ساقی اور صہبا کی مناسبت سے تو واضح ہے کہ جہان کو میخانے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ آرزو کے تلازمات ساقی کے" دست"، یعنی دینے والا ہاتھ اور "صہبا" یعنی تکمیلِ آرزو کی صورت تو بہرحال موجود ہیں۔
بھئی ایسا ظلم مت کیجئے ۔ یہ تو ہمیں یہاں سے بھگانے والی باتیں ہیں ۔



تشبیہ اور استعارہ کا فرق ملحوظ رکھئے ۔ تشبیہ تو اس شعر میں آپ نےاستعمال نہیں کی۔ تشبیہ کے لئے تو مشبہّ اور مشبہّ بہ دونوں کا شعر میں موجود ہونا ضروری ہے ۔ اور تشبیہ کی درستی کے لئے شرط ہے کہ کوئی معقول وجہ تشبیہ بھی موجود ہو ۔ یہ تمام عناصر ہی اس شعر میں مفقود ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ آپ یہ کہہ سکتی ہیں کہ آپ نے اس جہان کو میخانے کے لئے بطور استعارہ استعمال کیا ہے ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میخانہ کو جہان کس وجہ سے کہا جارہاہے ؟ جس طرح تشبیہ کے لئے وجہِ تشبیہ کا ہونا ضروری ہے اسی طرح استعارے کے لئے وجہ جامع یا وجہ استعارہ کا ہونا ضروری ہے ۔ مستعارلہ اور مستعارمنہ میں مشترک صفات وخصوصیات کی بنا پر ہی استعارہ قائم ہوتا ہے ۔ مثلاً غم کو آگ کہنا ، محبوب کو پھو ل کہنا ، ظلم کو تیرگی یا رات کہنا وغیرہ ۔ ان میں وجہ استعارہ صاف ظاہر ہے ۔ لیکن میخانہ کو جہان کہنے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی ۔
دو لختی کو بھی گہرائی میں سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ دو لخت مطلع میں ہر مصرع اپنی جگہ مفہوم اور مطلب میں مکمل ہوتا ہے ۔ یعنی ہر مصرع ایک پوری بات بیان کرتا ہے ۔ لیکن جب دونوں مصرعوں کو ملا کر پڑھا جائے تو دونوں باتیں آپس میں غیر متعلق ہوتی ہیں یعنی ایک مصرع سے دوسرے مصرع میں ذہنی چھلانگ لگانے کے لئے کوئی لفظی یا معنوی ربط موجود نہیں ہوتا ۔ مزید وضاحت کے لئے یہ مطلع دیکھئے ۔ اس میں پہلا مصرع آپ کا ہے اور دوسرا میں نے گھڑ کر لگایاہے ۔
اس جہانِ آرزو میں اور کیا کیا دیکھئے
دستِ گلچیں دیکھئے یا رنگِ لالہ دیکھئے
تو کیا اب وہ تمام تاویلات جو آپ نے میخانہ اور جہانِ آرزو کے حوالے سے بیان کی ہیں وہ میں گلستان کے حوالے سے بیان کرسکتا ہوں ؟!

۔ یہ شعر دولخت ہے ۔ لیکن:
گل ستانِ آرزو میں اور کیا کیا دیکھئے
دستِ گلچیں دیکھئے یا رنگِ لالہ دیکھئے
اب مصرعے مربوط اور شعر بامعنی ہوگیا ۔ اب اس کی تمام تاویلات درست ہوجائیں گی۔ شعر کے مطلب کو قاری کے ذہن پر چھوڑنے کے لئے بھی اسے کچھ رہنما اشارے تو دینا ضروری ہوتے ہیں ۔ ورنہ پھرمعنی فی بطن الشاعر والا معاملہ ہوجاتا ہے ۔

میخانہء آرزو سے شعریت دوچند ہو جاتی، لیکن کیا کریں لاکھ کوشش کے باوجود اسے بحر و بر (غزل کی بحر اور زمین ) ہی نہیں قبول کر رہے۔
اگر آپ کرنا چاہیں تو اس شعر میں میخانہ کے بجائے میکدہ موزوں ہوسکتا ہے ۔ میکدے میں آرزو کے وغیرہ وغیرہ ۔
( ویسے بحر و بر اچھا کہا ہے !

)
لیکن اب مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ ترکیب ناقص ہے۔ اگر قابلِ قبول نہیں تو کوئی اور متبادل دیکھتی ہوں۔ اس بارے میں آپ اور دیگر احباب کیا کہتے ہیں؟
میں اس بارے میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ ہنگامِ دنیا کی ترکیب بے معنی ہے ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے میں کہوں ’’وقتِ دنیا دیکھئے‘‘ ۔ یہ بالکل مجہول ہے ۔ آپ ہنگامِ دنیا کے بجائے اندازِ دنیا وغیرہ رکھ سکتی ہیں ۔
رنگِ عالم دیکھیے! اندازِ دنیا دیکھیے!
بیٹھ کر چپ چاپ یوں ہی بس تماشا دیکھیے