اس خاک سےجو ربطِ وفا کاٹ رہے ہیں

ظہیراحمدظہیر — جنوری 9، 2016 7:15 صبح
اس خاک سےجو ربطِ وفا کاٹ رہے ہیں
پرواز کی خواہش میں سزا کاٹ رہے ہیں
اس روزِخوش آثار کی سچائی تو یہ ہے
اک رات سر ِدشتِ بلا کاٹ رہے ہیں
حبس اتنا ہے سینے میں کہ لگتا ہے مسلسل
ہم سانس کے آرے سے ہوا کاٹ رہے ہیں
بیکار کہاں بیٹھے ہیں مصروف ہیں ہم لوگ
ہم اپنی صداؤں کا گلا کاٹ رہے ہیں
خیاطِ قلم بر سر ِ بازارِ صحافت
پوشاک کو قامت سے بڑا کاٹ رہے ہیں
ہر روز بدل دیتےہیں دیوار پہ تحریر
خود اپنے ہی ہاتھوں کا لکھا کاٹ رہے ہیں
ٹکراتے ہیں موجوں کی طرح سنگِ ستم سے
ہر روز چٹانوں کو ذرا کاٹ رہے ہیں
ظہیراحمدظہیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۰۹
ٹیگ: سید عاطف علی کاشف اختر فاتح محمد تابش صدیقی
محمداحمد — جنوری 9، 2016 7:18 صبح
سبحان اللہ ۔ سبحان اللہ۔
کیا ہی اچھی غزل ہے۔
حبس اتنا ہے سینے میں کہ لگتا ہے مسلسل
ہم سانس کے آرے سے ہوا کاٹ رہے ہیں

بیکار کہاں بیٹھے ہیں مصروف ہیں ہم لوگ
ہم اپنی صداؤں کا گلا کاٹ رہے ہیں

خیاطِ قلم بر سر ِ بازارِ صحافت
پوشاک کو قامت سے بڑا کاٹ رہے ہیں

ہر روز بدل دیتےہیں دیوار پہ تحریر
خود اپنے ہی ہاتھوں کا لکھا کاٹ رہے ہیں

واہ۔۔۔۔!
ڈھیروں داد۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 9، 2016 7:22 صبح
واہ وا ظہیر بھائی، کیا خوب غزل کہی ہے۔
اس خاک سےجو ربطِ وفا کاٹ رہے ہیں
پرواز کی خواہش میں سزا کاٹ رہے ہیں

بیکار کہاں بیٹھے ہیں مصروف ہیں ہم لوگ
ہم اپنی صداؤں کا گلا کاٹ رہے ہیں

خیاطِ قلم بر سر ِ بازارِ صحافت
پوشاک کو قامت سے بڑا کاٹ رہے ہیں

ہر روز بدل دیتےہیں دیوار پہ تحریر
خود اپنے ہی ہاتھوں کا لکھا کاٹ رہے ہیں

ٹکراتے ہیں موجوں کی طرح سنگِ ستم سے
ہر روز چٹانوں کو ذرا کاٹ رہے ہیں
کیا خوب انداز ہے
سید اسد معروف — جنوری 9، 2016 7:35 صبح
بہت خوب
بلکہ بہت بہت بہت خوب۔۔
محمد بلال اعظم — جنوری 9، 2016 7:42 صبح
سبحان اللہ
سبحان اللہ
کس قدر منفرد انداز اور کس خوبصورتی سے ردیف کا استعمال کیا گیا ہے۔
لا جواب
تمام اشعار اپنی مثال آپ ہیں۔
بہت سی داد

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3-%D8%AE%D8%A7%DA%A9-%D8%B3%DB%92%D8%AC%D9%88-%D8%B1%D8%A8%D8%B7%D9%90-%D9%88%D9%81%D8%A7-%DA%A9%D8%A7%D9%B9-%D8%B1%DB%81%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA.87037/