ریحانہ احمد — فروری 9، 2007 3:48 صبح
اتنا سوچ لینا تم ۔۔۔۔۔ ریحانہ احمد جاناں
محبت جب کبھی کرنا
تو اتنا سوچ لینا تم
جسے بھی چاہتےہو تم
سدا عزت اسے دینا
وگرنہ چند لمحوں میں
محبت چھوڑ جاتی ہے
صدائیں عمر بھر بھی دو
وہ مڑ کر نہیں تکتی
بھلا کیوں ایسا ہوتا ہے؟؟؟؟؟؟
کہ مردے آنکھیں رکھتے ہیں
مگر کھولا نہیں کرتے
پکارو لاکھ ان کو تم
صدائیں تو وہ سنتے ہیں
لب لھولا نہیں کرتے
محبت جب کبھی کرنا
تو اتنا سوچ لینا تم
محبت مر بھی سکتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر عباس — فروری 9، 2007 4:01 صبح
محفل پر خوش آمدید ریحانہ صاحبہ
شمشاد — فروری 9، 2007 4:13 صبح
ریحانہ احمد، ماشاء اللہ بہت خوبصورت نظم ہے۔
اللہ کرئے زورِ قلم اور زیادہ۔
ٕمیں آپ کو محفل میں خوش آمدید کہتا ہوں۔
آپ ذرا “ تعارف“ کے زمرے میں آ کر اپنا تعارف تو دیں۔
شمشاد — فروری 9، 2007 4:16 صبح
یہ تو میں نے اب دیکھا ہے کہ آپ تو اس محفل کی بہت پرانی رکن ہیں، آپ نے تو اس محفل کو جھولنے میں جھولتے دیکھا تھا لیکن آپ خود سے کہاں تھیں؟
عمر سیف — فروری 9، 2007 7:42 صبح
عمدہ بہت خوب۔
قیصرانی — فروری 9، 2007 8:59 صبح
عمدہ نظم ہے ریحانہ صاحبہ، محفل پر خوش آمدید
الف عین — فروری 9، 2007 11:29 صبح
ریحانہ احمد اچھی شاعرہ اور ماہیانگار ہیں۔ جب یہ رکن بنی تھیں تو ایک نظم پوسٹ کی تھی جو میں نے سمت کے پہلے شمارے میں شائع کی تھی جب وہ بلاگ زین تھا بلاگ سپاٹ پر۔ محترمہ اردو دنیا ڈاٹ نیٹ (سرور بھائ۔ سرور عالم راز) کے تصویری جریدے (اسے میں اردو جریدہ نہیں کہہ سکتا) کی مدیرہ بھی ہیں۔ اگع چہ میں اب تک اس جریدے کو دیکھ ہی نہیں سکا۔ اس کی فہرست تک لوڈ ہونے میں دس پندرہ منٹ لیتی ہے میرے پاس۔
ریحانہ۔ آپ کی نظم سمت کے اگلے شمارے، نسائی اور تانیثی ادب میںشامل ہو گی انشاءاللہ
امن ایمان — اپریل 10، 2007 12:54 شام
اعجاز چاء یہ ریحانہ احمد۔۔۔ریحانہ احمد قمر ہیں یا کوئی اور ہیں۔۔۔؟؟؟
الف عین — اپریل 11، 2007 6:05 صبح
امن ایمان نے کہا:
اعجاز چاء یہ ریحانہ احمد۔۔۔ریحانہ احمد قمر ہیں یا کوئی اور ہیں۔۔۔؟؟؟
امن یہ کبھی کبھی اپنے اسی نام سے لکھتی ہیں اور کبھی کبھی ریحانہ احمد جاناں کے نام سے۔
ہما — جون 23، 2007 3:19 صبح
ریحانہ احمد نے کہا:
اتنا سوچ لینا تم ۔۔۔۔۔ ریحانہ احمد جاناں
محبت جب کبھی کرنا
تو اتنا سوچ لینا تم
جسے بھی چاہتےہو تم
سدا عزت اسے دینا
وگرنہ چند لمحوں میں
محبت چھوڑ جاتی ہے
صدائیں عمر بھر بھی دو
وہ مڑ کر نہیں تکتی
بھلا کیوں ایسا ہوتا ہے؟؟؟؟؟؟
کہ مردے آنکھیں رکھتے ہیں
مگر کھولا نہیں کرتے
پکارو لاکھ ان کو تم
صدائیں تو وہ سنتے ہیں
لب لھولا نہیں کرتے
محبت جب کبھی کرنا
تو اتنا سوچ لینا تم
محبت مر بھی سکتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت خوب صاحبہ ! آپ نے بُہت اچھی نظم لکھی ،شکریہ خوش رہیئے !
شمشاد — جون 23، 2007 3:44 صبح
ہما بہت عرصہ بعد محفل میں آنا ہوا آپ کا۔
ہما — جون 23، 2007 3:46 صبح
شمشاد نے کہا:
ہما بہت عرصہ بعد محفل میں آنا ہوا آپ کا۔
جی شمشاد صاحب! کُچھ ذاتی مسائل رہے اس لئے نہیں آ پائی ۔۔مگر انشاءاللہ ۔۔۔اب آنا جانا رہے گا۔۔بشرطِ زندگی

و صحت!
شمشاد — جون 23، 2007 3:53 صبح
مجھے بہت خوشی ہو گی اگر آپ باقاعدگی سے محفل میں آئیں گی۔
ہما — جون 23، 2007 3:59 صبح
مُجھے بھی خوشی ہے اِس بات سے ۔۔! شکریہ!