اس قدر ڈر گئے کچھ شورشِ ایام سے لوگ

ظہیراحمدظہیر — جنوری 5، 2023 5:37 شام
احبابِ کرام ، ایک سال اور قصۂ پارینہ ہوا ۔ کتابِ ماضی کی ضخامت کچھ اور سوا ہوئی ۔ آگے دیکھنے والے آگے کی طرف نئے سال کو دیکھ رہے ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ماضی پر نظر ڈالے بغیر مستقبل کا راستہ نہیں کھلتا۔ آگے کی طرف رہنمائی نہیں ہوتی۔ یہ ایک پرانی غزل ماضی میں جھانکنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ اشعار ایامِ حاضر کا شکوہ نہیں بلکہ ایامِ گزشتہ کا شکریہ ہے۔

***
اس قدر ڈر گئے کچھ شورشِ ایام سے لوگ
اب تو بس گھر سے نکلتے ہیں کسی کام سے لوگ
اک زمانہ تھا کہ خوش باش نظر آتے تھے
ہر طرف جادۂ دیروز پہ خوش گام سے لوگ
شاملِ قال تھا اک حرفِ تشکّر دن رات
مشکلوں میں بھی گزر کرتے تھے آرام سے لوگ
ہر طرف سکۂ اخلاص و وفا رائج تھا
سب کو ملتے تھے برابر کئی انعام سے لوگ
شاملِ حال بہر حال رہا کرتے تھے
مل کے لڑتے تھے کبھی گردشِ ایام سے لوگ
سچ کہا کرتے تھے خائف نہ تھے آئینوں سے
کم ڈرا کرتے تھے اندیشۂ انجام سے لوگ
اک تبسم پہ ہوا کرتے تھے سودے دل کے
دستِ الفت پہ بِکا کرتے تھے بے دام سے لوگ
آنکھ میں شرم تھی اور دل میں حیا ہوتی تھی
خود نمائی سے بہت دور تھے زر فام سے لوگ
سرخیِ رنگِ حیا پر تھی وفا کی شبنم
تروتازہ نظر آتے تھے گل اندام سے لوگ
۔ق۔
ملنے والوں سے ترے ہم نے بھی مل کر دیکھا
بس وہی عام سی باتیں ہیں وہی عام سے لوگ
جانے کیوں تم کو عزیز اس قدر آخر ہیں ظہیرؔ
ٹوٹے پھوٹے سے ، یہ مجبور سے ، ناکام سے لوگ
***
ظہیرؔاحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2020​
محمد تابش صدیقی — جنوری 5، 2023 6:25 شام
احبابِ کرام ، ایک سال اور قصۂ پارینہ ہوا ۔ کتابِ ماضی کی ضخامت کچھ اور سوا ہوئی ۔ آگے دیکھنے والے آگے کی طرف نئے سال کو دیکھ رہے ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ماضی پر نظر ڈالے بغیر مستقبل کا راستہ نہیں کھلتا۔ آگے کی طرف رہنمائی نہیں ہوتی۔ یہ ایک پرانی غزل ماضی میں جھانکنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ اشعار ایامِ حاضر کا شکوہ نہیں بلکہ ایامِ گزشتہ کا شکریہ ہے۔

***
اس قدر ڈر گئے کچھ شورشِ ایام سے لوگ
اب تو بس گھر سے نکلتے ہیں کسی کام سے لوگ
اک زمانہ تھا کہ خوش باش نظر آتے تھے
ہر طرف جادۂ دیروز پہ خوش گام سے لوگ
شاملِ قال تھا اک حرفِ تشکّر دن رات
مشکلوں میں بھی گزر کرتے تھے آرام سے لوگ
ہر طرف سکۂ اخلاص و وفا رائج تھا
سب کو ملتے تھے برابر کئی انعام سے لوگ
شاملِ حال بہر حال رہا کرتے تھے
مل کے لڑتے تھے کبھی گردشِ ایام سے لوگ
سچ کہا کرتے تھے خائف نہ تھے آئینوں سے
کم ڈرا کرتے تھے اندیشۂ انجام سے لوگ
اک تبسم پہ ہوا کرتے تھے سودے دل کے
دستِ الفت پہ بِکا کرتے تھے بے دام سے لوگ
آنکھ میں شرم تھی اور دل میں حیا ہوتی تھی
خود نمائی سے بہت دور تھے زر فام سے لوگ
سرخیِ رنگِ حیا پر تھی وفا کی شبنم
تروتازہ نظر آتے تھے گل اندام سے لوگ
۔ق۔
ملنے والوں سے ترے ہم نے بھی مل کر دیکھا
بس وہی عام سی باتیں ہیں وہی عام سے لوگ
جانے کیوں تم کو عزیز اس قدر آخر ہیں ظہیرؔ
ٹوٹے پھوٹے سے ، یہ مجبور سے ، ناکام سے لوگ
***
ظہیرؔاحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2020​
بہت اعلیٰ ظہیر بھائی
عبید انصاری — جنوری 5، 2023 7:29 شام
واہ،بہت اعلیٰ، مقطع نے تو چیر کے رکھ دیا بھائی۔ زبردست
محمد عبدالرؤوف — جنوری 5، 2023 8:03 شام
بہت خوب ماشاءاللہ
لگتا ہے نین بھائی کی نثر نے آپ کو یہ غزل یاد کرا دی۔ 🙂
محمد وارث — جنوری 6، 2023 5:20 صبح
عمدہ غزل ہے ظہیر صاحب، کیا کہنے۔
ہر طرف جادۂ دیروز پہ خوش گام سے لوگ، واہ کیا اچھا کہا ہے۔ اور یہ شعر تو بہت پسند آیا:
اک تبسم پہ ہوا کرتے تھے سودے دل کے
دستِ الفت پہ بِکا کرتے تھے بے دام سے لوگ
لاجواب!
عرفان علوی — جنوری 7، 2023 6:28 شام
احبابِ کرام ، ایک سال اور قصۂ پارینہ ہوا ۔ کتابِ ماضی کی ضخامت کچھ اور سوا ہوئی ۔ آگے دیکھنے والے آگے کی طرف نئے سال کو دیکھ رہے ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ماضی پر نظر ڈالے بغیر مستقبل کا راستہ نہیں کھلتا۔ آگے کی طرف رہنمائی نہیں ہوتی۔ یہ ایک پرانی غزل ماضی میں جھانکنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ اشعار ایامِ حاضر کا شکوہ نہیں بلکہ ایامِ گزشتہ کا شکریہ ہے۔

***
اس قدر ڈر گئے کچھ شورشِ ایام سے لوگ
اب تو بس گھر سے نکلتے ہیں کسی کام سے لوگ
اک زمانہ تھا کہ خوش باش نظر آتے تھے
ہر طرف جادۂ دیروز پہ خوش گام سے لوگ
شاملِ قال تھا اک حرفِ تشکّر دن رات
مشکلوں میں بھی گزر کرتے تھے آرام سے لوگ
ہر طرف سکۂ اخلاص و وفا رائج تھا
سب کو ملتے تھے برابر کئی انعام سے لوگ
شاملِ حال بہر حال رہا کرتے تھے
مل کے لڑتے تھے کبھی گردشِ ایام سے لوگ
سچ کہا کرتے تھے خائف نہ تھے آئینوں سے
کم ڈرا کرتے تھے اندیشۂ انجام سے لوگ
اک تبسم پہ ہوا کرتے تھے سودے دل کے
دستِ الفت پہ بِکا کرتے تھے بے دام سے لوگ
آنکھ میں شرم تھی اور دل میں حیا ہوتی تھی
خود نمائی سے بہت دور تھے زر فام سے لوگ
سرخیِ رنگِ حیا پر تھی وفا کی شبنم
تروتازہ نظر آتے تھے گل اندام سے لوگ
۔ق۔
ملنے والوں سے ترے ہم نے بھی مل کر دیکھا
بس وہی عام سی باتیں ہیں وہی عام سے لوگ
جانے کیوں تم کو عزیز اس قدر آخر ہیں ظہیرؔ
ٹوٹے پھوٹے سے ، یہ مجبور سے ، ناکام سے لوگ
***
ظہیرؔاحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2020​
واہ ، ظہیر بھائی . بہت خوب ! نہایت اعلیٰ غزل ہے . داد قبول فرمائیے .
یاسر شاہ — جنوری 8، 2023 9:57 صبح
اس قدر ڈر گئے کچھ شورشِ ایام سے لوگ
اب تو بس گھر سے نکلتے ہیں کسی کام سے لوگ

اک زمانہ تھا کہ خوش باش نظر آتے تھے
ہر طرف جادۂ دیروز پہ خوش گام سے لوگ

اک تبسم پہ ہوا کرتے تھے سودے دل کے
دستِ الفت پہ بِکا کرتے تھے بے دام سے لوگ

آنکھ میں شرم تھی اور دل میں حیا ہوتی تھی
خود نمائی سے بہت دور تھے زر فام سے لوگ

سرخیِ رنگِ حیا پر تھی وفا کی شبنم
تروتازہ نظر آتے تھے گل اندام سے لوگ
۔ق۔
ملنے والوں سے ترے ہم نے بھی مل کر دیکھا
بس وہی عام سی باتیں ہیں وہی عام سے لوگ
جانے کیوں تم کو عزیز اس قدر آخر ہیں ظہیرؔ
ٹوٹے پھوٹے سے ، یہ مجبور سے ، ناکام سے لوگ
واہ کیا ہی عمدہ اشعار ہیں ،لطف آگیا پڑھ کر -
سچ کہا کرتے تھے خائف نہ تھے آئینوں سے
کم ڈرا کرتے تھے اندیشۂ انجام سے لوگ
یہ بھی خوب ہے -آئینے اور آئین کی جمع کو ایک کردیا -
ہر طرف سکۂ اخلاص و وفا رائج تھا
سب کو ملتے تھے برابر کئی انعام سے لوگ
الله تعالیٰ جزائے خیر دے، قرآن یاد دلا دیا -
اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّؕ
-
ایک خوبصورت غزل پہ داد اور دعائیں قبول فرمائیے -اللہ جل شانہ آپ کو ہمیشہ عافیت سے رکھے -آمین
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 8، 2023 11:19 صبح
اس قدر ڈر گئے کچھ شورشِ ایام سے لوگ
اب تو بس گھر سے نکلتے ہیں کسی کام سے لوگ
اپنا شہر یاد آگیا :(
ملنے والوں سے ترے ہم نے بھی مل کر دیکھا
بس وہی عام سی باتیں ہیں وہی عام سے لوگ
جانے کیوں تم کو عزیز اس قدر آخر ہیں ظہیرؔ
ٹوٹے پھوٹے سے ، یہ مجبور سے ، ناکام سے لوگ
آہا!!! کیا کہنے!!! دبرر :)
محمد عدنان اکبری نقیبی — جنوری 8، 2023 1:02 شام
جانے کیوں تم کو عزیز اس قدر آخر ہیں ظہیرؔ
ٹوٹے پھوٹے سے ، یہ مجبور سے ، ناکام سے لوگ
ماشاءاللّٰه
بھیا ہم بلا اجازت یہ خوبصورت شعر اپنے نام کرتے ہیں۔
مکمل غزل تمام محفلین کے نام۔
صابرہ امین — جنوری 8، 2023 2:28 شام
لفظ لفظ موتیوں کی طرح خوبصورت اور قیمتی ۔ ماشا اللہ!
خوبصورت اشعار سے مزین غزل ۔ بہت ساری داد قبول کیجیے۔
رشک کچھ کچھ حسد میں بدلتا جا رہا ہے۔ اللہ خیر کرے۔ یعنی ہماری خیر ۔ :grin:
نیرنگ خیال — جنوری 9، 2023 2:39 شام
بہت خوب ماشاءاللہ
لگتا ہے نین بھائی کی نثر نے آپ کو یہ غزل یاد کرا دی۔ 🙂
اس غزل میں بھی میرا تذکرہ کر دیا ہے ظہیراحمدظہیر بھائی نے۔۔۔ دوسرے مصرعے میں دیکھے تو میرے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں
ملنے والوں سے ترے ہم نے بھی مل کر دیکھا
بس وہی عام سی باتیں ہیں وہی عام سے لوگ
نیرنگ خیال — جنوری 9، 2023 2:41 شام
بہت ہی عمدہ اور اعلی غزل ہے ظہیر بھائی۔۔۔ شاندار۔۔۔ ماشاءاللہ۔۔۔ نئے دنوں پر پرانے دنوں کا شکریہ بہت خوب لکھا آپ نے۔۔۔۔ ماشاءاللہ۔۔۔ اور ایسا لکھا کہ نئے دنوں کا نوحہ بھی بیاں ہوگیا۔۔۔ الہم زد فزد
اک تبسم پہ ہوا کرتے تھے سودے دل کے
دستِ الفت پہ بِکا کرتے تھے بے دام سے لوگ

ملنے والوں سے ترے ہم نے بھی مل کر دیکھا
بس وہی عام سی باتیں ہیں وہی عام سے لوگ

یہ دو اشعار حد سے سوا پسند آئے۔۔۔ کیسے سندر ہیں۔۔۔ اعلی
ظہیراحمدظہیر — جنوری 10، 2023 3:17 صبح
بہت اعلیٰ ظہیر بھائی
بہت شکریہ ، بہت نوازش!
آپ بزمِ سخن سے غیر حاضر ہیں آجکل ، تابش بھائی ۔ کیفیت نامے میں ایک شعر لگانے سے کام نہیں چلے گا۔
کرکٹ کھاگئی سخن داں کیسے کیسے
:grin:
ظہیراحمدظہیر — جنوری 10، 2023 3:20 صبح
واہ،بہت اعلیٰ، مقطع نے تو چیر کے رکھ دیا بھائی۔ زبردست
بہت شکریہ ، ذرہ نوازی ہے ، عبید بھائی ! اس غزل کے آخری دو اشعار میں احوالِ واقعی ہے ۔ اللّٰہ سب دوست احباب کو سلامت رکھے ۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 10، 2023 3:22 صبح
بہت خوب ماشاءاللہ
لگتا ہے نین بھائی کی نثر نے آپ کو یہ غزل یاد کرا دی۔ 🙂
نوازش ، بہت شکریہ ۔ ممنون ہوں بھائی ۔ ادبی بیٹھکوں اور محفلوں میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔ ایک قلمکار کی تحریر دوسرے کے لیے تحریک بنتی ہے۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 10، 2023 3:24 صبح
عمدہ غزل ہے ظہیر صاحب، کیا کہنے۔
ہر طرف جادۂ دیروز پہ خوش گام سے لوگ، واہ کیا اچھا کہا ہے۔ اور یہ شعر تو بہت پسند آیا:
اک تبسم پہ ہوا کرتے تھے سودے دل کے
دستِ الفت پہ بِکا کرتے تھے بے دام سے لوگ
لاجواب!
بہت نوازش ، جناب وارث ! سراسر ذرہ نوازی ہے آپ کی۔ اللّٰہ آپ کو سلامت رکھے ۔ شاد و آباد رہیں ۔ حرفِ خام کو یونہی اعتبار بخشتے رہیں ۔ بہت شکریہ!
ظہیراحمدظہیر — جنوری 10، 2023 3:27 صبح
واہ کیا ہی عمدہ اشعار ہیں ،لطف آگیا پڑھ کر -
یہ بھی خوب ہے -آئینے اور آئین کی جمع کو ایک کردیا -
الله تعالیٰ جزائے خیر دے، قرآن یاد دلا دیا -
اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّؕ
-
ایک خوبصورت غزل پہ داد اور دعائیں قبول فرمائیے -اللہ جل شانہ آپ کو ہمیشہ عافیت سے رکھے -آمین
بہت شکریہ ، بہت نوازش ! اللّٰہ کریم آپ کو خوش رکھے ۔
اِنعام کا سن کر اَنعام کی آیت کا یاد آجانا بھی بندے پر اللّٰہ کی عنایت ہے ۔ اللّٰہ کریم ہم سب کو قرآن سے جوڑ دے۔ آمین
ظہیراحمدظہیر — جنوری 10، 2023 3:29 صبح
مری حیرتوں کا روما
مری حسرتوں کی دلّی
یہی دے تو دے گواہی
یہ مرا بلدۂ کراچی
آہا!!! کیا کہنے!!! دبرر :)
:):):)
ظہیراحمدظہیر — جنوری 10، 2023 3:33 صبح
جانے کیوں تم کو عزیز اس قدر آخر ہیں ظہیرؔ
ٹوٹے پھوٹے سے ، یہ مجبور سے ، ناکام سے لوگ
ماشاءاللّٰه
بھیا ہم بلا اجازت یہ خوبصورت شعر اپنے نام کرتے ہیں۔
مکمل غزل تمام محفلین کے نام۔
بالکل ، بیشک! یہ شعر آپ ہی کا ہے اور آپ ہی کے لیے ہے ، معان بھائی ۔
بیشک آپ بہت محبتی آدمی ہیں ۔ آپ میرے پسندیدہ ترین محفلین میں سے ہیں ۔ اللّٰہ کریم آپ کو سلامت رکھے ، شاد و آباد رکھے ، دین و دنیا کی فلاح نصیب فرمائے ۔ ہر قدم آسانیاں عطا فرمائے۔ آمین
ظہیراحمدظہیر — جنوری 10، 2023 3:39 صبح
لفظ لفظ موتیوں کی طرح خوبصورت اور قیمتی ۔ ماشا اللہ!
خوبصورت اشعار سے مزین غزل ۔ بہت ساری داد قبول کیجیے۔
رشک کچھ کچھ حسد میں بدلتا جا رہا ہے۔ اللہ خیر کرے۔ یعنی ہماری خیر ۔ :grin:
بہت شکریہ ، بہت نوازش ، خواہر صابرہ! اللّٰہ آپ کو خوش رکھے، ذوق سلامت رکھے۔
جب حسد پوری طرح ہوجائے تو مطلع فرمائیے گا ۔ ناک سے تین انچ دور تیز مرچوں کی دُھونی دینے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ دھواں دھوں دُھونی کے لیے ہیاں ہُواں دیکھنے کے بجائے اس خاکسار کو حکم دیجے گا ۔
صفحات: 1 2 3 4

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3-%D9%82%D8%AF%D8%B1-%DA%88%D8%B1-%DA%AF%D8%A6%DB%92-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%B4%D9%88%D8%B1%D8%B4%D9%90-%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D9%85-%D8%B3%DB%92-%D9%84%D9%88%DA%AF.119168/