احساس

یاسر شاہ — جولائی 20، 2025 7:29 صبح
احساس
تم نے کبھی محسوس کیا ہے
یاں کتنی خاموش فضا ہے
فضا کی اپنی ہے خاموشی
خاموشی کی اپنی فضا ہے
فضا ہے اک دریائے ساکن
ساکن رہ جائے تو خلا ہے
ہم نے جب بھی منھ کھولا ہے
دریا میں پتھر پھینکا ہے
جمود میں ہلچل سی مچی ہے
سکوت میں اک شور اٹھا ہے
موجیں اٹھ کر چل نکلی ہیں
چال سے ان کی یوں لگتا ہے
جس کا پتا انھیں خود نہیں معلوم
شوق انھیں اس منزل کا ہے
خاموشی کی ہے اپنی لذت
شور کا بھی اپنا ہی مزہ ہے
جمود میں ہے نشاط لیکن
ہلچل کا اک لطف جدا ہے
ہلچل بھی ہے جس کی طالب
شور اسی کو ڈھونڈ رہا ہے
رواں دواں ہیں رواں دواں ہیں
دونوں کا حاصل جانے کیا ہے
لفظ کی بس دو ہی قسمیں ہیں
یہ مہمل ہے یا کلمہ ہے
گوش نہیں تو کلمہ مہمل
گوش ملے تو مہمل کلمہ ہے
مریم افتخار — جولائی 20، 2025 7:45 صبح
واہ، کیا خوب کہا ہے!
یاسر شاہ — جولائی 20، 2025 10:58 صبح
واہ، کیا خوب کہا ہے!
جزاک الله خیر -
محمد عبدالرؤوف — جولائی 20، 2025 11:16 صبح
بہت اچھی نظم ہے
یاسر شاہ — جولائی 20، 2025 11:47 صبح
جزاک الله خیر
سیما علی — جولائی 20، 2025 12:03 شام
بہت خوبصورت نظم ۔
یاسر شاہ — جولائی 20، 2025 12:31 شام
جزاک الله خیر
صریر — جولائی 20، 2025 3:23 شام
بہت خوبصورت الفاظ و خیالات! ♥️

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3.121781/