اب چھوڑ کے تنہا مجھے بیٹھا ہے کہیں وہ

عظیم — جون 4، 2024 10:51 صبح
السلام علیکم
ایک غزل پیش خدمت ہے، بس تین قافیے ہی ذہن میں آئے اور انہیں سے کوشش کر کے غزل مکمل کی ہے
امید کرتا ہوں کہ کچھ اہمیت کی حامل ہو گی!

اب چھوڑ کے تنہا مجھے بیٹھا ہے کہیں، وہ
لیکن یہ مرا وہم ہے رہتا ہے یہیں وہ
پوچھا جو گیا مجھ سے کہ کیا چاہیے تم کو
میں نے یہ کہا، کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں، وہ!
ہر حال میں رہتا ہے ہمیں یاد وہ پیارا
ایسا تو نہیں بس ہی گیا ہم میں کہیں وہ
پرسش نہ کرے حال کی بیمار کے اپنے
ہاں، دوست کہیں کچھ بھی پہ ایسا تو نہیں وہ
ہے صبر یہ کس میں کہ رہے حشر کو تکتا
اپنی تو دعا یہ ہے کہ مل جائے یہیں وہ
تا عشق میں پھرتا رہے مارا یہاں کوئی
اس بات کی خاطر تو نہیں چھپتا کہیں وہ
اب مجھ میں عظیم اور نہ کچھ رہنے دیا جائے
ہاں، کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں، وہ!
*****

بہت بہت شکریہ
الف عین — جون 6، 2024 10:30 شام
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے بیٹا عظیم
عظیم — جون 7، 2024 10:14 صبح
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے بیٹا عظیم
جزاک اللہ خیر بابا
محمد شکیل خورشید — جون 12، 2024 2:42 شام
واہ، شائد ضرورت بھی پیش نہیں آئی مزید قافیوں کی اتنی روانیِ طبع کے ہوتے ہوئے زبردست
سیما علی — جون 12، 2024 3:04 شام
ہے صبر یہ کس میں کہ رہے حشر کو تکتا
اپنی تو دعا یہ ہے کہ مل جائے یہیں وہ
بہت خوب
عظیم میاں کیا کہنے ۔۔۔
عظیم — جون 13، 2024 9:54 صبح
واہ، شائد ضرورت بھی پیش نہیں آئی مزید قافیوں کی اتنی روانیِ طبع کے ہوتے ہوئے زبردست
بہت شکریہ آپ کا شکیل بھائی بہت بہت شکریہ
بہت خوب
عظیم میاں کیا کہنے ۔۔۔
جزاک اللہ خیر آپا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%A8-%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91-%DA%A9%DB%92-%D8%AA%D9%86%DB%81%D8%A7-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D8%A7-%DB%81%DB%92-%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%88%DB%81.120731/