھر آنکھوں میں کیسی شبنم ہے
پردہ داری میں تلخیوں کی ظہیؔر
لفظ کمخواب لہجہ ریشم ہے
٭٭٭
ظہیرؔ احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۲۱
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 11، 2021 4:54 شام
آگہی سو غموں کا اک غم ہے
ایک دل اور ہزار ماتم ہے
جب سے دیکھا ہے چہرۂ ہستی
ہونٹ خاموش ، آنکھ پُر نم ہے
صرف باہر نہیں ہے سناٹا
میرے اندر بھی ہُو کا عالم ہے
لمحہ لمحہ بکھر رہا ہوں میں
عکس کیوں آئنے میں باہم ہے
ہاتھ ملتا ہوں خالی دامن ہوں
حاصلِ عمر دام و درہم ہے
ذہن میں اُگ رہے ہیں اندیشے
پھر نئے فیصلوں کا موسم ہے

اب کوئی ہم نشیں نہ ہمدم ہے
روز و شب کی بساط برہم ہے
لوگ ملتے ہیں راہ لگتے ہیں
زندگی راستوں کا سنگم ہے
نخلِ خواہش کی ہر کہانی میں
بنتِ حوا ہے ، ابنِ آدم ہے
کیمرا بن گیا ہے آئینہ
آئنوں کا مزاج برہم ہے
رہنما سر فراز ہیں اپنے
سرنگوں ہے تو سبز پرچم ہے
میں وہ پیاسا ہوں جس کی سیرابی
سنگِ اسود ہے آبِ زمزم ہے

جو بھی تصویر ہے وہ مدھم ہے
یادِ ماضی شکستہ البم ہے
اک ترا نقش ہے فقط جس پر
گردِ وہم و گمان کم کم ہے
یہ مرا زخم کیوں نہیں بھرتا
تم تو کہتے تھے وقت مرہم ہے
تو نہیں ہے تو کون ہے یہ شخص
جو مری ذات میں مجسّم ہے
تیری خوشبو نہیں تو کیا ہے پھر
مرے انفاس میں جو مدغم ہے
تمہیں مجھ سے گلہ نہیں ہے کوئی
تو پھر آنکھوں میں کیسی شبنم ہے
پردہ داری میں تلخیوں کی ظہیؔر
لفظ کمخواب لہجہ ریشم ہے

خوبصورت خوبصورت!!!
ایک سے بڑھ کر ایک!
ہر غزل اور ہر شعر پر داد قبول کیجئے!
مومن فرحین — اگست 11، 2021 5:39 شام
احبابِ کرام! ایک سہ غزلہ آپ کے ذوق کی نذر ہے ۔ ان میں کچھ اشعار پرانے ہیں اور کچھ تازہ ۔ چند روز پہلے میردرؔد کا ایک شعر دیکھ کر اپنی ایک پرانی غزل یاد آئی اور پھر کچھ تازہ اشعار اس میں اضافہ ہوئے ۔ امید کہ کچھ اشعار آپ کو ضرور پسند آئیں گے ۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف!

٭٭٭
آگہی سو غموں کا اک غم ہے
ایک دل اور ہزار ماتم ہے
جب سے دیکھا ہے چہرۂ ہستی
ہونٹ خاموش ، آنکھ پُر نم ہے
صرف باہر نہیں ہے سناٹا
میرے اندر بھی ہُو کا عالم ہے
لمحہ لمحہ بکھر رہا ہوں میں
عکس کیوں آئنے میں باہم ہے
ہاتھ ملتا ہوں خالی دامن ہوں
حاصلِ عمر دام و درہم ہے
ذہن میں اُگ رہے ہیں اندیشے
پھر نئے فیصلوں کا موسم ہے
٭٭٭
اب کوئی ہم نشیں نہ ہمدم ہے
روز و شب کی بساط برہم ہے
لوگ ملتے ہیں راہ لگتے ہیں
زندگی راستوں کا سنگم ہے
نخلِ خواہش کی ہر کہانی میں
بنتِ حوا ہے ، ابنِ آدم ہے
کیمرا بن گیا ہے آئینہ
آئنوں کا مزاج برہم ہے
رہنما سر فراز ہیں اپنے
سرنگوں ہے تو سبز پرچم ہے
میں وہ پیاسا ہوں جس کی سیرابی
سنگِ اسود ہے آبِ زمزم ہے
٭٭٭
جو بھی تصویر ہے وہ مدھم ہے
یادِ ماضی شکستہ البم ہے
اک ترا نقش ہے فقط جس پر
گردِ وہم و گمان کم کم ہے
یہ مرا زخم کیوں نہیں بھرتا
تم تو کہتے تھے وقت مرہم ہے
تو نہیں ہے تو کون ہے یہ شخص
جو مری ذات میں مجسّم ہے
تیری خوشبو نہیں تو کیا ہے پھر
مرے انفاس میں جو مدغم ہے
تمہیں مجھ سے گلہ نہیں ہے کوئی
تو پھر آنکھوں میں کیسی شبنم ہے
پردہ داری میں تلخیوں کی ظہیؔر
لفظ کمخواب لہجہ ریشم ہے
٭٭٭
ظہیرؔ احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۲۱

یہ مرا زخم کیوں نہیں بھرتا
تم تو کہتے تھے وقت مرہم ہے​
روانی میں اپنی مثال آپ ہے یہ شعر ۔۔۔
تمام کلام ہی بہت خوب ہے انکل ۔۔۔۔
محمد تابش صدیقی — اگست 11، 2021 6:01 شام
احبابِ کرام! ایک سہ غزلہ آپ کے ذوق کی نذر ہے ۔ ان میں کچھ اشعار پرانے ہیں اور کچھ تازہ ۔ چند روز پہلے میردرؔد کا ایک شعر دیکھ کر اپنی ایک پرانی غزل یاد آئی اور پھر کچھ تازہ اشعار اس میں اضافہ ہوئے ۔ امید کہ کچھ اشعار آپ کو ضرور پسند آئیں گے ۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف!

٭٭٭
آگہی سو غموں کا اک غم ہے
ایک دل اور ہزار ماتم ہے
جب سے دیکھا ہے چہرۂ ہستی
ہونٹ خاموش ، آنکھ پُر نم ہے
صرف باہر نہیں ہے سناٹا
میرے اندر بھی ہُو کا عالم ہے
لمحہ لمحہ بکھر رہا ہوں میں
عکس کیوں آئنے میں باہم ہے
ہاتھ ملتا ہوں خالی دامن ہوں
حاصلِ عمر دام و درہم ہے
ذہن میں اُگ رہے ہیں اندیشے
پھر نئے فیصلوں کا موسم ہے
٭٭٭
اب کوئی ہم نشیں نہ ہمدم ہے
روز و شب کی بساط برہم ہے
لوگ ملتے ہیں راہ لگتے ہیں
زندگی راستوں کا سنگم ہے
نخلِ خواہش کی ہر کہانی میں
بنتِ حوا ہے ، ابنِ آدم ہے
کیمرا بن گیا ہے آئینہ
آئنوں کا مزاج برہم ہے
رہنما سر فراز ہیں اپنے
سرنگوں ہے تو سبز پرچم ہے
میں وہ پیاسا ہوں جس کی سیرابی
سنگِ اسود ہے آبِ زمزم ہے
٭٭٭
جو بھی تصویر ہے وہ مدھم ہے
یادِ ماضی شکستہ البم ہے
اک ترا نقش ہے فقط جس پر
گردِ وہم و گمان کم کم ہے
یہ مرا زخم کیوں نہیں بھرتا
تم تو کہتے تھے وقت مرہم ہے
تو نہیں ہے تو کون ہے یہ شخص
جو مری ذات میں مجسّم ہے
تیری خوشبو نہیں تو کیا ہے پھر
مرے انفاس میں جو مدغم ہے
تمہیں مجھ سے گلہ نہیں ہے کوئی
تو پھر آنکھوں میں کیسی شبنم ہے
پردہ داری میں تلخیوں کی ظہیؔر
لفظ کمخواب لہجہ ریشم ہے
٭٭٭
ظہیرؔ احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۲۱
لاجواب ظہیر بھائی۔ بہت عمدہ
سید عاطف علی — اگست 11، 2021 6:13 شام
چند روز پہلے میردرؔد کا ایک شعر
شاید یہ غزل کورس میں شامل رہی ہے ۔ کچھ یادوں سے
دل صد چاک ہے لب خنداں
شادی و غم جہاں میں توام ہے
درد کا حال کچھ نہ پوچھو تم
وہ ہی رونا ہے نت وہی غم ہے
سید عاطف علی — اگست 11، 2021 6:14 شام
یہ مرا زخم کیوں نہیں بھرتا
تم تو کہتے تھے وقت مرہم ہے
واہ کمال !
زوجہ اظہر — اگست 11، 2021 6:38 شام
ہمیشہ کی طرح عمدہ اور خوب
یہ مرا زخم کیوں نہیں بھرتا
تم تو کہتے تھے وقت مرہم ہے

جون ایلیا یاد آگئے
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
محمد احسن سمیع راحلؔ — اگست 11، 2021 6:46 شام
اک ترا نقش ہے فقط جس پر
گردِ وہم و گمان کم کم ہے
یہ مرا زخم کیوں نہیں بھرتا
تم تو کہتے تھے وقت مرہم ہے

واہ اور صرف واہ ... بہت اعلی ...
فاخر رضا — اگست 11، 2021 10:40 شام
ہاتھ ملتا ہوں خالی دامن ہوں
حاصلِ عمر دام و درہم ہے

تیری خوشبو نہیں تو کیا ہے پھر
مرے انفاس میں جو مدغم ہے
یہ تو بہت ہی پسند آیا
قرۃالعین اعوان — اگست 11، 2021 11:50 شام
دل میں جذب ہو جانے والے اشعار ہیں۔۔۔
بے حد خوبصورت!!
ظہیراحمدظہیر — اگست 12، 2021 12:33 صبح
خوبصورت خوبصورت!!!
ایک سے بڑھ کر ایک!
ہر غزل اور ہر شعر پر داد قبول کیجئے!
آداب ، آداب ! بہت شکریہ خلیل بھائی !
آپ احباب کا عالی ذوق ہی شعر کی تحریک دیتا ہے ۔ بہت ممنون ہوں ۔
ظہیراحمدظہیر — اگست 12، 2021 12:35 صبح
یہ مرا زخم کیوں نہیں بھرتا
تم تو کہتے تھے وقت مرہم ہے​
روانی میں اپنی مثال آپ ہے یہ شعر ۔۔۔
تمام کلام ہی بہت خوب ہے انکل ۔۔۔۔
نوازش ، بہت شکریہ بیٹا ! اللہ کریم آپ کو خوش رکھے ، شاد و آباد رکھے، ذوق سلامت رکھے!
مجھے خوشی ہوئی کہ آپ کو شعر پسند آیا ۔
ظہیراحمدظہیر — اگست 12، 2021 12:36 صبح
لاجواب ظہیر بھائی۔ بہت عمدہ
نوازش ، بہت شکریہ ! ذرہ نوازی ہے تابش بھائی ۔
اللہ کریم آپ کو خوش رکھے ۔ گرانیِ روز و شب کو ہلکا کرے ۔
ظہیراحمدظہیر — اگست 12، 2021 12:39 صبح
شاید یہ غزل کورس میں شامل رہی ہے ۔ کچھ یادوں سے
دل صد چاک ہے لب خنداں
شادی و غم جہاں میں توام ہے
درد کا حال کچھ نہ پوچھو تم
وہ ہی رونا ہے نت وہی غم ہے
اسی کا ایک شعر آپ نے کیفیت نامے پر بھی لگایا ہوا ہے عاطف بھائی ۔
کیا بات ہے میر دؔرد کی! اردو شاعری میں صوفیانہ طرزِ کلام کو اولین شناخت انہوں نے ہی دی۔

آداب ! بہت شکریہ عاطف بھائی ۔ ذرہ نوازی ہے !
ظہیراحمدظہیر — اگست 12، 2021 12:43 صبح
ہمیشہ کی طرح عمدہ اور خوب
جون ایلیا یاد آگئے
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
بہت نوازش ، کرم نوازی ! بہت شکریہ بیگم اظہر صاحبہ!
اللہ کریم آپ کو خوش رکھے ، ذوق سلامت رکھے!
ظہیراحمدظہیر — اگست 12، 2021 12:46 صبح
واہ اور صرف واہ ... بہت اعلی ...
آداب ، آداب! بڑی نوازش ! بہت شکریہ راحل بھائی !
اس قدر افزائی کے لئے بہت ممنون ہوں ۔
سیروں خون بڑھ جاتا ہے اہلِ سخن کی تحسین سے! اللہ کریم آپ کو سلامت رکھے ، شاد و آباد رکھے!
ظہیراحمدظہیر — اگست 12، 2021 12:47 صبح
یہ تو بہت ہی پسند آیا
بہت بہت شکریہ فاخر بھائی ! بہت ممنون ہوں ۔
اللہ کریم فلاحِ دارین عطا فرمائے ، خوش رکھے !
ظہیراحمدظہیر — اگست 12، 2021 12:50 صبح
دل میں جذب ہو جانے والے اشعار ہیں۔۔۔
بے حد خوبصورت!!
نوازش ، بہت شکریہ خواہرم! اس قدر افزائی کے لئے ممنون ہوں ۔
اللہ کریم آپ کوخوش رکھے ! سدا شاد و آباد رکھے ! آمین ۔
سیما علی — اگست 12، 2021 2:40 صبح
تو نہیں ہے تو کون ہے یہ شخص
جو مری ذات میں مجسّم ہے
تیری خوشبو نہیں تو کیا ہے پھر
میرے انفاس میں جو مدغم ہے
تمہیں مجھ سے گلہ نہیں ہے کوئی
تو پھر آنکھوں میں کیسی شبنم ہے
ظہیر بھا ئی
آپ تو سراپا کمال ہیں ۔۔۔۔
لاجواب کلام پر ڈھیروں داد و تحسین
سلامت رہیے ڈھیر ساری دعائیں ۔۔۔بہت دل چاہتا ہے
کلامِ شاعر بازبانِ شاعر سننے کا مشاعرے میں آپکی کمی شدت سے محسوس ہوئی ۔۔۔۔
جیتے رہیے شاد وآباد رہیے آمین۔
محمد عبدالرؤوف — اگست 12، 2021 2:58 صبح
واہ واہ۔۔۔ بہت خوب۔۔ لا جواب غزلیں
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%DA%AF%DB%81%DB%8C-%D8%B3%D9%88-%D8%BA%D9%85%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DA%A9-%D8%BA%D9%85-%DB%81%DB%92.117182/