ادا کر کے۔

رشید حسرت — فروری 9، 2021 10:08 صبح
ادا کر کے۔
یاد پھینکی ھے دُور اُٹھا کر کے
تنگ کرتی ہے تھی پاس آ کر کے
پِھر سے کھونا کریں گوارا کیوں
"تُجھ کو مانگا بہت دُعا کر کے"
آخری قرض ہے بِچھڑ جانا
لوٹ جائیں گے کل ادا کر کے
کوئی مُدّت سے اِنتظار میں ہے
دیکھ آنا اُسے بھی جا کر کے
قِیمتی چِیز ہے جفا یارو
ہم نے پائی، بہت وفا کر کے
ہم نے چاہت کی چاہ کی، رکھ دی
موت ہتھیلی پہ اُس نے لا کر کے
ایک حسرتؔ پہ ہی نہیں موقُوف
خلق بیٹھی ہے دل فِدا کر کے۔
رشید حسرت۔
محمداحمد — فروری 9، 2021 10:11 صبح
عمدہ اشعار ہیں ماشاء اللہ!
آخری قرض ہے بِچھڑ جانا
لوٹ جائیں گے کل ادا کر کے
کوئی مُدّت سے اِنتظار میں ہے
دیکھ آنا اُسے بھی جا کر کے
قِیمتی چِیز ہے جفا یارو
ہم نے پائی، بہت وفا کر کے
ہم نے چاہت کی چاہ کی، رکھ دی
موت ہتھیلی پہ اُس نے لا کر کے
ایک حسرتؔ پہ ہی نہیں موقُوف
خلق بیٹھی ہے دل فِدا کر کے۔

داد قبول فرمائیے!
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 9، 2021 11:07 صبح
قِیمتی چِیز ہے جفا یارو
ہم نے پائی، بہت وفا کر کے
واہ!!!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%AF%D8%A7-%DA%A9%D8%B1-%DA%A9%DB%92%DB%94.115066/