اس نے کیا تھا مجھ سے بس یہ سوال فاتح ۔ فاتح

فاتح — فروری 14، 2017 3:44 شام
مدتوں بعد ایک تازہ غزل ہوئی ہے۔۔۔ آپ احباب کی خدمت میں پیش ہے:
اس نے کیا تھا مجھ سے بس یہ سوال فاتح
کیوں عشق بن گیا ہے جاں کا وبال فاتح
اس عہد کی علامت کیا کیا کمال فاتح
امن و امان پسپا جنگ و جدال فاتح
لیلائے فکر اس کے خیمے میں رقص زن ہے
مفتوح ذہن میرا، اس کا خیال فاتح
بابِ الست مجھ پر اتنا ہی کھل سکا ہے
میں مملکت ہوں تیری، تُو لازوال فاتح
گردن میں اس کی ہیرے خاموش چیختے ہیں
غربت شکست خوردہ، مال و منال فاتح
اب اجڑے بام و در ہیں شہکار پینٹنگ کا
کیسا شکوہ کیسا جاہ و جلال فاتح
سب تند و تیز لہریں جذبوں کی جم گئی ہیں
دریا نے اوڑھ لی ہے برفیلی شال فاتح
برسوں کے بعد اس کا پیغام آ گیا ہے
تقویمِ ہجرتی میں ٹھہرا یہ سال فاتح
پھرتا ہے گو قلندر تہذیب کی گلی میں
باغی روایتوں کا، منکر مثال فاتح
فاتح الدین فاتح​
ڈاکٹرعامر شہزاد — فروری 14، 2017 3:56 شام
لیلائے فکر اس کے خیمے میں رقص زن ہے
مفتوح ذہن میرا، اس کا خیال فاتح

بابِ الست مجھ پر اتنا ہی کھل سکا ہے
میں مملکت ہوں تیری، تُو لازوال فاتح
گردن میں اس کی ہیرے خاموش چیختے ہیں
غربت شکست خوردہ، مال و منال فاتح

پھرتا ہے گو قلندر تہذیب کی گلی میں
باغی روایتوں کا، منکر مثال فاتح
کمال اور لاجواب ۔۔ بہت ہی زبردست ۔۔
فاتح سر ڈھیروں داد ۔ اتنی پیاری اور اعلیٰ تخلیق کے لیے
محمد تابش صدیقی — فروری 14، 2017 4:16 شام
واہ واہ. فاتح بھائی لاجواب غزل ہے.
خاص طور پر یہ اشعار تو بہت پسند آئے.
اس عہد کی علامت کیا کیا کمال فاتح
امن و امان پسپا جنگ و جدال فاتح
تلخ حقیقت.
لیلائے فکر اس کے خیمے میں رقص زن ہے
مفتوح ذہن میرا، اس کا خیال فاتح
آہا
بابِ الست مجھ پر اتنا ہی کھل سکا ہے
میں مملکت ہوں تیری، تُو لازوال فاتح
سبحان اللہ
شہکار پینٹنگ کا اب اجڑے بام و در ہیں
کیسا شکوہ کیسا جاہ و جلال فاتح
بہت خوب، منفرد خیال ہے.
ڈھیروں داد اس خوبصورت غزل کے لیے. :)
ظہیر عباس ورک — فروری 14، 2017 4:41 شام
ماشاء اللہ فاتح بھائی! بہت عمدہ۔
بابِ الست مجھ پر اتنا ہی کھل سکا ہے
میں مملکت ہوں تیری، تُو لازوال فاتح
لا جواب!
راحیل فاروق — فروری 14، 2017 4:58 شام
لیلائے فکر اس کے خیمے میں رقص زن ہے
مفتوح ذہن میرا، اس کا خیال فاتح
ماشاء اللہ، بھائی۔ ڈھیروں داد! :):):)
یوسف سلطان — فروری 14، 2017 5:12 شام
اس عہد کی علامت کیا کیا کمال فاتح
امن و امان پسپا جنگ و جدال فاتح
بابِ الست مجھ پر اتنا ہی کھل سکا ہے
میں مملکت ہوں تیری، تُو لازوال فاتح
بہت عمدہ
آورکزئی — فروری 14، 2017 5:13 شام
ڈیر زبردست جناب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاز — فروری 14، 2017 7:10 شام
لیلائے فکر اس کے خیمے میں رقص زن ہے
مفتوح ذہن میرا، اس کا خیال فاتح
بہت ہی خوب جناب۔ زبردست
شہکار پینٹنگ کا اب اجڑے بام و در ہیں
اس مصرعے میں "کا" کے استعمال نے کچھ کنفیوژن سی پیدا کی ہے۔(یا شاید مجھے ہی لگ رہی ہے)
اگرچہ وزن گر جائے گا، لیکن "کا" کے بغیر شاید معنویت بہتر ہو۔
فاتح — فروری 14، 2017 7:22 شام
اس مصرعے میں "کا" کے استعمال نے کچھ کنفیوژن سی پیدا کی ہے۔(یا شاید مجھے ہی لگ رہی ہے)
اگرچہ وزن گر جائے گا، لیکن "کا" کے بغیر شاید معنویت بہتر ہو۔
اسے نثر کر کے پڑھیے:
اجڑے ہوئے بام و در اب پینٹنگ کا شہکار ہیں
یاز — فروری 14، 2017 7:46 شام
اسے نثر کر کے پڑھیے:
اجڑے ہوئے بام و در اب پینٹنگ کا شہکار ہیں
بغیر "اب" کے سابقہ جاہ و جلال اور شکوہ کا تذکرہ بے معنی ہو گا۔
اوہ اچھا۔ اب سمجھا
ایسے میں ہم ایک عدد سکتہ کی شمولیت کا مشورہ دیں گے۔
شہکار پینٹنگ کا، اب اجڑے بام و در ہیں
پی ایس: دراصل حروفِ علت کے استعمال میں ہم کافی حد تک سائیکو مشہور ہیں۔ ہمارا خود بھی اپنے بارے میں یہی خیال ہے۔
Eats Shoots and Leaves کے مطالعہ کے بعد اس رجحانِ طبعی میں مزید اضافہ ہوا۔
اس کتاب کا تعارف بھی کسی زمانے میں لکھا تھا۔
Eats Shoots and Leaves
فاتح — فروری 14، 2017 7:51 شام
اوہ اچھا۔ اب سمجھا
ایسے میں ہم ایک عدد سکتہ کی شمولیت کا مشورہ دیں گے۔
شہکار پینٹنگ کا، اب اجڑے بام و در ہیں
پی ایس: دراصل حروفِ علت کے استعمال میں ہم کافی حد تک سائیکو مشہور ہیں۔ ہمارا خود بھی اپنے بارے میں یہی خیال ہے۔
Eats Shoots and Leaves کے مطالعہ کے بعد اس رجحانِ طبعی میں مزید اضافہ ہوا۔
اس کتاب کا تعارف بھی کسی زمانے میں لکھا تھا۔
Eats Shoots and Leaves
شکریہ، ہم نے آپ کے کہنےپر سکتہ کیا، مصرع کے دونوں ٹکڑوں کو ہی الٹ دیا۔
اب اجڑے بام و در ہیں شہکار پینٹنگ کا
نثر سے قریب تر ہو گیا ہے اور تفہیم شاید بہتر ہو رہی ہے یوں۔ بہت شکریہ توجہ دلانے کا
La Alma — فروری 14، 2017 7:57 شام
عمدہ کاوش ہے .
لیلائے فکر اس کے خیمے میں رقص زن ہے
مفتوح ذہن میرا، اس کا خیال فاتح
لاجواب .
برسوں کے بعد اس کا پیغام آ گیا ہے
تقویمِ ہجرتی میں ٹھہرا یہ سال فاتح
یہاں ہجرتی ، " ہجر " سے متعلق ہے یا " ہجرت" سے ؟
فاتح — فروری 14، 2017 8:09 شام
عمدہ کاوش ہے .
لاجواب .
کاوش کی حوصلہ افزائی پر شکریہ۔۔۔ شاید کسی روز انہی کاوشوں کے باعث کچھ بہتر لکھنے کے قابل ہو ہی جاؤں
یہاں ہجرتی ، " ہجر " سے متعلق ہے یا " ہجرت" سے ؟
دونوں ممکن ہیں۔۔۔ کھلا چھوڑ دیا ہے۔۔۔ قاری کی صوابدید پر ہے۔۔۔
ایک شعر دیکھیے گا:
اس ہجرتی کو کام ہوا ہے کہ رات دن
بس وہ چراغ اور وہ دیوار دیکھنا
محمد وارث — فروری 15، 2017 3:29 صبح
خوبصورت غزل ہے فاتح صاحب، کیا کہنے!
فہد اشرف — فروری 15، 2017 3:49 صبح
بہت عمدہ غزل ہے، زبردست
مطلع بہت پہلے پڑھا تھا اور کئی بار پوری غزل بھی تلاش کی تھی، اب پتہ چلا کیوں نہیں ملی تھی۔
آوازِ دوست — فروری 15، 2017 4:41 صبح
سُبحان اللہ !!! فاتح صاحب بہت خوب آپ کی شاعری سے پرفیوم کی بجائے عطر کی خوشبو آ رہی ہے :)
الف عین — فروری 15، 2017 5:13 صبح
واہ واہ۔ کیا غزل ہے۔ ’سمت‘ کے اگلے شمارے کے لیے منتخب
سید عاطف علی — فروری 15، 2017 5:14 صبح
پھر کردیا ہے تم نے کیسا کمال فاتح۔
خوب جمود توڑا ہے فاتح بھائی ۔اب طبع رواں رکھیے گا۔
محمداحمد — فروری 15، 2017 9:28 صبح
واہ واہ واہ۔۔۔۔!
بہت خوبصورت غزل ہے فاتح بھائی!
بہت عمدہ اشعار ہیں۔ !
فاتح — فروری 15، 2017 3:57 شام
کمال اور لاجواب ۔۔ بہت ہی زبردست ۔۔
فاتح سر ڈھیروں داد ۔ اتنی پیاری اور اعلیٰ تخلیق کے لیے
بہت شکریہ۔ آپ کی محبتیں ہیں ڈاکٹر صاحب
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3-%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%D9%85%D8%AC%DA%BE-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%D8%B3-%DB%8C%DB%81-%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD.94831/