نوشین فاطمہ عبدالحق — اگست 1، 2015 9:39 شام
اب ہمیں درد دل کی دوا چاہیے
ان کیے ہر گنہ کی سزا چاہیے
کوئی حسرت نہ رہ جائے پھر عشق میں
ہوش ہو یا جنوں , انتہا چاہیے
سارا عرصہ تو گزرا خزاں جھیلتے
پھول کے واسطے اب فضا چاہیے
عشق تو پڑھ لیا مکتب عشق میں
مرشدی اب جنوں کی دعا چاہیے
اک عدو کی حسیں یاد جو ساتھ ہے
زندگی کے لیے اور کیا چاہیے؟
عاشقی کا ہنر جو نہیں جانتے
نوشی ہم کو انہی سے وفا چاہیے۔
اوشو — اگست 1، 2015 9:52 شام
خوب !
ادب دوست — اگست 2، 2015 12:36 صبح
واہ کیا کہنے ، بہت خوب،
یہ شعر خاص طور سے پسند آیا۔
کوئی حسرت نہ رہ جائے پھر عشق میں
ہوش ہو یا جنوں , انتہا چاہیے
الف عین — اگست 2، 2015 2:42 صبح
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ
توصیف یوسف مغل — اگست 2، 2015 3:02 صبح
ماشاءاللہ بہت عمدہ
نور وجدان — اگست 2، 2015 3:37 صبح
اب ہمیں درد دل کی دوا چاہیے
ان کیے ہر گنہ کی سزا چاہیے
کوئی حسرت نہ رہ جائے پھر عشق میں
ہوش ہو یا جنوں , انتہا چاہیے
سارا عرصہ تو گزرا خزاں جھیلتے
پھول کے واسطے اب فضا چاہیے
عشق تو پڑھ لیا مکتب عشق میں
مرشدی اب جنوں کی دعا چاہیے
اک عدو کی حسیں یاد جو ساتھ ہے
زندگی کے لیے اور کیا چاہیے؟
عاشقی کا ہنر جو نہیں جانتے
نوشی ہم کو انہی سے وفا چاہیے۔
ہر شعر اتنا خوبصورت ہے کہ۔ہمیں آپ کی شاعری کی بیاض چاہیے
نوشین فاطمہ عبدالحق — اگست 2، 2015 5:03 صبح
غزل کی پسندیدگی کے لیے تمام احباب کا بےحد شکریہ ۔
دعاؤں کی درخواست ۔

نور- — اگست 2، 2015 7:22 صبح
بہت بہت عمدہ
اسامہ جمشید — اگست 3، 2015 9:28 صبح
واہ بہت خوب
نایاب — اگست 3، 2015 9:38 صبح
واہہہہہہہہہہہ
بلا شبہ بہت خوب غزل ہے ۔۔۔
بہت سی دعاؤں بھری داد
نوشین فاطمہ عبدالحق — اگست 3، 2015 10:12 صبح
واہہہہہہہہہہہ
بلا شبہ بہت خوب غزل ہے ۔۔۔
بہت سی دعاؤں بھری داد
شکراً

کاشف اسرار احمد — اگست 18، 2015 7:17 شام
واہ ۔ کیا کہنے
طبیعت خوب روانی پہ ہے !
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 20، 2015 3:35 صبح
خوبصورت۔خوبصورت