اس کا چہرہ۔ میری غزل

عمار ابن ضیا — اگست 13، 2007 8:39 صبح
سلامِ مسنون!
مجھ نالائق کی ایک غزل نذرِ قارئین ہے۔ ذوق پر گراں گزرے تو معذرت۔:)

اس کا چہرہ گلاب جیسا ہے
وہ حقیقت میں خواب جیسا ہے
گو کہ مٹی کا ہے بدن لیکن
دیکھنے میں وہ آب جیسا ہے
وہ جو ہے، ویسا دیکھنے میں نہیں
ہاں وہ ایسا سراب جیسا ہے
اس نے نظروں سے کیا پلایا ہے؟
ذائقہ تو شراب جیسا ہے
مجھ پہ کیوں برہمی ہے اے عمار!
میرا لہجہ جناب جیسا ہے​
فاتح — اگست 13، 2007 8:48 صبح
سبحان اللہ عمّار صاحب! اچھا لکھا ہے۔
وہ جو ہے، ویسا دیکھنے میں نہیں
ہاں وہ ایسا سراب جیسا ہے
اس نے نظروں سے کیا پلایا ہے؟
ذائقہ تو شراب جیسا ہے​
عمار ابن ضیا — اگست 13، 2007 8:56 صبح
شکریہ فاتح صاحب۔۔۔
ویسے کیا آپ کو کسی نے میری تعریف کرنے کے مشن پر بھیجا ہوا ہے؟؟؟;)
محمد وارث — اگست 27، 2007 9:34 صبح
واہ واہ، سبحان اللہ، عمار صاحب کیا خوب غزل ارشاد فرمائی ہے۔ اور معذرت خواہ ہوں کہ بہت دیر سے اس پر نظر پڑی۔
اس نے نظروں سے کیا پلایا ہے؟
ذائقہ تو شراب جیسا ہے
بہت خوب۔
عمار ابن ضیا — اگست 27، 2007 10:41 صبح
بہت شکریہ جناب والا۔۔۔۔!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3-%DA%A9%D8%A7-%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%81%DB%94-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84.7953/