اداسی شام کی دل کے دریچے میں اتر آئی

نمرہ — فروری 15، 2019 12:13 شام
اداسی شام کی دل کے دریچے میں اتر آئی
کسی کا یاد آنا تھا کہ اپنی آنکھ بھر آئی
ملی منزل تیقن کی اگرچہ ایک دنیا کو
ہمارے بخت میں اک جستجو کی رہگزر آئی
شب فرقت سر بالیں بہت ہنگامہ اٹھتا تھا
مرے اٹھنے کی نے ان کے اترنے کی خبر آئی
کہاں تو اس خرابے میں قدم دھرنے سے خائف تھی
کہاں دل میں دبے پاؤں محبت سر بسر آئی
مزاج زندگی کی زلف کیا عکاس تھی، یعنی
وہی پیچیدہ تر نکلی کہ جو سادا نظر آئی
وہی صورت کہ اک مدت سے معتوب زمانہ تھی
کسی کے دل کے آئینے میں دیکھی تو نکھر آئی
یہ گنتی کے ستاروں کی ضیا پہلے نہ تھی ایسی
معیت میں کسی کی ماہ سے رخشندہ تر آئی
بنی دشت تمنا میں وہ زنجیر اپنے پاؤں کی
اگر امید اپنی اتفاقا کوئی بر آئی
لگی جب روح پر اک پیکر خاکی کی پابندی
مکان و لامکاں میں پھر وہاں تفریق در آئی
محمد عدنان اکبری نقیبی — فروری 15، 2019 12:17 شام
اداسی شام کی دل کے دریچے میں اتر آئی
کسی کا یاد آنا تھا کہ اپنی آنکھ بھر آئی
ملی منزل تیقن کی اگرچہ ایک دنیا کو
ہمارے بخت میں اک جستجو کی رہگزر آئی
شب فرقت سر بالیں بہت ہنگامہ اٹھتا تھا
مرے اٹھنے کی نے ان کے اترنے کی خبر آئی
کہاں تو اس خرابے میں قدم دھرنے سے خائف تھی
کہاں دل میں دبے پاؤں محبت سر بسر آئی
مزاج زندگی کی زلف کیا عکاس تھی، یعنی
وہی پیچیدہ تر نکلی کہ جو سادا نظر آئی
وہی صورت کہ اک مدت سے معتوب زمانہ تھی
کسی کے دل کے آئینے میں دیکھی تو نکھر آئی
یہ گنتی کے ستاروں کی ضیا پہلے نہ تھی ایسی
معیت میں کسی کی ماہ سے رخشندہ تر آئی
بنی دشت تمنا میں وہ زنجیر اپنے پاؤں کی
اگر امید اپنی اتفاقا کوئی بر آئی
لگی جب روح پر اک پیکر خاکی کی پابندی
مکان و لامکاں میں پھر وہاں تفریق در آئی
ماشاءاللہ ،
بہت بہت عمدہ اور لاجواب غزل ۔
یہ شعر تو بہت شاندار ہے ،
کہاں تو اس خرابے میں قدم دھرنے سے خائف تھی
کہاں دل میں دبے پاؤں محبت سر بسر آئی
نمرہ — فروری 15، 2019 12:19 شام
ماشاءاللہ ،
بہت بہت عمدہ اور لاجواب غزل ۔
یہ شعر تو بہت شاندار ہے ،
شکریہ :)
الف عین — فروری 16، 2019 4:56 صبح
اچھی غزل ہے ماشاءاللہ
فرحان محمد خان — فروری 16، 2019 5:05 صبح
ملی منزل تیقن کی اگرچہ ایک دنیا کو
ہمارے بخت میں اک جستجو کی رہگزر آئی
واہ واہ بہت خوب
محمد تابش صدیقی — فروری 16، 2019 5:09 صبح
بہت عمدہ۔ کیا خوب اشعار ہیں۔
ملی منزل تیقن کی اگرچہ ایک دنیا کو
ہمارے بخت میں اک جستجو کی رہگزر آئی

مزاج زندگی کی زلف کیا عکاس تھی، یعنی
وہی پیچیدہ تر نکلی کہ جو سادا نظر آئی

بنی دشت تمنا میں وہ زنجیر اپنے پاؤں کی
اگر امید اپنی اتفاقا کوئی بر آئی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D9%84-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D8%B1%DB%8C%DA%86%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%AA%D8%B1-%D8%A2%D8%A6%DB%8C.105535/