اب پانیوں کا ناؤ سے ناطہ نہیں رہا

La Alma — جون 30، 2025 2:54 شام
اب پانیوں کا ناؤ سے ناطہ نہیں رہا
کرنا تھا جس کو پار وہ دریا اتر گیا
منزل نہ راہِ شوق، نہ ہی کوئی رہنما
ہر شخص ابتلائے سفر میں ہے مبتلا
مدت تلک رہا تھا جو مجھ سے گریز پا
اک روز آکے مجھ سے وہ سایہ لپٹ گیا
بنتی ہیں ایک بات سے باتیں کئی ہزار
بنتی ہے جس سے بات، نہ کوئی بنا سکا
مہندی لگے جو ہاتھ پہ، یا زخم ہوں ہرے
چڑھتا نہیں ہے ہر کسی پر رنگ ایک سا
ڈھلتا رہا خیال کسی صورتِ بتاں
اڑتی رہی تھی خاک حقیقت کی جا بجا
المٰیؔ عذابِ ہجر کا کیوں تذکرہ کریں
ذکرِغمِ وصال جب اِس سے بھی ہے سوا
عبدالقیوم چوہدری — جون 30، 2025 3:09 شام
اب پانیوں کا ناؤ سے ناطہ نہیں رہا
کرنا تھا جس کو پار وہ دریا اتر گیا
کیا ہی کمال شعر ہے۔ بہت خوب
مریم افتخار — جون 30، 2025 3:19 شام
مدت تلک رہا تھا جو مجھ سے گریز پا
اک روز آکے مجھ سے وہ سایہ لپٹ گیا
ڈھلتا رہا خیال کسی صورتِ بتاں
اڑتی رہی تھی خاک حقیقت کی جا بجا
المٰیؔ عذابِ ہجر کا کیوں تذکرہ کریں
ذکرِغمِ وصال جب اِس سے بھی ہے سوا
کیا کہنے!
محمد عبدالرؤوف — جون 30، 2025 4:41 شام
اب پانیوں کا ناؤ سے ناطہ نہیں رہا
کرنا تھا جس کو پار وہ دریا اتر گیا
منزل نہ راہِ شوق، نہ ہی کوئی رہنما
ہر شخص ابتلائے سفر میں ہے مبتلا
مدت تلک رہا تھا جو مجھ سے گریز پا
اک روز آکے مجھ سے وہ سایہ لپٹ گیا
بنتی ہیں ایک بات سے باتیں کئی ہزار
بنتی ہے جس سے بات، نہ کوئی بنا سکا
مہندی لگے جو ہاتھ پہ، یا زخم ہوں ہرے
چڑھتا نہیں ہے ہر کسی پر رنگ ایک سا
ڈھلتا رہا خیال کسی صورتِ بتاں
اڑتی رہی تھی خاک حقیقت کی جا بجا
المٰیؔ عذابِ ہجر کا کیوں تذکرہ کریں
ذکرِغمِ وصال جب اِس سے بھی ہے سوا
واہ واہ واہ۔۔۔ زبردست۔
لگتا ہے محفل کی رخصتی کے غم میں یہ واردات ہوئی۔
صابرہ امین — جون 30، 2025 5:00 شام
مقطع بہت اعلی! اچھی غزل ہے،بہت سی داد قبول کیجیے۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — جون 30، 2025 5:07 شام
المٰیؔ عذابِ ہجر کا کیوں تذکرہ کریں
ذکرِغمِ وصال جب اِس سے بھی ہے سوا
بہت عمدہ
بہترین کلام
La Alma — جون 30، 2025 7:37 شام
کیا ہی کمال شعر ہے۔ بہت خوب
آپ کا ذوقِ سخن ہے۔
La Alma — جون 30، 2025 7:38 شام
آداب عرض ہے۔
La Alma — جون 30، 2025 7:40 شام
واہ واہ واہ۔۔۔ زبردست۔
لگتا ہے محفل کی رخصتی کے غم میں یہ واردات ہوئی۔
بہت نوازش ۔
غمِ محفل نے تو نہیں ستایا کیونکہ ابھی تلک تو یہ بزم رواں دواں ہے۔
محفل کے لیے فی الحال منیر نیازی کی نظم سے چند اشعار مستعار:۔
محبت اب نہیں ہو گی
یہ کچھ دن بعد میں ہو گی
گزر جا ئیں گے جب یہ دن
یہ اُن کی یا د میں ہو گی
La Alma — جون 30، 2025 7:41 شام
مقطع بہت اعلی! اچھی غزل ہے،بہت سی داد قبول کیجیے۔
آپکی آمد اور تبصرے کے لیے بہت ممنون ہوں ۔
La Alma — جون 30، 2025 7:42 شام
بہت عمدہ
بہترین کلام
بہت نوازش۔
سیما علی — جون 30، 2025 8:32 شام
اب پانیوں کا ناؤ سے ناطہ نہیں رہا
کرنا تھا جس کو پار وہ دریا اتر گیا
واہ بے حد کمال
سیما علی — جون 30، 2025 8:46 شام
المٰیؔ عذابِ ہجر کا کیوں تذکرہ کریں
ذکرِغمِ وصال جب اِس سے بھی ہے سوا
بہت اعلیٰ
🥰🥰🥰🥰🥰
La Alma — جون 30، 2025 9:31 شام
بہت اعلیٰ
🥰🥰🥰🥰🥰
پذیرائی کے لئے سپاس گزار ہوں ۔ 🌹
سیما علی — جون 30، 2025 9:35 شام
پذیرائی کے لئے سپاس گزار ہوں ۔ 🌹
جیتی رہیے بہت ساری دعائیں ♥️
اے خان — جون 30، 2025 10:10 شام
واہ!
بہت خوب
La Alma — جولائی 1، 2025 8:04 صبح
بہت شکریہ۔
لاريب اخلاص — جولائی 1، 2025 1:18 شام
بہت خوب!
لاريب اخلاص — جولائی 1، 2025 1:19 شام
La Alma
آپ محفل میں کم آتی ہیں یا ہماری غیر حاضریاں زیادہ ہیں!
آتی رہا کریں یقین مانیں آپ کی موجودگی محفل پر اچھی لگتی ہے !
ظفری — جولائی 1، 2025 1:24 شام
اب پانیوں کا ناؤ سے ناطہ نہیں رہا
کرنا تھا جس کو پار وہ دریا اتر گیا
منزل نہ راہِ شوق، نہ ہی کوئی رہنما
ہر شخص ابتلائے سفر میں ہے مبتلا
مدت تلک رہا تھا جو مجھ سے گریز پا
اک روز آکے مجھ سے وہ سایہ لپٹ گیا
بنتی ہیں ایک بات سے باتیں کئی ہزار
بنتی ہے جس سے بات، نہ کوئی بنا سکا
مہندی لگے جو ہاتھ پہ، یا زخم ہوں ہرے
چڑھتا نہیں ہے ہر کسی پر رنگ ایک سا
ڈھلتا رہا خیال کسی صورتِ بتاں
اڑتی رہی تھی خاک حقیقت کی جا بجا
المٰیؔ عذابِ ہجر کا کیوں تذکرہ کریں
ذکرِغمِ وصال جب اِس سے بھی ہے سوا
میری بھی ایک ایسی غزل کہیں کھو گئی تھی ۔ جو مل نہیں رہی ۔
مذاق برطرف ۔ گو کہ غزل ہی ساری اچھی ہے مگر مقطع کمال کا ہے ۔ زبردست ۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%A8-%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D9%86%D8%A7%D8%A4-%D8%B3%DB%92-%D9%86%D8%A7%D8%B7%DB%81-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%B1%DB%81%D8%A7.121671/