اب وقت ہے تاریخ کے صفحات سے نکلو

حسیب احمد حسیب — اکتوبر 31، 2016 7:14 شام
تازہ غزل ...!
سوچو تو ذرا بیٹھ کے جذبات سے نکلو
حالات اگر سخت ہیں حالات سے نکلو ..
کھل جائو کسی روز پہیلی کی طرح تم
نکلو بھی تکلف سے حجابات سے نکلو
آئو کہ کسی دور کی بستی کو چلیں ہم
اس شہر خرابی کے خرابات سے نکلو
کب تک شب تنہائی کے ماتم میں رہو گے
بے درد ہے یہ رات اب اس رات سے نکلو
تم اپنی حقیقت سے ابھی تک نہیں واقف
اس ذات کے قیدی ہو اب اس ذات سے نکلو
ارزاں نہ بنو اتنے بھی کمیاب رہو تم
معیار کو قائم رکھو بہتات سے نکلو
مشکل ہے تمہارے لیے کچھ بھی یہ غلط ہے
یہ بات ہی بے کار ہے اس بات سے نکلو
ماضی کے مزارات میں بھٹکو گے کہاں تک
اب وقت ہے تاریخ کے صفحات سے نکلو
ہر ظلم کو سہنے کی یہ عادت بھی غلط ہے
جرات سے اٹھو، جبر سے ظلمات سے نکلو
حسیب احمد حسیب​
ادب دوست — اکتوبر 31، 2016 8:02 شام
تازہ غزل ...!

سوچو تو ذرا بیٹھ کے جذبات سے نکلو
حالات اگر سخت ہیں حالات سے نکلو ..
کھل جائو کسی روز پہیلی کی طرح تم
نکلو بھی تکلف سے حجابات سے نکلو
آئو کہ کسی دور کی بستی کو چلیں ہم
اس شہر خرابی کے خرابات سے نکلو
کب تک شب تنہائی کے ماتم میں رہو گے
بے درد ہے یہ رات اب اس رات سے نکلو
تم اپنی حقیقت سے ابھی تک نہیں واقف
اس ذات کے قیدی ہو اب اس ذات سے نکلو
ارزاں نہ بنو اتنے بھی کمیاب رہو تم
معیار کو قائم رکھو بہتات سے نکلو
مشکل ہے تمہارے لیے کچھ بھی یہ غلط ہے
یہ بات ہی بے کار ہے اس بات سے نکلو
ماضی کے مزارات میں بھٹکو گے کہاں تک
اب وقت ہے تاریخ کے صفحات سے نکلو
ہر ظلم کو سہنے کی یہ عادت بھی غلط ہے
جرات سے اٹھو، جبر سے ظلمات سے نکلو
حسیب احمد حسیب
پسندیدە
ربیع م — اکتوبر 31، 2016 8:23 شام
تازہ غزل ...!

سوچو تو ذرا بیٹھ کے جذبات سے نکلو
حالات اگر سخت ہیں حالات سے نکلو ..
کھل جائو کسی روز پہیلی کی طرح تم
نکلو بھی تکلف سے حجابات سے نکلو
آئو کہ کسی دور کی بستی کو چلیں ہم
اس شہر خرابی کے خرابات سے نکلو
کب تک شب تنہائی کے ماتم میں رہو گے
بے درد ہے یہ رات اب اس رات سے نکلو
تم اپنی حقیقت سے ابھی تک نہیں واقف
اس ذات کے قیدی ہو اب اس ذات سے نکلو
ارزاں نہ بنو اتنے بھی کمیاب رہو تم
معیار کو قائم رکھو بہتات سے نکلو
مشکل ہے تمہارے لیے کچھ بھی یہ غلط ہے
یہ بات ہی بے کار ہے اس بات سے نکلو
ماضی کے مزارات میں بھٹکو گے کہاں تک
اب وقت ہے تاریخ کے صفحات سے نکلو
ہر ظلم کو سہنے کی یہ عادت بھی غلط ہے
جرات سے اٹھو، جبر سے ظلمات سے نکلو
حسیب احمد حسیب
ہمیشہ کی طرح انتہائی زبردست ماشاءاللہ !
عثمان قادر — نومبر 1، 2016 8:31 صبح
بہت خوب جناب ۔۔۔۔۔
ڈاکٹرعامر شہزاد — نومبر 1، 2016 8:35 صبح
ارزاں نہ بنو اتنے بھی کمیاب رہو تم
معیار کو قائم رکھو بہتات سے نکلو
بہت زبردست۔۔ کمال ۔۔۔ ڈھیروں داد
الف عین — نومبر 1، 2016 5:53 شام
بہت سی داد۔ اچھی غزل ہے ماشاء اللہ
علی امان — نومبر 1، 2016 7:06 شام
ماضی کے مزارات میں بھٹکو گے کہاں تک
اب وقت ہے تاریخ کے صفحات سے نکلو
بہت خوب۔
حسیب احمد حسیب — نومبر 2، 2016 3:18 شام
بہت سی داد۔ اچھی غزل ہے ماشاء اللہ
نوازش استاد من بڑوں کی شفقت ہمیشہ حوصلہ افزاء ہوتی ہے.
محمد تابش صدیقی — نومبر 2، 2016 3:28 شام
بہت عمدہ حسیب بھائی
تم اپنی حقیقت سے ابھی تک نہیں واقف
اس ذات کے قیدی ہو اب اس ذات سے نکلو
اور کیا ہی سچی نصیحت کی ہے.
ارزاں نہ بنو اتنے بھی کمیاب رہو تم
معیار کو قائم رکھو بہتات سے نکلو

مشکل کام کہہ دیا ہے
ماضی کے مزارات میں بھٹکو گے کہاں تک
اب وقت ہے تاریخ کے صفحات سے نکلو

کیا کہنے
ہر ظلم کو سہنے کی یہ عادت بھی غلط ہے
جرات سے اٹھو، جبر سے ظلمات سے نکلو
فاخر رضا — نومبر 2، 2016 4:28 شام
یہ غزل کیسے ہے
محمد تابش صدیقی — نومبر 2، 2016 5:17 شام
کیسے نہیں ہے؟ :)
فاخر رضا — نومبر 2، 2016 5:28 شام
بھئی میں نے تو خیالات کو زبردست کی ریٹنگ دی ہے . مگر آج تک (اپنے مزاج کی وجہ سے ) جس طرح کی غزلیں پڑہی ہیں ، یہ ویسی نہیں ہے . کچھ مختلف ہے . کوئی عشق ، عورت ، عوام ، کوئی بھی عین نہیں ہے . مگر ہے اچھی . پتہ نہیں ، بس جو لگا لکھ دیا . صحیح غلط ویسے بھی کچھ نہیں ہوتا ، اپنا اپنا پرسیپشن ہوتا ہے .
علی امان — نومبر 2، 2016 7:10 شام
بھئی میں نے تو خیالات کو زبردست کی ریٹنگ دی ہے . مگر آج تک (اپنے مزاج کی وجہ سے ) جس طرح کی غزلیں پڑہی ہیں ، یہ ویسی نہیں ہے . کچھ مختلف ہے . کوئی عشق ، عورت ، عوام ، کوئی بھی عین نہیں ہے .
جی ہاں! دراصل غزل کا ایک خاص رنگ، خاص زبان ہے، جس کے بارے میں فن کی کتابوں میں مذکور ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کلام غزل نہیں لیکن یہ کہنا کوئی عیب اور برائی بھی نہیں۔
حسیب احمد حسیب — نومبر 4، 2016 12:48 شام
بھئی میں نے تو خیالات کو زبردست کی ریٹنگ دی ہے . مگر آج تک (اپنے مزاج کی وجہ سے ) جس طرح کی غزلیں پڑہی ہیں ، یہ ویسی نہیں ہے . کچھ مختلف ہے . کوئی عشق ، عورت ، عوام ، کوئی بھی عین نہیں ہے . مگر ہے اچھی . پتہ نہیں ، بس جو لگا لکھ دیا . صحیح غلط ویسے بھی کچھ نہیں ہوتا ، اپنا اپنا پرسیپشن ہوتا ہے .
ویسے اقبال سے لیکر فیض تک ایسی بہت سی غزلیں آپ کو مل جائینگی کہ جن میں جمالیات کی بات نہیں بلکہ فکریات کا بیان ہے ...
فاخر رضا — نومبر 4، 2016 12:54 شام
ویسے اقبال سے لیکر فیض تک ایسی بہت سی غزلیں آپ کو مل جائینگی کہ جن میں جمالیات کی بات نہیں بلکہ فکریات کا بیان ہے ...
تبھی تو کہا اپنے مزاج کے مطابق
فیض کے بارے میں آپ سے مکمل طور پر اتفاق نہیں ، مثلاً ، مجھ پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ ، حالانکہ حالات زمانہ کے متعلق ہے مگر عشق اور محبوب وغیرہ کا ذکر ہے . بلکہ یوں کہوں کہ بہت سے شعراء عشق مجازی سے حقیقی کی طرف جاتے ہیں جبکہ فیض عشق مجازی سے عشق انسانی کی طرف گئے ہیں .
اقبال پر اعتراض کرتے ہوئے پر جلتے ہیں اس لئے نو کمینٹس
حسیب احمد حسیب — نومبر 4، 2016 1:08 شام
تبھی تو کہا اپنے مزاج کے مطابق
فیض کے بارے میں آپ سے مکمل طور پر اتفاق نہیں ، مثلاً ، مجھ پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ ، حالانکہ حالات زمانہ کے متعلق ہے مگر عشق اور محبوب وغیرہ کا ذکر ہے . بلکہ یوں کہوں کہ بہت سے شعراء عشق مجازی سے حقیقی کی طرف جاتے ہیں جبکہ فیض عشق مجازی سے عشق انسانی کی طرف گئے ہیں .
اقبال پر اعتراض کرتے ہوئے پر جلتے ہیں اس لئے نو کمینٹس

انقلابی غزلیں اصناف ادب میں اپنا خاص مقام رکھتی ہیں اب چاہے وہ اقبال ہوں یا فیض یا پھر شاعر انقلاب حبیب جالب ہوں یا احمد فراز اس رنگ کی غزلیں آپ کو متعدد معروف شعراء کے ہاں مل جائینگی ..
لیکن میں اپنی غزل کو انقلابی غزل کی صف میں شمار نہیں کر سکتا کہ اس میں جمالیات کے بھی اشعار ہیں جیسے
کھل جائو کسی روز پہیلی کی طرح تم
نکلو بھی تکلف سے حجابات سے نکلو
اور ہجر کا بھی تذکرہ ہے
کب تک شب تنہائی کے ماتم میں رہو گے
بے درد ہے یہ رات اب اس رات سے نکلو
اور محبوب کے ساتھ خلوت کی بات بھی ہے
آئو کہ کسی دور کی بستی کو چلیں ہم
اس شہر خرابی کے خرابات سے نکلو
گو کہ بحث مقصود نہیں اور آپ کی رائے کا احترام بھی ہے .
فاخر رضا — نومبر 4، 2016 1:16 شام
انقلابی غزلیں اصناف ادب میں اپنا خاص مقام رکھتی ہیں اب چاہے وہ اقبال ہوں یا فیض یا پھر شاعر انقلاب حبیب جالب ہوں یا احمد فراز اس رنگ کی غزلیں آپ کو متعدد معروف شعراء کے ہاں مل جائینگی ..
لیکن میں اپنی غزل کو انقلابی غزل کی صف میں شمار نہیں کر سکتا کہ اس میں جمالیات کے بھی اشعار ہیں جیسے
کھل جائو کسی روز پہیلی کی طرح تم
نکلو بھی تکلف سے حجابات سے نکلو
اور ہجر کا بھی تذکرہ ہے
کب تک شب تنہائی کے ماتم میں رہو گے
بے درد ہے یہ رات اب اس رات سے نکلو
اور محبوب کے ساتھ خلوت کی بات بھی ہے
آئو کہ کسی دور کی بستی کو چلیں ہم
اس شہر خرابی کے خرابات سے نکلو
گو کہ بحث مقصود نہیں اور آپ کی رائے کا احترام بھی ہے .
سر آنکھوں پر . اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%A8-%D9%88%D9%82%D8%AA-%DB%81%DB%92-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE-%DA%A9%DB%92-%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A7%D8%AA-%D8%B3%DB%92-%D9%86%DA%A9%D9%84%D9%88.92792/