اس کو بھی میری طرح نیند کدھر آتی ہے
رات بھر روشنی کھڑکی سے نظر آتی ہے
بے خیالی میں جو دیوار پہ رک جائے نظر
بات کرتی ہوئی تصویر ابھر آتی ہے
کوٹ کی جیب میں کھل جاتے ہیں رومال کے رنگ
اس کے کالر پہ کلی خوب نکھر آتی ہے
مجھ کو آتا ہے کسی دل کے سلگنے کا خیال
جب شرر اڑتے ہیں جب آگ نظر آتی ہے
دیپ جلتے ہی سلگ اٹھتی ہیں یادیں تیری
پھر اداسی بھی لگائے ہوئے پر آتی ہے
کون چپ چاپ در آیا ہے نظر میں نیناں
میں تو سنتی تھی دبے پاؤں سحر آتی ہے
فرزانہ نیناں
رات بھر روشنی کھڑکی سے نظر آتی ہے
بے خیالی میں جو دیوار پہ رک جائے نظر
بات کرتی ہوئی تصویر ابھر آتی ہے
کوٹ کی جیب میں کھل جاتے ہیں رومال کے رنگ
اس کے کالر پہ کلی خوب نکھر آتی ہے
مجھ کو آتا ہے کسی دل کے سلگنے کا خیال
جب شرر اڑتے ہیں جب آگ نظر آتی ہے
دیپ جلتے ہی سلگ اٹھتی ہیں یادیں تیری
پھر اداسی بھی لگائے ہوئے پر آتی ہے
کون چپ چاپ در آیا ہے نظر میں نیناں
میں تو سنتی تھی دبے پاؤں سحر آتی ہے
فرزانہ نیناں
