اس جہاں میں ایسی کوئی بات ہو

محمد وارث — جون 14، 2007 6:59 شام
محترم اراکینِ محفل، آپکی بزم میں اپنی ایک غزل پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں امید ہے اپنی رائے سے نوازیں گے۔ میں کوئی باقاعدہ شاعر تو نہیں، بس یونہی کبھی کبھی ۔۔۔۔
عرض کیا ہے۔۔۔۔
اس جہاں میں ایسی کوئی بات ہو
جیت ہو اور نا کسی کی مات ہو
بس ہوس کے ہیں یہ سارے سلسلے
بابری مسجد ہو یا سُمنات ہو
دے بدل ہر زاویہ وہ دفعتاً
کُل نفی کے ساتھ جو اثبات ہو
زخم دل کے چین سے رہنے نہ دیں
روزِ روشن ہو کہ کالی رات ہو
اسطرح پینے کو مے کب ملتی ہے
ناب ہو، تُو ساتھ ہو، برسات ہو
دام دیکھے ہیں وہاں اکثر بچھے
جس جگہ پر دانے کی بہتات ہو
برملا گوئی کا حاصل ہے اسد
اپنوں کی نظروں میں بھی کم ذات ہو
ماوراء — جولائی 3، 2007 12:51 صبح
بہت خوب وارث۔۔۔!!!
محمد وارث — جولائی 3، 2007 9:18 صبح
ؓبہت شکریہ ماوراء آپ کا، نوازش
نبیل — جولائی 3، 2007 11:13 صبح
بہت خوب وارث صاحب، آپ نے تو بے قاعدہ شاعر ہو کر بھی نہایت قاعدے کے ساتھ شاعری کی ہے۔ :p
اعجاز — جولائی 3، 2007 11:46 صبح
اتنی بڑی بڑی باتوں‌ والی شاعری ۔۔ ہممممم
اچھی لگی :)
محمد وارث — جولائی 3، 2007 12:27 شام
نبیل نے کہا:
بہت خوب وارث صاحب، آپ نے تو بے قاعدہ شاعر ہو کر بھی نہایت قاعدے کے ساتھ شاعری کی ہے۔ :p

ذرہ نوازی کیلیے بہت شکریہ نبیل صاحب آپ کا، نوازش
قیصرانی — جولائی 3، 2007 3:07 شام
اچھی کاوش ہے۔ جاری رکھیئے گا
محمد وارث — جولائی 3، 2007 6:18 شام
اعجاز نے کہا:
اتنی بڑی بڑی باتوں‌ والی شاعری ۔۔ ہممممم
اچھی لگی :)

اعجاز صاحب آپ کی پسندیدگی کیلیے بہت شکریہ۔ جناب میں تو یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ چھوٹا منہ اور بڑی بات۔ نوازش آپکی۔
محمد وارث — جولائی 3، 2007 6:22 شام
قیصرانی نے کہا:
اچھی کاوش ہے۔ جاری رکھیئے گا

قیصرانی صاحب بہت شکریہ آپ کا، آپکی پسندیدگی کیلیے اور آپکی پر خلوص تاکید کیلیے بھی، نوازش۔
محب علوی — جولائی 3، 2007 6:30 شام
آخر قتیل غالب نے شاعر ہونے کا ثبوت دے ہی دیا :)
جاری رکھیں وارث
محمد وارث — جولائی 3، 2007 6:42 شام
محب علوی نے کہا:
آخر قتیل غالب نے شاعر ہونے کا ثبوت دے ہی دیا :)
جاری رکھیں وارث

علوی صاحب بہت شکریہ آپ کا۔ نوازش۔
محمد بلال اعظم — جولائی 27، 2012 3:30 شام
بہت خوب وارث بھائی،
آپ کی تو پہلی غزل ہی لا جواب نکلی۔
یہ کلی کیا کیا گُل کھلائے گی، کسے کیا معلوم:)
(یہ جو مصرع اوپر لکھا ہے آپ کی تعریف کے حوالے سے،اگر برا نہ مانیں تو یہ بتا دیں کہ کیا یہ بحر میں ہے)
کاشف اکرم وارثی — جولائی 27، 2012 4:33 شام
لاجواب ۔ جناب
نایاب — جولائی 27، 2012 6:30 شام
واہہہہہہہہہہہہ
کیا کہہ دیا ظالم
بس ہوس کے ہیں یہ سارے سلسلے
بابری مسجد ہو یا سُمنات ہو
دے بدل ہر زاویہ وہ دفعتاً
کُل نفی کے ساتھ جو اثبات ہو
مزمل شیخ بسمل — جولائی 27، 2012 8:19 شام
بہت خوب وارث بھائی،
آپ کی تو پہلی غزل ہی لا جواب نکلی۔
یہ کلی کیا کیا گُل کھلائے گی، کسے کیا معلوم:)
(یہ جو مصرع اوپر لکھا ہے آپ کی تعریف کے حوالے سے،اگر برا نہ مانیں تو یہ بتا دیں کہ کیا یہ بحر میں ہے)

جی یہ بحر نہیں بحور کا بحر سمندر ہے :D
مزمل شیخ بسمل — جولائی 27، 2012 8:24 شام
ویسے غزل کا اک اک شعر لا جواب ہے محمد وارث بھائی
شاکرالقادری — جولائی 27، 2012 8:45 شام
ویسے غزل کا اک اک شعر لا جواب ہے محمد وارث بھائی
بہت خوب وارث بھائی! ویسے عروضی ہونے کے ناطے مجھے آپ سے اتنی سست اور دھیلی بندشوں کی توقع نہ تھی تاہم پہلی کاوش کے طور پر داد نہ دینا بھی بخل ہوگا
مزمل شیخ بسمل — جولائی 27، 2012 8:53 شام
بہت خوب وارث بھائی! ویسے عروضی ہونے کے ناطے مجھے آپ سے اتنی سست اور دھیلی بندشوں کی توقع نہ تھی تاہم پہلی کاوش کے طور پر داد نہ دینا بھی بخل ہوگا

حضرت چند ایک جگہ محسوس تو ہوا لیکن مجموعی غزل توجہ کا مرکز تھی۔
اور یہ بھی کہ وارث بھائی کی پانچ سال پرانی کاوش۔ اور مجھ جیسے مبتدی کے مقابلے میں تو عمدہ ترین ہی ہوئی۔
قرۃالعین اعوان — جولائی 27، 2012 9:32 شام
خوب کہا آپ نے!
محمد بلال اعظم — جولائی 28، 2012 6:29 صبح
جی یہ بحر نہیں بحور کا بحر سمندر ہے :D

مطلب مبہم ہے:D
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3-%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%DB%81%D9%88.6979/